سمارٹ سٹی پروجیکٹ،جموں و کشمیر کا کہیں ذکر نہیں

مرکزی حکومت نے 100 سمارٹ سٹی تیار کرنے کے اپنے ’ڈریم پروجیکٹ‘ کے تحت جمعرات کو 20 شہروں پر مشتمل پہلی فہرست کا اعلان کر دیا تاہم اس فہرست میں ریاست جموں و کشمیر کے کسی ایک شہر کا بھی انتخاب نہیں ہوا ہے۔ سمارٹ سٹی مشن گذشتہ سال وزیر اعظم نریندر مودی نے متعارف کیا تھاجس کے تحت مرکزی حکومت 100منتخب شہروں میں شہری بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے فی کس 100کروڑ روپے کی امداد فراہم کر رہی ہے اور بہتر انتظامیہ کی فراہمی بشمول ای گورننس ایند سٹیزن سروس ، کوڑاکرٹ ، پانی اور توانائی کی سہولیات کا انتظام و انصرام کے لئے سہولیات دستیاب رکھنا ہے۔ جموں وکشمیر واحد ریاست ہے جس کے سرینگر اور جموں دو راجدھانیاں ہیں اور دونوں پروجیکٹ کے دائرے میں آتے ہیں۔ دونوں شہر نہ صرف زئد از ریاست کی 50فیصد شہر ی آبادی کو اقامت فراہم کرتے ہیں بلکہ سیاحت اور یاترا پر آنے والے لوگوں کے ایک بڑی تعداد کو بھی اقامتی اور دیگر سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

شہری ترقی کے مرکزی وزیر ایم وینکیا نا ئیڈو نے نئی دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پہلے مرحلے میں بھوبنیشور، پونے ، جے پور، سورت، کوچی، احمد آباد، جبل پور، وشاکھاپٹنم،شولا پور، داونگیرے ، اندور، نئی دہلی میونسپل کارپوریشن، کویمبٹور، کاکی ناڑا، بیل گاوی، ادے پور، گوہاٹی، چنئی، لدھیانہ اور بھوپال کو اسمارٹ شہر کے طور پر ترقی دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ اسماٹ سٹی بنانے پر 50,802کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے اور یہ خرچہ جات 2019تک کےلئے مختص رکھے گئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ اگلے دو مراحل میں 40-40 شہروں کو اسمارٹ سٹی کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ ان تمام شہروں میں جدید سہولیات فراہم کرائی جائیں گی۔مرکزی وزیر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں مختلف ریاستوں میں جن شہروں کو اسماٹ سٹی بنانے کا فیصلہ لیا گیا ہے ، وہاں جلد سے جلد کام شروع کیاجائےگا۔ مرکزی وزیربرائے شہری ترقی کا مزید کہنا تھا کہ 20شہروں کا انتخاب باضابطہ مقابلے کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا اور اس سلسلے میں مختلف ضروری لوازمات کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کو بھی ملحوظ نظر رکھا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کا انتخاب عمل میں لاتے وقت یہ بھی ملحوظ نظر رکھا گیا کہ کس شہر کو اسماٹ سٹی بنانے کے کتنے امکانات ہیں اور کس شہر میں اس سلسلے میں ضروری بنیادی ڈھانچہ موجود ہے ۔معلوم رہے کہ اس سے قبل بھی شہری ترقی کے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائڈو نے 27اگست2015 کو مختلف ریاستوں کیلئے 98شہروں کی فہرست کا اعلان کیا تھا جنہیں ’سمارٹ سٹی‘ پروجیکٹ کے تحت جدید ترین طرز پر ترقی دی جائے گی لیکن اس میں بھی جموں و کشمیر کا کوئی شہر شامل نہیں تھا کیونکہ نائڈو کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت نے اس منصوبہ پر شہر کا انتخاب کرنے کے لئے کچھ مزید وقت مانگا ہے۔ چونکہ ریاست میں علاقائی حساسیت کا مسئلہ درپیش تھا جس کے نتیجے میں ریاستی حکومت نے جموں اور سرینگر دونوں شہروں کو’سمارٹ سٹی ‘ پروجیکٹ کے تحت لانے کی گذارش کی تھی۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے اُس وقت یقین دلایا تھا کہ وہ اس ضمن میں کوئی حل نکالیں گے تاہم اس کے بعد مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاستی مکانات و شہری ترقی محکمہ کے کمشنر سیکریٹری بپل پاٹھک نے بھی اس ضمن میں کہا تھاکہ ’ چونکہ ریاست کے دونوں دارالحکومتی شہر سمارٹ سٹی پروجیکٹ کیلئے مطلوب لوازمات پورے کرتے ہیں ، اسلئے ہم نے شہری ترقی کی مرکزی وزارت کو دونوں شہروں(جموں اور سرینگر) کو اس پروجیکٹ کے تحت لانے کی تجویز ارسال کی ہے‘۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: