سابرمتی ریورفرنٹ پروجیکٹ ایک قابل تقلید نمونہ

sabrmati-riverfrontاحمدآباد// انسانی ترقی میزانئے پر گجرات کے بلند بانگ دعوؤں کی صداقت پر جہاں حتمی طور کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے وہیں آبی ذخائرکے تحفظ ،اِن کی بہترین دیکھ بھال اور لاجواب استعمال میں مغربی بھارت کی اس ریاست کو ایک قابل تقلیدنمونہ بنایا ہے۔ سابرمتی ریور فرنٹ پارک (Sabarmati Riverfront Park) اور کنکریا جھیل (Kankaria Lake)اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ سابرمتی دریا مغربی بھارت سے بہتا ہے۔ یہ دریا 371 کلو میٹر لمبا ہے جو راجستھان کے ضلع اْدیپور کے اراولی پہاڑ سے نکلتا ہے۔ اس کا اکثر حصّہ گجرات سے گزرتا ہے اور احمد آباد شہراس دریا کے کنارے پرواقع ہے۔ انسانی عمل دخل کے نتیجے میں یہ دریا دس سال پہلے اپنی پہچان کھوچکا تھا تاہم اب سابرمتی ریورفرنٹ پروجیکٹ کی بدولت نہ صرف اس کی شان رفتہ بحال ہوچکی ہے بلکہ سیاحوں کے لئے ایک اہم جگہ بن چکی ہے۔اس پروجیکٹ کو 16.06کروڑ روپئے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے ۔ پروجیکٹ انجینئر پرکاش پالیکیش نے کہا کہ اس پروجیکٹ کے تحت اب تک سابرمتی دریا کے تقریباً 24کلو میٹر (دونوں کنارے )مکمل طور تعمیرکئے گئے ہیں اور یہ کام تب تک جاری رہے گا جب تک نہ اس کے کناروں کو پوری طرح جاذب نظر بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور 202.79ہیکٹئر اراضی کو آبادکیا جارہا ہے۔ انجینئرپرکاش کشمیری صحافیوں کے ایک گروپ کو تفاصیل سے آگاہ کررہے تھے۔وادی کے مختلف صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں کا یہ گروپ گذشتہ دنوں پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)سرینگر کی وساطت سے احمدآباد کے پانچ روزہ دورے پر تھا جس کی قیادت اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی آئی بی سرینگر غلام عباس کررہے تھے۔ گجرات حکومت نے سال 2007میں اس پروجیکٹ پر اُس وقت کام شروع کیا تھاجب نریندرمودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔احمد آباد میونسپل کارپو ریشن کے تحت آنے والے اس جدید طرز کے پروجیکٹ کو عملانے کے دوران تقریباً 10ہزار سابرمتی باسیوں کو دوسری جگہوں پرمنتقل کیا گیاہے۔انجینئر پرکاش کے مطابق اس پروجیکٹ کاا ہم پہلو سابرمتی باسیوں کی بازآبادکاری تھی اسلئے پہلے ایسے مکانات تعمیر کئے گئے جہاں انہیں منتقل کیا گیا۔مذکورہ انجینئر کے مطابق70ہزار روپے قرض کے عوض انہیں مکانات فراہم کئے گئے جو انہیں 10سال کے عرصے میں ادا کرنے ہونگے۔احمدآباد میونسپل کارپوریشن (اے ایم سی)کی اطلاعا ت کے مطابق جن 10ہزار سابرمتی باسیوں کی بازآبادکاری عمل میں لائی گئی وہ دریا کے کناروں پر جھونپڑپٹیوں میں رہتے تھے۔اس پروجیکٹ کے تحت سابرمتی کے دونوں کناروں پر چار لین والی کشادہ سڑکوں کے علاوہ سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والے مسافروں کیلئے مخصوص فٹ پاتھ تعمیر کئے گئے ہیں۔سڑکوں کے کناروں پرمخصوص قمقمے نصب کئے گئے ہیں اور سرسبز درختوں کے علاوہ پھولوں کی کیاریاں سجائی گئی ہیں جبکہ دریا کے کناروں پر مختلف جگہوں پر بچی زمین پر پبلک پارکیں اور باغات تعمیر کئے گئے ہیں۔انجینئر پرکاش کا کہنا تھا کہ دریاکے کناروں پر ماضی سے ہی دھوبی اپنا روزگار کمارہے تھے جن کو پروجیکٹ کی تکمیل کے دوران نظرانداز نہیں کیا گیا،اُن کیلئے جدید قسم کی مشینری سے لیس دھوبی گاٹ تعمیر کئے گئے ۔انجینئر پرکاش کے مطابق سابرمتی سنڈے مارکیٹ بھی ایک اہم معاملہ تھا کیونکہ ہر اتوار کو یہاں لوگوں کا بھاری رش لگا رہتا ہے اور اس روایت کو بھی برقرار رکھا گیا ،تاہم اس مارکیٹ کو جدید خطوط پر ڈیزائن کیا گیا ۔احمدآباد شہر کو دو حصًوں میں تقسیم کرنے والی سابرمتی ریورفرنٹ پارک کی خوبصورتی سے نہ صرف احمد آباد شہر شام ہوتے ہی ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے اور سیاحوں کے دل موہ لیتا ہے۔اس پروجیکٹ کی دیکھ ریکھ میں مصروف کئی افسران نے کہا کہ سابرمتی ریور فرنٹ پارک ریاست جموں و کشمیر کے سیاستدانوں،پالیسی سازوں اور بیورو کریٹوں کیلئے ایک نقش راہ بن سکتا ہے جو دریائے جہلم ، ڈل جھیل اور دیگر آبی ذخائرکو بچانا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ اب تک ڈل کے تحفظ کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے لیکن یہ بات روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس عالمی شہرت یا فتہ جھیل کی حالت ہر گزرنے والے دن کے ساتھ خراب ہی ہوتی جارہی ہے۔ ہر نئے سروے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ڈل کا رقبہ مزید سکڑ گیا ہے۔ اسی طرح دریائے جہلم بھی حکام کی عدم توجہی کے باعث بربادی کے دہانے تک پہنچ گیا ہے۔ ایک زمانے میں اس دریا کا پانی اتنا شفاف تھا کہ لوگ اسے پینے کیلئے استعمال کرتے تھے اورلیکن اب وادی کے مختلف علاقوں میں نکاس کا پانی اس میں شامل ہوجاتا ہے۔نتیجے کے طور پر اس دریا کے پانی کو استعمال کرنا تو دور اسے چھونا بھی بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔جہاں ریورفرنٹ پارک احمدآبادکی ترقی کا ایک نمونہ مانا جارہا ہے وہیں کنکریا جھیل بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔احمدآباد کے منی نگر علاقے میں واقع اس جھیل کو 500سال سے احمد آباد کی شناخت تصور کیا جارہا ہے جو اڈھائی کلومیٹرعلاقے پر محیط ہے۔یہ جھیل نہ صرف عام سیاحوں کیلئے ایک دلچسپی کا مرکز بن گیا ہے بلکہ بچوں کیلئے چڑیا گھر،ایکویرئم،چھوٹی ریل(ٹائے ٹرین )،تفریحی پارکوں اورناگنہ وادی سمیت 23 مختلف تفریحی مقامات نے جھیل کی خوبصورتی میں چار چاند لگائے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس جھیل کی عظمت رفتہ بحال کرنے کیلئے احمدآباد میونسپل کارپوریشن نے 2006میں کام شروع کیا اوردسمبر2008میں مکمل کیا ۔جس کے نتیجے میں آج یہ جھیل مقامی ، غیر ریاستی و غیر ملکی سیاحوں کیلئے ایک اہم سیاحتی منزل کے بطور ابھر چکا ہے۔کنکریا جھیل کے رکھ رکھاؤ پر تعینات انجینئروں کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی عناد اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھا جائے تو ڈل جھیل کی عظمت رفتہ بحال کرنے میں بھی زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: