مسرت عالم :اسیری کہ ختم نہ ہوئی

masratعدالت عالیہ کی طرف سے رہائی کے احکامات پانے کے فوراً بعد پولیس نے ایک مرتبہ پھر سینئر حریت لیڈر اورمسلم لیگ چیئر مین مسرت عالم بٹ کودوبارہ گرفتار کرلیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ انہیں منگل کی شام کو کورٹ بلوال جیل جموں کے احاطے سے ہی دوبارہ گرفتارکرلیاگیا جہاں وہ مقید تھے۔یاد رہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران یہ دوسرا موقعہ ہے جب عدالت کی طرف سے ان پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ کالعدم قرار دئے جانے کے تناظر میں انہیں رہائی کے بعد پھر سے حراست میں لیا گیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ریاست میں امن عامہ کیلئے مسلسل ایک خطرہ ہیں۔ذرائع کا مزید کہا ہے کہ مسرت کے خلاف ایک تازہ ڈوزئر تیار کیا جارہا ہے اور یہ بالکل طے ہے کہ اْن (مسرت عالم)پر ایک اور پبلک سیفٹی ایکٹ(پی ایس اے)عائد کیا جارہا ہے۔ مسرت عالم کیخلاف عائد پبلک سیفٹی ایکٹ عدالت عالیہ نے منگل کو کالعدم قرار دیا تھا۔اس سے قبل 21اگست کو عدالت عالیہ نے بٹ پر عائد پی ایس اے کالعدم قرار دیا تھا۔یہ30واں موقع ہے جب ہائی کورٹ نے اْن پر عائد پی ایس اے کو کالعدم قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ مسرت عالم کو رواں برس17اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا۔مسلم لیگ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ کورٹ آرڈر کی کاپی منگل کی شب جوں ہی کورٹ بلوال جیل حکام تک پہنچائی گئی تو انہوں نے مزاحمتی قائد کو رہا کیا تاہم پولیس کی ایک بھاری جمعیت نے جیل احاطے میں ہی مسرت عالم کو دوبارہ گرفتار کرلیا۔پولیس ذرائع کا کہنا کہ لیگ چیئرمین پر31مرتبہ پی ایس اے عائد کردیا گیا ہے اور اْن کے خلاف 27ایف آئی آر درج ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق مسرت عالم کے خلاف اکثر کیسوں میں سنگین الزامات شامل ہیں، جن میں ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنا بھی درج ہے۔مسلم لیگ ترجمان نے پولیس کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں مسرت عالم کیخلاف عائد بے بنیاد الزامات کو ثابت کرنے میں ناکامی کے بعد پولیس اپنی خفت مٹانے کی غرض سے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے مسرت عالم کیخلاف من گھڑت کیس تیار کئے تھے اور یہ عدالت میں بھی ثابت ہوگیا ،اب چونکہ پولیس کو عدالتی احکامات کے بعد شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، اس لئے انہوں نے مسرت عالم کیخلاف اوچھے ہتھکنڈے آزمانے شروع کئے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ پولیس مسرت عالم کیخلاف کوئی بھی الزام ثابت نہیں کرسکی جوتنازعہ کشمیر کے حل کی خاطرسیاسی سطح پر اپنی سرگرمیاں انجام دیتے آرہے ہیں۔معلوم رہے کہ مسرت عالم کو 18اکتوبر2010کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔مسرت عالم کو2010کی ایجی ٹیشن کے دوران کلیدی رول ادا کرنے کے الزام میں چار ماہ کی روپوشی کے بعد بالآخر سرینگر کے تیل بل علاقے سے پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے گرفتارکرلیا تھا۔ مسرت عالم نے 2008 کی شرائن بورڈ ایجی ٹیشن کے دوران بھی اہم رول ادا کیا تھا اور بعد میں پولیس نے انہیں ایجی ٹیشن کے دوران ہی آلوچی باغ کے نزدیک گرفتار کرکے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا۔
پروفائل
مسرت عالم نے ابتدائی تعلیم بسکو سکول سے حاصل کرنے کے بعد ایس پی کالج سرینگر سے سائنس مضامین میں گریجویشن حاصل کی۔زیندار محلہ حبہ کدل میں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے مسرت عالم نے 1987میں مسلم متحدہ محاذ کے قیام کے دوران اپنے سیاسی کیرئر کا آغاز کیا اور اس دوران عوامی ریلیوں میں بھرپور شرکت کی۔1987انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہونے کے بعد مسرت 1990 سے شروع ہوئی عسکری تحریک کا بھی حصہ بنے اور وہ حزب اللہ نامی تنظیم کا کمانڈر بھی بنا۔مسرت عالم گزشتہ 25برسوں کے دوران قریب 14 سال تک پابند سلاسل رہے۔انہوں نے ہی شرائن بورڈ ایجی ٹیشن کے دوران ’’رگڑا‘‘کو متعارف کرایا۔ان کے گھر میں ان کی ماں ،ان کی بہن اور اہلیہ ہیں اور وہ انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مسرت عالم کی جب شادی ہوئی تھی تو تین روز بعد ہی انہیں پولیس نے گرفتار کرکے کورٹ بلوال جیل منتقل کیا تھا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: