فورسزنے زخمیوں کو بخشا نہ تیمارداروں کو

حزب کمانڈر برہان وانی اور اْس کے دوساتھیوں کی ہلاکت کے بعد احتجاجی لہر کے دوران فورسزکی فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو سرینگر لانے کے دوران بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔جس زخمی کا گلو کوز چڑھایا گیا تھا وہ باہر پھینک دیا گیا اور تیمار داروں کی بھی شدید مارپیٹ کی گئی۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ زخمی شہریوں کو سرینگر پہنچانے سے قبل پولیس و فورسز کے بعض اہلکاروں نے راستے میں ہی بے تحاشا تشدد کا نشانہ بنایا۔حالانکہ 2010میں اس سے بھی بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا لیکن اس طرح کی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔اتنا ہی نہیں بلکہ صدر اسپتال میں شلنگ کی گئی۔تیمارداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ فورسز نے جنوبی کشمیر میں کئی مقامات پر نہ صرف زخمی افرادکو اسپتالوں تک پہنچنے سے روکنے کیلئے ایمبولنس گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی بلکہ اْن میں موجود افراد کی بھی شدید مارپیٹ کی۔سرینگر کے بیشتر ہسپتالوں میں داخل زخمیوں کے تیمارداروں نے بتایا کہ زخمیوں کو شہر منتقل کرنے کے دوران پانپور، نیوہ، سنگم اور کولگام میں پولیس اور فورسز نے نہ صرف وقت ضائع کیا بلکہ زخمیوں کے تیمارداروں کو انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ مقامی ہسپتالوں میں اگر کسی زخمی کو گلوکوز یا خون کی بوتل چڑھائی گئی تھی تو فورسز نے وہ بھی کاٹ دیں۔بجبہاڑہ کے ایک شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پانپور میں ریڈکراس کی ایک گاڑی کی بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔مذکورہ شہری کے مطابق جب اْس نے ایک مقامی اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ کیوں زخمیوں کو بھی شہر پہنچنے نہیں دیتے ہیں تو اْس نے کہا’ ’ہمیں صاحب نے کہا ہے کہ اِن کی ہڈی پسلی ایک کردینا‘‘۔صدر اسپتال میں ایک زخمی کے تیماردار نے کہا ’’ہمیں دو مقامات پر فورسز نے ایمبولینس سے اْتارا اور شدید مارپیٹ کی ‘‘۔ ایسی ہی شکایات کوکرناگ، کولگام، سنگم، بجبہاڑہ، پانپور، پلوامہ اور شوپیاں سے سرینگر منتقل ہوئے تیمارداروں نے کی۔ برزلہ ہسپتال میں ایک ایمبولینس ڈرائیور نے کہا کہ وہ گولی لگنے سے شدید زخمی نوجوان کو سرینگر پہنچانے کیلئے جارہا تھا کہ سنگم بجبہاڑہ کے قریب سی آر پی ایف نے گاڑی کو روکا اورنہ صرف ایمبولینس کے شیشے توڑ دئے بلکہ ایمبولینس میں سوار زخمی نوجوان کے ساتھیوں کی شدید مارپیٹ کردی جس کے نتیجے میں کئی تیماردار بھی زخمی ہوئے۔ مذکورہ ڈرائیورکے مطابق سی آر پی ایف اہلکاروں نے اْسے بھی نہیں بخشا۔فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوئے نوجوانوں کے عزیز و اقارب نے حکام سے اپیل کی کہ فورسز کو ایسی حرکات سے روکنے کیلئے ہدایات جاری کئے جائیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: