سوئیبگ میں فوجی اہلکاروں کی ہڑبونگ

حزب سپریم کمانڈر سیدصلاح الدین کے آبائی گاؤں سوئیبگ اوردہرمنہ میں اُس وقت قیامت صغریٰ برپا ہوئی جب مقامی آبادی کے مطابق فوجی اہلکاروں نے بلا لحاظ عمر و جنس لوگوں کی شدیدمارپیٹ کے بعدمتعددرہائشی مکانوں،نجی گاڑیوں اور دکانوں کی توڑ پھوڑ کی۔مقامی لوگوں کے مطابق دہرمنہ میں قائم 2آرآرفوجی کیمپ سے وابستہ اہلکاروں نے متعدد رہائشی مکانوں ،دکانوں اور نجی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ کئی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جن میں ساتویں جماعت کے تین طالب علم بھی شامل ہیں،جن میں سے ایک طالب علم شوکت احمد ملک کو نیم مردہ حالت میں رہا کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ شوکت جہلم ویلی کالج (جے وی سی)میں زیر علاج ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہیں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے رہائشی مکانوں میں گھس کرمال و اسباب لوٹنے کے بعد خواتین کے ساتھ بھی دست درزای کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پورے گاؤں کے لوگ سڑکوں پر آگئے اور رات بھر احتجاجی مظاہرے کئے۔ واضح رہے کہ ریفرنڈم مارچ اور یوم پاکستان کے موقعہ پرعلاقے میں سبز ہلالی جھنڈے نصب کئے گئے تھے اوردہرمنہ میں قائم2آر آر کیمپ سے وابستہ اہلکاروں نے اتوارکی دوپہر اِن جھنڈوں کو اتاردیا تھا۔مقامی لوگوں کے مطابق حریت پروگرام کے مطابق علاقے میں سبز ہلالی جھنڈے نصب کئے گئے تھے جن میں کئی ایک پر کلمہ طیبہ بھی درج تھا۔انہوں نے کہا کہ فوج نے جھنڈا اتارنے کے بعد اْن کی بے حرمتی کی جس کے نتیجے میں نوجوان مشتعل ہوگئے اور گاؤں میں جھڑپیں شروع ہوگئیں جس دوران فوج نے مظاہرین پر راست فائرنگ کی اورکئی نوجوان شدید زخمی ہوگئے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج فائرنگ کرنے کے بعد گاؤں میں داخل ہوئی اور انہوں نے توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ مکینوں کا بھی زدوکوب کیا۔معلوم ہوا ہے کہ اس صورتحال کے بعد دہرمنہ ،سوئیبگ اور دیگر مضافاتی علاقوں میں لوگ مشتعل ہوگئے اور وہ فوج کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔اطلاعات کے مطابق سوموار کو فوج نے علاقے میں ایک بارپھر اُس وقت قیامت صغریٰ بپا کی جب انہوں نے گاؤں میں گھس کرمتعدد رہائشی مکانوں اور دکانوں کی توڑ پھوڑ کی۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فوج نے 12دوکانوں کے شیٹر توڑکر اُن میں موجود اشیاء کو لوٹ لیا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکاروں نے گھروں میں گھس کر چاول اور تیل سیاہ سمیت قیمتی اشیاء لوٹ لیں جن میں سونے کے زیورات ، لیپ ٹاپ اور شال شامل ہیں۔انہوں نے فوج پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی رہائشی مکانوں میں گھس کر واشنگ مشینیں ، فرج اور ٹیلی ویژن بھی توڑ دئے اور حد یہ ہے کہ غسل خانوں میں موجود نل بھی اکھاڑ دئے۔انہوں نے کہا کہ 9ماروتی گاڑیوں،3ٹاٹا موبائل گاڑیوں اور6موٹر سائیکلوں کی توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔سوئیبگ کے ایک باشندے نے بتایا ’’بلال احمد نامی ایک شہری ،جو ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہے اور چند روز قبل کرگل میں کام کرتے ہوئے کھمبے سے گر کر زخمی ہوا تھا اور کئی روز تک شیر کشمیر میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں زیر علاج رہنے کے بعد گھر بیج دیا گیا اور اس وقت اپنے گھر پر صاحب فراش ہے ،کو اُس بیڈ کے سمیت باہر پھینک دیا گیا جس پر وہ دراز تھا‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے بعد گاؤں کے ہزاروں لوگ سڑکوں پر آئے اور احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین رات بھر سوئیبگ چوک میں اسلام اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے رہے۔مظاہرین دہرمنہ میں قائم فوجی کیمپ ہٹانے کا مطالبہ کررہے تھے۔واضح رہے کہ سوئیبگ ضلع بڈگام کا ایک بہت بڑا گاؤں ہے جو 32محلوں پر مشتمل ہے ۔گاؤں میں مساجد کی تعداد 35ہے اور آبادی25ہزار کے قریب ہے ۔کئی لوگوں نے بتایا کہ بونہ پورہ سوئیبگ میں فوجی اہلکاروں نے خواتین کے ساتھ بھی دست درازی کی کوشش کی جو احتجاج کیلئے ایک خاص وجہ بنی۔انہوں نے کہا کہ فوج نے بونہ پورہ میں حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کے رہائشی مکان کی توڑ پھوڑ بھی کی ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: