’جانشین مقرر کرنے کی قیاس آرائیاں ختم‘

حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے اپنے جانشین کی تقرری پر ہورہی تمام قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ تحریک حریت کو معلوم ہے کہ اُن (گیلانی)کے رحمت حق ہونے کے بعد کیا کرنا ہے اور حریت کانفرنس کی سبھی اکائیاں مشاورت کرکے اپنے سربراہ کا انتخاب کریں گی۔سید علی گیلانی پیر کو حیدرپورہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔معلوم رہے کہ گذشتہ کئی روز سے یہ قیاس آرائیاں عوامی حلقوں اور سماجی نیٹ ورک پر گشت کررہی تھیں کہ سید علی گیلانی اپنے دیرینہ ساتھی اور تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی کو اپنا جانشین مقرر کرنے والے ہیں۔باور کیا جارہا تھا کہ گیلانی نے شائد اسی سلسلے میں پریس کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔گیلانی سے جب پوچھا گیا کہ کئی روز سے یہ قیاس آرائیاں گشت کررہی ہیں کہ آپ نے اپنا جانشین مقرر کیا ہے ،وہ کون ہوگا؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’ایک تو تحریک حریت اور دوسرا مزاحمتی جماعتوں پر مشتمل فورم حریت کانفرنس‘‘۔بزرگ حریت لیڈر نے کہا ’’تحریک حریت کو پتہ ہے کہ گیلانی کے مرنے کے بعد کیا کرنا ہے اورحریت کانفرنس بھی مشاورت سے اپنے سربراہ کا انتخاب کرے گی‘‘۔تاہم گیلانی نے اپنی تنظیم تحریک حریت اورسال 2013 میں معرض وجود میں لائے گئے ملی ٹرسٹ کو قوم کی امانت قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ اِن قیمتی اثاثوں کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ ہمیشہ ساتھ نبھائیں۔اس موقع پر گیلانی نے کہا کہ نئی دلی جموں و کشمیر کے اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اسی لئے فوج اور ہندو برادری کو بسانے کیلئے کنکریٹ عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ہندوستان برق رفتاری کے ساتھ جموں و کشمیر کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے نت نئے حربے آزما آرہا ہے ،اسی لئے ریجنل انجینئرنگ کالج(آرای اسی) کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (این آئی ٹی )میں تبدیل کیا گیا جہاں غیر ریاستی ریاستی طلبہ من مانیاں کررہے ہیں اور دلی میں اُنکی آواز پر زلزلہ ہوتا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہاکہ اب جموں و کشمیر کے میڈیکل کالجوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔گیلانی نے کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام سے نہیں بلکہ یہاں کی زمین حاصل کرنے میں دلچسپی ہے۔ سینئر مزاحمتی لیڈر کے مطابق افسوس اس بات کا ہے کہ ریاست کی ہندنواز جماعتیں آر ایس ایس کے خاکوں میں رنگ بھرررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا نشانہ مسلمان اور اسلام ہے۔حریت چیئرمین کے مطابق اسی لئے صوفی ازم کو پروان چڑھایا جارہا ہے،جو اسلامی نظام کے خلاف ہے اور اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرایس ایس اور بھاجپا اولیائے کرام کی اس سرزمین کو ہندوراشٹر میں تبدیل کرنے کیلئے سرگرم عمل ہیں ،اسی لئے اردو کو دیس بدر کیا جارہا ہے۔حریت چیئرمین نے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کو اس لئے بنک لون فراہم کروانا چاہتی ہیں تاکہ وہ قرض کے بوجھ تلے دب کرتحریک آزادی سے دور رہیں۔ انہوں نے ہندوارہ واقعہ میں پولیس کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’’پولیس نے لڑکی کو اپنی حراست میں رکھا ہے تاکہ وہ صحیح بیان نہ دے پائے‘‘۔انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ قاتلوں کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کیا جارہا ہے بلکہ طالب علموں اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔گیلانی نے اس صورتحال کو انسانی حقوق کی پامالی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی قسم ’ریاستی دہشت گردی‘ ہے ،جس میں امریکہ اورہندوستان سرفہرست ہیں۔واضح رہے کہ پریس کانفرنس 12بجے شروع ہونے والی تھی لیکن پولیس نے اس پر روک لگائی اورذرائع ابلاغ سے وابستہ نمائندوں کو گیلانی کی رہائش گاہ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اپنے اعلیٰ حکام سے اجازت حاصل کرنے کے بعد اجازت دی گئی ،جس کے نتیجے میں پریس کانفرنس تاخیر سے شروع ہوئی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: