’سینک وپنڈت کالونیاں جدوجہد آزادی سے توجہ ہٹانے کی کوشش‘

Geelani+Mirwaizسینک وپنڈت کالونیوں اور نئی انڈسٹریل پالیسی کے مجوزہ منصوبوں کو جدوجہد آزادی سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش قرار دیتے ہوئے آزادی پسند قیادت نے کہا کہ بھارت ان حربوں سے جموں و کشمیر میں اپنے فوجی قبضے کو دوام بخشنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو متنبہ کیا کہ اگران منصوبوں کو ترک نہیں کیا گیاتو اس کے خلاف ایک منظم ایجی ٹیشن شروع کی جائے گی اور اس کے جو بھی نتائج نکلیں گے، اُس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔مزاحمتی لیڈران تحریک حریت کے مرکزی دفتر واقع حیدر پورہ میں ’سینک و پنڈت کالونیاں اور حکومت کی مبہم پالیسی‘ کے عنوان پرایک سمینار سے خطاب کررہے تھے،جس کا اہتمام حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اورلبریشن فرنٹ نے مشترکہ طور کیا تھا ۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ’’ بھارت کے پالیسی ساز کشمیر میں نت نئے فتنے کھڑا کرکے اصل اور بنیادی مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ ان حربوں کے ذریعے اپنے فوجی قبضے کو دوام بخشنا چاہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا’’بنیادی مسئلہ تنازعہ کشمیر ہے اور باقی جتنے بھی مسائل ہیں، وہ اس کی ذیلی شاخیں ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’ پنڈت انسانی رشتے کے ناطے ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے سماج کا ایک اہم حصہ ہیں، ہم ہر وقت ان کی وادی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہیں البتہ ان کیلئے الگ کالونیاں بنانے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔گیلانی کے مطابق یہ منصوبہ کشمیریوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے اور یہاں کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے اور بھارت اس طرح سے کشمیریوں کی آزادی کیلئے جدوجہد کو فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتا ہے۔بزرگ آزادی پسند لیڈر نے کہا ’’نوکریوں سے سبکدوش فوجیوں کے لیے کالونی بنانے کی کوئی تُک نہیں ہے بلکہ سراسر ایک فریب ہے کیونکہ جو فوجی ریٹائر ہوگئے ہیں ،انہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ گیلانی نے کہا’’ بھارت جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب ختم کرنے کی درپے ہے ،جس طرح 1947میں جموں میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے کیا گیا‘‘۔انہوں نے کہا ’’1947سے قبل جموں میں مسلمان اکثریت میں تھے اور اب اقلیت میں ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جموں کو الگ کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں غیر ریاستی باشندوں کو بسایا جائے ۔بزرگ آزادی پسند لیڈر کے مطابق اِس پر طرہ یہ کہ یہاں کی حکومت مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اقتدار کیلئے سب کچھ بیچنا چاہتی ہے۔اس موقع پر انہوں نے حلقہ اننت ناگ( اسلام آباد) میں ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس، عوامی اتحاد پارٹی اور دوسری جتنی بھی ہند نواز جماعتیں ہیں، وہ سب کشمیریوں کی دشمن ہیں۔انہوں نے کہا ’’ہند نواز جماعتیں ظلم کی اُس کلہاڑی کے دستے ہیں، جو بھارت ہم پر چلارہا ہے‘‘۔ اتحاد کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے گیلانی نے کہا ’’ بنیادی اہداف کے بارے میں قیادت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہم سب بھارت کے فوجی قبضے سے آزادی چاہتے ہیں‘‘۔ اس سے قبل حریت (ع)چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے اپنی تقریر میں سینک وفوجی کالونیوں اور نئی صنعتی پالیسی کو اسرائیلی حکومت کی پالیسی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیری قوم کو اپنی ہی ریاست میں بے گھر اور اجنبی بنانا چاہتا ہے، جس طرح سے فلسطینیوں کے ساتھ کیا گیا ، انہیں اکثریت کے بجائے اقلیت میں تبدیل کیا گیا۔میرواعظ نے آنے والے مشترکہ پروگراموں پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مجوزہ منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے ہر ممکن طریقے سے آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ قیادت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے کے پیش نظر ہلکے اور عوام موافق پروگرام ہی دئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا ’’ پنڈت وسینک کالونیاں اور نئی صنعتی پالیسی جیسے منصوبوں کو جب تک ترک نہیں کیا جاتا، ہماری جدوجہد جاری رہے گی‘‘۔سمینار سے لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ نے بھی خطاب کیا کیونکہ فرنٹ سربراہ محمد یاسین ملک نظربندی کی وجہ سے سمینار میں شرکت نہیں کرسکے۔سمینارمیں سینک و پنڈت کالونیوں اور نئی انڈسٹریل پالیسی کے بارے میں پی ڈی پی، بی جے پی مخلوط حکومت کی مبہم اور مشکوک پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ناگپور کا ایجنڈا ہے اور فرقہ پرست جماعتیں جموں کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے اور مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کیلئے ان کالونیوں کے قیام کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ سمینار میں محمد یاسین ملک اور شبیر احمد شاہ کو پولیس حراست میں رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اس موقع پر لوگوں نے آزادی اور اسلام کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کئے ۔ سمینار سے فریڈم پارٹی کے نمائندے مولانا محمد عبداللہ طاری،ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم، ڈاکٹر شیخ شوکت، ڈاکٹر جاوید اقبال، عبدالمجید زرگر، زیڈ جی محمد، حسن زینہ گیری اور شکیل قلندرنے بھی خطاب کیاجبکہ اس دوران تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی اور گیلانی کے پرسنل سیکریٹری پیر سیف اللہ اور سرگرم کارکن سید امتیاز حیدر بھی سمینار میں موجود رہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: