کشمیر خاک و خون میں غلطاں،31جاں بحق

کشمیر میں عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان مظفر وانی اور اُس کے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی لہر کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعدادپیر کی شام تک 31 پہنچ گئی جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار کے سوا تمام عام شہری ہیں۔ احتجاجی لہر کے دوران پیلٹ،ٹیر گیس گولوں اور گولیوں سے زخمی ہونے والوں کی تعداد500 سے زائد بتائی جارہی ہے۔اس دوران پوری وادی میں منگل کو بھی کرفیو نافذ رہا جبکہ مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے 13جولائی تک ہڑتال کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔واضح رہے کہ سرینگر کے اسپتالوں میں زخمیوں کو لانے کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔گذشتہ جمعہ کوحزب کمانڈر برہان وانی کی ایک مبینہ تصادم میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کی لہر شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس دوران پیر کو جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں ٹیلیفون اور موبائل سروس بحال کی گئی تاہم انٹرنیٹ پر بدستور پابندی ہے۔سنیچر کو 21 سالہ برہان کے جنازے میں وادی بھر سے لوگوں نے شرکت کیلئے مارچ کیا تو مختلف مقامات پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس میں پیر کی شام تک 30 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ زخمیوں میں سے قریب 60 شہریوں کو گولیوں کے زخم آئے ہیں جبکہ قریب ایک سو سے زائد کو پیلٹ لگے ہیں۔ قریب دو درجن کی حالت اسپتالوں میں تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ریاستی حکومت نے وادی کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے اور عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔اتوار کی شام سے 10 افراد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ اِن میں سے سب سے زیادہ یعنی 7 کا تعلق جنوبی کشمیر سے ہے،جن کی شناخت یاسمینہ اختر، شاہد حسین بٹ، زبیر کھانڈے، نذیر احمد شیخ اور مشاق احمد قاضی گنڈ جبکہ شاہد گلزار ساکن شوپیان، عبدالرشید ساکن چک رنبیر سنگھ پورہ ، بلال احمد شاہ ساکن اسلام آباد (اننت ناگ) اور عامر احمد لٹو ساکن بجبہاڑہ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔عامر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ دہلی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا ۔وہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کو صدر اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ اس دوران سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی 8 کمپنیاں( 8 سو اہلکار) کشمیر روانہ کردی گئی ہیں۔ اس سے قبل 9 جولائی کو 1200 اہلکار یہاں پہنچے تھے۔سنیچر سے جاری کرفیو اور ہڑتال نے انسانی بحران کی صورت اختیار کرلی ہے کیونکہ لوگ اپنے گھروں میں قید ہیں ۔دریں اثناء سرینگر اور دیگر بڑے قصبوں سے لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے گھروں میں گھس کر مکینوں کو ہراساں کیا اور توڑ پھوڑ کی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: