اے ایم سی : ایک ہی چھت کے نیچے سبھی سہولیات دستیاب

IMG_0341احمد آباد//ایک فعال اور مضبوط جمہوری نظام میں جہاں عوام کو طاقت کا سرچشمہ مانا جاتا ہے وہیں بلدیاتی ادارے اس ضمن میں بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ ادارے عوامی رائے کے اظہار کیلئے بنیاد فراہم کرتے ہیں ۔ انہی بلدیاتی اداروں میں احمد آباد میونسپل کارپوریشن (اے ایم سی) ہے ۔اے ایم سی کا دائرہ اختیارنہ صرف صحت وصفائی تک محدود ہے بلکہ شہر کے اسکولوں ، کالجوں اور اسپتالوں کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔

اگر یوں کہا جائے کہ بلدیاتی اداروں کی خودمختاری میں گجرات ایک ایسی ریاست ہے جہاں شہری آبادی کیلئے ایک ہی چھت کے نیچے سبھی سہولیات دستیاب ہیں تو بیجا نہ ہوگا۔ اس کا دائرہ اختیار464.16مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جس کی آبادی 2001کی مردم شماری کے مطابق تقریباً45لاکھ ہے۔ کمشنرمیونسپل کارپوریشن ڈی تھارا کے مطابق اے ایم سی نہ صرف احمد آباد کی صحت و صفائی کا ہی خیال رکھتی ہے بلکہ ہسپتالوں، کالجوں ،سڑکوں ،ٹرانسپورٹ، سینٹرل لیبارٹریزاور صحت عامہ کا بھرپور خیال رکھتی ہے۔انہوں نے کہا ’’ شجرکاری پر خصوصی توجہ دینے کے علاوہ،ہم نے عوام کی تفریح کیلئے پارکیں ، باغات اور دیگر سہولیات بہم رکھی ہیں ‘‘۔کمشنر تھارا کے مطابق سبھی لوازمات مکمل ہونے کی صورت میں اے ایم سی 15دن کے اندر اندرمکان کی تعمیر کیلئے اجازت نامہ دیتی ہے ۔ اے ایم سی افسران کے مطابق شہر میں سڑکوں کا جال اس طرح بچھایا گیا ہے کہ شہر سے گذرنے والی سابرمتی ندی پراب تک55پل تعمیر کئے گئے ہیں جن میں ایک درجن کے قریب ریلوے پل اورکئی فلائی اوور بھی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کے دائرہ اختیار میں احمد آباد کے 3میڈیکل کالج ، ایک ڈینٹل کالج ،510کے قریب پرائمری اور ہائی اسکول شامل ہیں۔ مذکورہ افسران کشمیری صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ تبادلہٌ خیال کررہے تھے، جوپریس انفارمیشن بیورو(پی آئی بی)،حکومت ہند کی طرف سے احمد آبا کے دورے پر تھا۔وفد کی قیادت پی آئی بی سرینگر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر غلام عباس کررہے تھے۔ اے ایم سی حکام کے مطابق 64 وارڈوں پر مشتمل احمد آبادشہر میں میونسپل کارپوریشن ایک متبادل حکومت کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کارپوریشن نے اب تک 20ہزار گھرانوں کیلئے رہائشی مکانات تعمیر کئے ہیں جن میں کم آمدنی والے کنبوں کو 3لاکھ روپے کے عوض رہائشی مکان جبکہ اسے زیادہ آمدنی والے کنبوں کو 10لاکھ روپے کے عوض رہائشی مکانات فراہم کئے گئے ہیں۔ یہ رہائشی مکانات راجیو آواس یوجنا اور پردھان منتری آواس یوجنا اسکیم کے تحت تعمیر کئے گئے ہیں۔ کارپوریشن نے ٹریفک دباؤ کم کرنے اور مسافروں کی سہولیات کیلئے بی آرٹی ایس یعنی (بس ریپڈٹریزنٹ سسٹم )سروس شروع کی ہے ۔بی آر ٹی ایس نے اپنی 250گاڑیوں کیلئے ایک مخصوص روڑ تعمیر کئے ہیں جس پر کسی پرائیویٹ یا سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں ہے ۔اس مخصوص ٹرانسپورٹ سسٹم کو چلانے کیلئے اے ایم سی کے مرکزی دفتر میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کی جارہی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانیوں یا مشکلات کا سامنا نہ کرنے پڑے ۔بی آر ٹی ایس کے جنرل منجر (اوپریشنز)دیپک ترویدی کا کہنا ہے کہ پورے احمدآباد شہر میں اس بس سروس کیلئے 55جدید قسم کے بس اسٹاپ تعمیر کئے گئے ہیں ۔شائد یہی وجہ ہے کہ احمد آباد شہر میں کہیں بھی ٹریفک جام دکھائی نہیں دیا ۔اتنا ہی نہیں احمد آباد میں شروع کی جانی والی ایک نئی سکیم کارپوریشن کے ہیلتھ افسر چلا رہے ہیں جس کے تحت کچی آبادیوں میں رہائش پذیر آبادی کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ عوامی بیت الخلا ء استعمال کریں جن میں سے کچھ تو مفت ہیں جبکہ کچھ استعمال کرنے کیلئے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ہیلتھ افسر ڈاکٹر بھون سولنکی نے کہا’ ’ ہمارے ہاں 320 عوامی بیت الخلاء ہیں جن میں سے 143 ایسے ہیں جنہیں آپ بلامعاوضہ استعمال کر سکتے ہیں ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ہم نے یہ مشاہدہ کیا کہ ہمیں کوئی نئی سکیم متعارف کرنا پڑے گی، چنانچہ ہم نے بیت الخلاء استعمال کرنے والے ہر بچے کو روزانہ ایک روپیہ یا چاکلیٹ انعام میں دینے کا فصیلہ کیا ‘‘۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر یہ حکمت عملی کامیاب رہتی ہے تو کارپوریشن مستقبل میں بالغ افراد کو بھی اسی قسم کا انعام دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: