جامع مسجد سرینگر نرغے میں،مسلسل5ویں مرتبہ نماز جمعہ کی ادائیگی پر قدغن

12کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ کے طویل عرصے سے سخت ترین کرفیو اور جاری احتجاجی لہر کے بیچ مسلسل پانچویں مرتبہ سرینگر کی مرکزی جامع مسجدمیں پولیس نے نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔کرفیو کے ان ایام میں پانچ وقت کی نمازوں پربھی قدغن عائد رہی۔ واضح رہے کہ 8جولائی کی شام حزب کمانڈر برہان وانی کواپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ جاں بحق کیا گیا ۔پولیس نے اُن کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہر کے ساتھ ہی جامع مسجد کو حصار میں لے لیا اورتب سے لیکر آج تک نہ صرف جمعہ بلکہ پانچ وقت کی نمازوں پر بھی مکمل قدغن ہے۔اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت نے 29جولائی(جمعہ) کوجامع مسجد چلنے کی اپیل کی تھی جس کو پولیس نے ناکام بنایا۔جامع مسجد کے نزدیک لوگوں کو جمع ہونے سے روکنے کے لئے اس کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سی آرپی ایف اور پولیس اہلکاروں کو تعینات رکھا گیا ہے۔جامع مسجدکے امام حی مولانا سید احمد سعید نقشبندی نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجدمیں نماز جمعہ پر پابندی عائد کرنے کومداخلت فی الدین سے تعبیر کیا ہے ۔انہوں نے بتا یا کہ حکومت جان بوجھ کر عوام کو ان کے مذہبی فریضہ ادا کر نے سے روکتی ہے۔انہوں نے سرکاری اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو زبردستی بندوق کے زور پر نماز ادا کر نے سے روکنا نہ غیر جمہوری اور غیر آئینی ہے۔مولانا نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی سے اپیل کی کہ کشمیر میں لوگوں کو مذہبی فریضہ انجام دینے سے روکنے اور معصوم نوجوانوں کی ہلاکتوں کا سنجیدہ نوٹس لیں‘‘۔یاد رہے کہ جامع مسجد میں لوگوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کی یہ روایت نئی نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی شخصی حکومتوں کے دوران وادی کی یہ تاریخی مسجد سیاسی عتاب کا نشانہ بنتی رہی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اْن دنوں یہ اقدام مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت کے طور پر کیا جاتا تھا اور آج حکومت امن و قانون کے نام پر لاکھوں لوگوں کو اس مسجد میں نماز کی ادائیگی سے باز رکھنے میں کوئی کوفت محسوس نہیں کرتی۔ جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ تاریخی اعتبار سے پہلی مرتبہ لاہور دربار کے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی تھی۔متحدہ مجلس علماء کے رکن مولانا سید الرحمان شمس ، جنہوں نے جامع مسجد کی تاریخ پر ایک کتابچہ بھی تحریر کیا ہے، کا کہنا ہے کہ ’’رنجیت سنگھ کے گورنر موتی رام نے پہلی مرتبہ 1819 میں جامع مسجد میں اذان اور نماز پر پابندی عائد کی، جو تقریباً 20 برس سے زائد عرصہ تک جاری رہی‘‘۔ شمس الرحمن کے مطابق مسجد کو ’’1842 میں کھولا گیا اور 11برس تک صرف نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی‘‘۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے ’’2008سے مسجد کو نماز کے لئے بند کرنا ایک عام بات بن گئی ہے، جو لوگوں کے مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت اور مسلمانوں کا اتحاد توڑنے کی کوشش ہے‘‘۔معلوم رہے کہ 2008کے امر ناتھ اراضی تنازعہ اور2010کی ایجی ٹیشن کے دوران بھی انتظامیہ نے ایسی ہی پابندیاں عائد کی تھیں اور کئی ہفتوں تک لوگوں کو اس تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا کر نے سے روکا گیا۔ معروف مورخ پروفیسر محمد اسحاق خان کا کہنا ہے کہ شاہمیری سلطان زمین العابدین بڈشاہ کے والد سلطان سکندر نے یہ مسجد1389۔1420 میں تعمیر کی۔ کشمیر یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد پرفیسر گل محمد وانی کا کہنا ہے ’’جہاں تک جامع مسجد کا تعلق ہے یہ مذہب و سیاست کا صحنہ ہے، جو 1947سے پہلے بھی موجود تھا۔ یہ متبادل سیاست اور متبادل سیاسی مباحثے کا مرکز رہا ہے، جس کا ثبوت 1947کے بعد 1953میں شیخ محمد عبداللہ کی گرفتاری، 1964میں موئے مقدس تحریک اور 1975میں اندرا عبداللہ ایکارڈ کے وقت کی سرگرمیوں سے ملتا ہے، جب مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق نے جامع مسجد سے لالچوک تک تاریخی جلوس برآمد کیا تھا‘‘۔ پروفیسر موصوف کا کہنا ہے کہ جامع مسجد کے محاصرے کی کئی وجوہات ہیں: اول حکومت شہر میں سیکورٹی حالات کی خرابی سے گھبراتی ہے اور سرینگر میں واقع ہونے کی وجہ سے اس پر میڈیا کا زبردست فوکس رہتا ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: