Kashmiri Muslims hold funeral prayers in absentia for a missing Kashmiri man in Srinagar, Indian controlled Kashmir, Tuesday, Jan. 19, 2016. Hundreds Tuesday participated in funeral prayers in absentia for a Kashmiri man who disappeared fourteen years back. Relatives allege that the man was killed in the custody of Indian troops. (AP Photo/Dar Yasin)

راولپورہ میں سینکڑوں لوگوں نے منگل کو 14سال قبل لاپتہ کئے گئے شہری کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی ،جس میں لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک سمیت کئی مزاحتمی لیڈران اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے شرکت کی۔اس موقعہ پر آزادی کے حق میں اور ہندوستان مخالف فلک شگاف نعرے بلند کئے گئے۔معلوم رہے کہ غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں8000افراد حراست کے دوران لاپتہ کئے گئے ہیں جبکہ سرکار کا کہنا ہے کہ تین ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہیں۔پیشے سے دوافروش منظور احمد ڈارساکن راولپورہ کو 18جنوری 2002میں نامعلوم افراد نے راولپورہ سے اٹھایا تھا اور اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن صدر میں ایک ایف آئی آرزیر دفعہ364 کے تحت فوج کی 35راشٹریہ رائفلز کے خلاف درج کیا گیا تھا جبکہ تحقیقات کے دوران فوج کے میجر کشور ملہوترا کا نام بطور ملزم سامنے آیا تھا۔واضح رہے کہ کشور ملہوترہ 2002میں میجر(آج برگیڈئرہیں) کے عہدے پر راولپورہ علاقے کے انچارچ تھے جس وقت منظور احمد ڈار نامی مذکورہ دوا فروش کی حراستی گمشدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔جبری گمشدگی کا یہ واقعہ عدالت عالیہ میں بھی زیر سماعت رہا اور اس کی تحقیقات کیلئے پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم(SIT)تشکیل دی گئی۔ 26 نومبر 2015 کو پولیس کی خصوصی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ عدالت عالیہ میں پیش کی جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ منظور احمدجنوری2002میں گھر سے اغوا ہونے کے بعدمیجر کشور ملہوترا کی قیادت والی35آر آر کی تحویل میں جاں بحق ہوگیا ہوگا اور بعد میں اسکی لاش ٹھکانے لگائی گئی ہوگی۔پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کی اس رپورٹ کے تناظر میں معاملے کی نسبت پہلے سے درج ایف آئی آر میں آر پی سی کی دفعہ302یعنی قتل کا اضافہ کیا گیا۔چنانچہ پولیس رپورٹ میں منظور احمد کو جاں بحق قرار دئے جانے کے بعد اس کے اہل خانہ نے اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور لوگوں سے اس میں شرکت کی اپیل کی۔ منگل کو منظور احمد کی حراستی گمشدگی کے 14سال مکمل ہونے کے موقع پرراولپورہ ہائی سکول میں اْس(منظور) کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔نماز جنازہ کی پیشوائی تحریک حریت لیڈر اور حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی کے پرسنل سیکریٹری پیر سیف اللہ نے انجام دی جبکہ لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک سمیت کئی مزاحتمی لیڈران اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔نماز جنازہ سے قبل اْن کی رہائش گاہ سے جنازہ گاہ تک ایک احتجاجی جلوس برآمد ہوا جس میں اسلام و آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بلند کئے گئے۔نماز جنازہ کے بعد منظور احمد کے گھر تک لوگ ایک بار پھر احتجاجی جلوس کی صورت میں پہنچ گئے جہاں انہوں نے دھرنا دیا۔واضح رہے کہ نماز جنازہ سے قبل منظورکے لواحقین کے ساتھ ساتھ خواتین نے رنگریٹ راولپورہ روڈ پر دھرنا دیا۔اس دوران علاقے میں صبح سے ہی ماتم کا ماحول تھااور لاپتہ شہری کی یاد میں اس کے گھر پر تعزیتی تقریب کے دوران آہ و فغاں کا عالم تھا۔علاقے میں تمام کاروباری ادارے بند تھے اور صنعت نگر کراسنگ سے پولیس کسی بھی گاڑی کو راولپورہ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: