کشمیر میں اخبارات کی اشاعت پر سرکاری قدغن

aaکرفیو زدہ کشمیر میں اتوار کو اخبارات کی اشاعت پر تین روز تک جاری رہنے والی سرکاری پابندی شروع ہوگئی۔ واضح رہے کہ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ خدمات بدستور معطل ہیں جبکہ کیبل ٹی وی پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ریاستی حکومت نے سنیچر کو اخبار مالکان اور مدیران سے اگلے تین روز تک پابندی جاری رکھنے کی اطلاع دی جس کے بعد مدیران و مالکان نے حکومتی کارروائی کو’پریس ایمرجنسی ‘ قرار دیتے ہوئے اخبارات کی اشاعت روک دینے کا فیصلہ لیا۔اس سے قبل پولیس نے جمعہ اورسنیچر کی درمیانی شب اردو روزنامہ کشمیر عظمیٰ اورانگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کے رنگریٹ کارپوریٹ آفس پر چھاپہ مارا اور کشمیر عظمیٰ کی پرنٹ شدہ کاپیاں اور گریٹر کشمیر کے پلیٹ ضبط کرنے کے علاوہ 3ملازمین کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے دیگر کئی اخباری دفاتر پر بھی چھاپے مارے اور اخبارات کی ترسیل و اشاعت پربھی پابندی عائد کردی۔جی کے کمیونکیشن کے کارپوریٹ آفس میں جمعہ اورسنیچر کی درمیانی رات 20پولیس اہلکار داخل ہوئے اور وہاں موجود کشمیرعظمیٰ کی50000کاپیاں ضبط کیں۔اس موقعے پر پولیس نے ملازمین کے موبائل فون بھی چھین لئے جبکہ مزاحمت کرنے پر تین ملازمین بشمول پریس انچارج بجو چودھری کو گرفتار کرکے تھانے پہنچایا گیا۔پولیس نے اس کے علاوہ دیگر کئی اخباری دفاتر اور پریس پر چھاپے مارے اور تیار شدہ اخباری کاپیاں ضبط کیں۔اس صورتحال پر مقامی اخبارات اور میڈیا سے وابستہ افراد میں زبردست بے چینی پھیل گئی اور سرکار کے اس اقدام کو پریس کی آزادی پر قدغن قرار دیا گیا۔سرکاری اقدام پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پریس کالونی میں مختلف اخبارات کے مالکان اور مدیران کی مشترکہ میٹنگ میں میڈیا قدغن پر سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور اسے پریس کی آزادی پر کاری ضرب سے تعبیر کیا گیا۔میٹنگ کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک سرکاری ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وادی میں جاری حالات کے تناظر میں اخبارات کی ترسیل ممکن نہیں ہے۔لہٰذا سرکاری حکم پر اخبارات کی اشاعت تا اطلاع ثانی بند رہے گی۔ سرکاری حکم نامے کے خلاف پریس کالونی میں پرنٹ میڈیا سے وابستہ مدیران اور نمائندوں نے دھرنا دیا اور زبردست احتجاج کیا۔اس موقعہ پر مدیران نے اعلان کیا کہ سرکاری موقف کی صورت میں اخبارات کی ترسیل و اشاعت ممکن نہیں ہے۔مدیران نے قارئین کو یقین دلایا ہے کہ جونہی سرکار پریس ایمرجنسی ختم کرے گی تو اخبارات کی اشاعت شروع ہوجائے گی۔ اخبارات کی اشاعت پر تین روزہ پابندی کے باعث وادی میں اتوار کو بیشتر اخباری دفاتر بند رہے، تاہم کچھ انگریزی اور اردو روزناموں نے اپنی ویب سائٹس پر تازہ ترین خبریں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اخبارات کی اشاعت اور تقسیم پر عائد پابندی کی وجہ سے ریڈیو کشمیر سرینگر اور دوردرشن پر اخباروں کی خبروں پر مبنی مارننگ پروگرام کی نشریات اتوار کو دوسرے روز بھی متاثر رہیں۔یاد رہے کہ وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہر کے دوران تاحال 42 افرادجاں بحق جبکہ2ہزار کے قریب دیگر زخمی ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: