گیلانی کی طبیعت ناساز/نظربندی بنیادی وجہ:معالجین

SAGحریت کانفرنس (گ) چیئرمین اور بزرگ آزادی پسند لیڈر سید علی گیلانی کی طبیعت گذشتہ کئی روز سے چھاتی میں درد ہونے کی وجہ سے ناساز ہے۔اْن کا بدن درد محسوس کررہا ہے اور وہ بات کرنے میں بھی دقت محسوس کررہے ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گیلانی کی مسلسل خانہ نظر بندی اُن کی صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ وہ سینے میں تکلیف کی وجہ سے کافی کمزور ہو چکے ہیں۔ماہر معالجین کے مطابق اگر کسی صحت مند شہری کو بھی اس کے گھر میں مسلسل بند رکھا جائے گا تو اْس کی صحت پر بھی اس کا برا اثر پڑ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سید علی گیلانی اپنی اپنی رہائش گاہ واقع حیدرپورہ میں سال 2010سے خانہ نظر بند ہیں ۔ایک معالج نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ’’گیلانی صاحب کومتعدد بیماریاں لاحق ہیں ،انہیں کئی جراحیاں ہوئی ہیں،سورج کی گرمی نہ ملنے کے بہ سبب ان کے بدن میں وٹامن ڈی کی کمی ہے جس سے ان کی ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور معمولی چوٹ لگنے سے ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہے‘‘۔معلوم رہے کہ اتوار کو انہیں اْس وقت اکسیجن دیا گیا جب انہیں سانس لینے میں سخت تکلیف ہو رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ تازہ ہوا متواتر طور نہ ملنے کی وجہ سے اْن کی صحت پر کافی اثر پڑا ہے۔86سالہ گیلانی 1997سے پیس میکر پر زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ان کے بائیں گردہ کو 2003میں کار سنوما کی شکایت کے بعد ٹاٹا میموریل ہسپتال ممبئی میں نکالا گیا ہے۔سال 2004میں گیلانی کا پتا گنگا رام ہسپتال دہلی میں نکالا گیا جبکہ 2007میں اْن کی دوبارہ جراحی کے دوران بائیں گردے کا نصف حصہ بھی نکالا گیا۔2008میں انہیں دہلی کے اسکاٹس ہارٹ انسٹچوٹ میں نیا پیس میکر لگایا گیاجبکہ 2010 میں اپالو ہسپتال دلی میں ان کی آنکھوں کا آپریشن کیا گیا۔ ایک اور معالج کے مطابق جسمانی حرکت نہ کرنے اور مسلسل گھر میں نظر بند رہنے سے ان کے دل پر اثر بڑھ سکتا ہے۔ معلوم رہے کہ گذشتہ کئی برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب گیلانی نے سردیوں کے دوران کشمیر میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ ان کے فرزند نسیم گیلانی کا کہنا ہے’’ معالجین کے مشورے پر گیلانی صاحب سردیوں میں مالویہ نگر نئی دہلی منتقل ہوتے تھے ، جہاں وہ باقاعدگی کے ساتھ صبح کی سیر کرتے تھے،جس سے ان کی صحت قدرے ٹھیک رہتی تھی مگر رواں سال انہوں نے یہاں ٹھہرنے کو ہی ترجیح دی ‘‘۔ نسیم گیلانی کے مطابق مسلسل نظر بندی کے سبب وہ صرف ڈراینگ روم میں چہل قدمی کرتے ہیں۔حریت( گ) لیڈر الطاف شاہ کا کہنا ہے ’’ حریت نے سید علی گیلانی کی خانہ نظر بندی کو کئی مرتبہ عدالت میں چیلنج کیا لیکن عدالتی ہدایات کے باوجود پولیس نے بزرگ اور بیمارآزادی پسند قائد کو بغیر کسی جواز کے مسلسل نظر بند رکھا ہوا ہے۔حتیٰ کہ طبی ملاحظہ اور میڈکل ٹسٹ کروانے کی خاطر ہسپتال لیجانے کیلئے پہلے پولیس سے اجازت طلب کرنا لازمی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورتحال میں یہ طریقہ کار نہایت ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: