رواں جدوجہد میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں/گیلانی،میرواعظ

مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق نے رواں جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ کشمیری ایک باغیرت قوم ہے جس نے 70سال سے بھارت کے قبضے کو کبھی قبول نہیں کیا ہے۔مذکورہ قائدین کے مطابق بھارت حقائق کو نظرانداز کرکے جموں و کشمیر میں جبروتشدد کا اراستہ اختیار کئے ہوئے ہے اورنہتے لوگوں کے پُرامن پروگرام ناکام بنانے کیلئے انسانی اور جمہوری اقدار کو پامال کرنے میں مصروف عمل ہے۔ریفرنڈم مارچ کے پیش نظرپولیس نے سنیچر کومزاحمتی قائدین سید علی گیلانی اور میرواعظ محمد عمرفاروق کوگرفتار کرکے مقامی تھانوں میں بند کردیا۔واضح رہے کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے اپنے تازہ احتجاجی کلینڈر میں عوام سے اپیل کی تھی کہ 13اور14اگست کوہر محلے، گاؤں، تحصیل اور ضلع صدر مقامات سے لالچوک کی جانب ریفرنڈم مارچ نکالیں۔پروگرام میں مزید کہا گیا تھا کہ اگر لالچوک کی جانب پیش قدمی کرنے سے روکا گیا تو اتوار شام تک وہیں بیٹھ کر پْر امن احتجاج کیاجائے۔ مجوزہ ریفرنڈم مارچ کے پیش نظر حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی جونہی اپنی رہائش گاہ سے باہر آئے تو وہاں پہلے سے موجود پولیس کی ایک بھاری جمعیت نے انہیں لالچوک کی طرف پیش قدمی سے روکا جس کے بعد موصوف نے پروگرام کے تحت اپنے کارکنوں کے ہمراہ آدھے گھنٹے تک سڑک پراحتجاجی دھرنا دیا۔یہاں مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ،جن پر گو انڈ یا گو بیک اور آزادی کے حق میں نعرے درج تھے ۔عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے حریت چیئرمین کومسلسل دھرنادینے کی اجازت نہیں دی اور گرفتار کرکے پولیس تھانہ ہمہامہ منتقل کیا۔گرفتاری سے قبل گیلانی نے کہا کہ تنازعہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر ایک منظور شدہ متنازعہ مسئلہ ہے اور اس کی قراردادوں پر خود بھارت کے دستخط بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب بھارت طاقت کے نشے میں بدمست ہوکر ٹھوس حقائق کو نظرانداز کرکے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔گیلانی نے کہا کہ دلی میں منعقد ہوئی آل پارٹی میٹنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چار گھنٹے کی طویل میٹنگ میں حقیقت کو نظرانداز کیا گیااور حقیقت یہ ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کے حل کی خاطر جموں و کشمیر کے عوام کو رائے شماری کا حق دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے آزادی حاصل کرنے کیلئے جموں و کشمیر کے عوام نے 6لاکھ سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔انہوں نے ریفرنڈم مارچ پر پولیس کی پابندیوں کو غیر اخلاقی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ موجودہ صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں۔انہوں نے کہا ’’میں کشمیر ی قوم بالخصوص بزرگوں، ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کے بلند حوصلہ کیلئے انہیں مباکباد دیتا ہوں ۔انہوں نے رواں جدوجہد کو کشمیریوں کی اپنی تحریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے پولیس زیادتیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بجبہاڑہ میں ارشد خان نامی ایک پولیس افسربھی جبروتشدد کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے ۔ لالچوک چلو پروگرام کے تحت حریت (ع) چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے جب اپنی نظر بندی توڑ کر گھر سے نکلنے کی کوشش کی تو موقعے پر موجود فورسز اور پولیس کی بھاری جمعیت نے مشترکہ کارروائی کر کے میرواعظ کو گرفتار کر لیا اور مقامی تھانے میں بند کر دیا۔ گرفتاری سے قبل انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ’’ حکومت ہمارے ہر پُرامن پروگرام کو طاقت کے بل پر ناکام بنانے کیلئے تمام مسلمہ جمہوری اصولوں اور قدروں کو پامال کر کے ہماری پُرامن آواز کو دبانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حق و انصاف پر مبنی جدوجہد کسی بیرونی قوتوں کے ایما یا اشاروں پر نہیں بلکہ کشمیری عوام اپنے بل بوتے پر 1931 سے چلارہے ہیں اور اس کیلئے ہر طرح کی جانی و مالی قربانیاں دی جا رہی ہیں جسے خود بھارت سمیت پوری دنیا دیکھتی اور محسوس کرتی ہے۔ میرواعظ نے کہا ’’حکومت ہندکہتی ہے کہ کچھ گمراہ عناصر کشمیر میں تحریک چلارہے ہیں تو آج ایک سنہری موقع تھا کہ ہمیں ریفر نڈم کا موقعہ دیا جاتا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجاتا‘‘۔میرواعظ نے کہا کہ دراصل حکومت ہند ایسا کہہ کر خود اپنے ہی عوام اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب یہ بین الاقوامی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت کی بنیاد پر رائے شماری کا موقعہ فراہم کرے اور یہ دیکھا جائے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ یا پھر آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ میرواعظ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ’’ جموں کشمیر کے عوام کو جب تک اپنا آئینی اور پیدائشی حق ’حق خودارادیت‘ فراہم نہیں کیا جاتا ہماری پُرامن جدوجہد ہر قیمت پر جاری وساری رہے گی‘‘۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: