راجپورہ کا غریب کنبہ اپنے محنت کش بیٹے سے محروم

Altaf Rajporaراجپورہ (پلوامہ)//گھر سے بازار چاول لانے گیا تھا لیکن واپس نہ لوٹا اور راستے میں ہی فورسز کی گولیوںکا شکار ہوکر ابدی نیند سوگیا ۔یہ کہانی راجپورہ پلوامہ کے 18سالہ الطاف احمد راتھر کی ہے،جو پیشے سے ٹریکٹرڈرائیور تھا۔اپنے والد کی صحت اورگھر کی معیشی حالت مدنظر رکھتے ہوئے الطاف نے 12سال کی عمر میں ہی تعلیم کو خیر باد کہہ دیا اور مزدوری شروع کی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الطاف نے ٹریکٹر چلانا سیکھ لیا اورآج اُسے ٹریکٹر چلانے کیلئے ماہانہ4ہزار روپئے تنخواہ ملتی تھی۔اپنی کم تنخواہ،گھر کی کمزورمالی حالت،اپنے لاغروالداور چھوٹی بہن کی صحت کے پیش نظروہ نہ صرف ٹریکٹر چلاتا تھا بلکہ اُسے لوڈ اور اَن لوڈکرنے کا کام بھی خود ہی کرتا تھا جس کیلئے اُسے مزیدمزدوری مل جاتی تھی۔الطاف جولائی کی9تاریخ کو اُس وقت شدید زخمی ہوا تھا جب حزب کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعدراجپورہ میںہزاروں لوگ سڑکوں پر آئے اوراسلام اور آزادی کے حق میںنعرے بلند کرتے ہوئے پلوامہ کی طرف بڑھنے لگے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جونہی احتجاجی مظاہرین بیلو نامی گائوں کے چوک میںپہنچ گئے تووہاں موجود سی آر پی ایف نے اُن پربے تحاشہ پیلٹ اور ٹیئرگیس شلنگ کی جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین شدید زخمی ہوگئے جن میں الطاف بھی شامل تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ الطاف کی چھاتی میں پیلٹ پیوست ہوگئے اور مظاہرین نے انتہائی جرأت کا مظاہرہ کرکے چندزخمیوں کوضلع ہسپتال پلوامہ جبکہ شدید زخمیوں کو صدر ہسپتال سرینگر منتقل کیا جن میں الطاف بھی شامل تھاتاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ الطاف کے والد محمد اکبر کا کہنا ہے ’’ ہمیں ساڑھے دس بجے رات کو پتہ چلا کہ الطاف کو زخمی حالت میں صدر ہسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم ہسپتال بھی نہیں پہنچ سکے کیونکہ ٹرانسپورٹ کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔پوری رات آنکھوں میں کاٹنے کے بعد10جولائی کی صبح کسی نے فون پہ یہ دلدوز خبر دی کہ الطاف زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا‘‘۔الطاف کی 15سالہ بہن رُبی جان نے روتے بلکتے کہا ’’سنیچر ایک بجے تک وہ گھر پر ہی تھا اور ایک بجے ماں نے اُسے کہا کہ گھرمیںچاول ختم ہوگیا ہے اوروہ فوراً چاول لینے کیلئے بازار نکلا لیکن واپس نہیں آیا‘‘۔اپنے بھائی کی یاد میں نڈھال بہن نے کہا ’’میرا بھائی مجھے بے حد پیا رکرتا تھا ،گذشتہ سال میں بہت زیادہ بیمار رہی لیکن اُس نے دن رات ایک کرکے میرا اچھے سے اچھا علاجہ و معالجہ کرایا اور کبھی غربت کا احساس نہیں ہونے دیا‘‘۔ اپنی بیٹی کے آنسو پونچھتے ہوئے محمد اکبر نے کہا’’گھر کی مالی حالت دیکھ کر میرے بیٹے نے بچپن میں سکول جانے کے بجائے مزدوری کا راستہ اختیار کیا اورجونہی جوانی میں قدم رکھا تو ایک نیا مکان تعمیر کرنے کا خواب بُنتا رہا ‘‘۔محمد اکبر نے مزید کہا’’بغیر چھت کے چار کمروں پرمشتمل وہ مکان بالآخر تعمیر ہوالیکن جس بچے نے اِسے تعمیر کرنے کیلئے نہ صرف دن رات خون پسینہ ایک کیا بلکہ بنک سے 90ہزار کا قرضہ(کے سی سی لون)بھی لیا ،آج خود زیرزمین ہے‘‘۔ ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے اِس غمزدہ باپ نے کہا’’ یوں سمجھ لیجئے کہ میرے بیٹے نے بچپن دیکھا نہ جوانی ‘‘۔ گھر کے سبھی افراد خانہ کا کہنا ہے کہ اللہ کے بعد الطاف ہی اُن کا واحد سہاراتھا۔ مرحوم کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ الطاف انتہائی محنتی اور تابعدار بچہ تھا۔ ایک پڑوسی نے کہا ’’اس بچے نے نہ صرف اپنے کھیل کود کے ایام ،بچپن اور تعلیم کو اپنے والدین اوربھائی بہن پر قربان کیا بلکہ اپنی چڑھتی جوانی کو قوم پر قربان کرکے نیک صفت ہونے کا ثبوت پیش کیا‘‘۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: