عاقب 15روز قبل عسکری میدان میں کود پڑا تھا

عید الفطر سے قبل عاقب کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ عنقریب وہ اس دنیا کو خیر باد کہنے والا ہے۔مہاراشٹر کے شہر پونے میں بی ٹیک میں ایک سال پڑھائی کرنے کے بعد اُس نے ناگام چاڈورہ میں دوکان کھولی اور اپنے والدین کی کفالت کرنے لگا۔عاقب نے صرف 15روز قبل عسکریت میں شمولیت اختیار کی تھی اور منگل کی شام جب فورسز نے اُس مکان کو گھیرا جس میں عاقب اپنے دو ساتھیوں سمیت پھنسا ہوا تھا تو اُس نے اپنی ماں کو فون پر یہ روح فرسا خبر سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ سرنڈر نہیں کرے گا۔
23سالہ محمد عاقب گل ولد غلام الدین ڈار ساکن عثمانیہ کالونی غوری پورہ صنعت نگرمنگل اور بدھ کی درمیانی رات کو رڈبگ مکہامہ ماگام میں فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں اپنے دو ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوا۔عاقب نے 12ویں جماعت پاس کرنے کے بعد پونے مہاراشٹر کے ایک کالج میں بی ٹیک میں داخلہ لیا تھالیکن ایک سال بعد ہی اُس نے نہ صرف پونا کو خیر باد کہہ دیا بلکہ تعلیم جاری رکھنے کا سفر بھی ترک کیا ۔عاقب کے لواحقین کے مطابق وہ انتہائی ذہین اور شریف بچہ تھا ۔عاقب کے ایک قریبی رشتہ دار نے کہا کہ عاقب کو کاروبار کی طرف مائل پاکر اُس کے والد نے اُسے حوصلہ افزائی کی اوراس ہونہار بچے نے ناگام چاڈورہ میں ہارڈ ویئرکی دوکان کھولی،جہاں وہ اچھی کمائی کررہا تھا۔ مذکورہ نوجوان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ عیدالطفر کے دوسرے دن یعنی27جون کو وہ اچانک غائب ہوگیا اور انہیں کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں گیا اور کیوں گیا۔انہوں نے کہا کہ بسیار تلاش کرنے کے باوجود جب کوئی اتہ پتہ نہیں چلا تو انہوں نے مقامی اخبارات میں اشتہار دے دیاجس میں عاقب سے گھر واپس لوٹنے کی گذارش کی گئی تھی۔ تاہم اشتہار شائع ہونے کے ایک ہفتہ بعد بعد منگل کی شام کو عاقب کی ماں کا فون بج گیا جو اِس ماں کیلئے کسی قیامت سے کم ثابت نہ ہواکیونکہ اُس نے علیک سلیک کے بعد ماں کو یہ روح فرسا خبر سنائی کہ وہ اپنے دو ساتھیوں سمیت رڈبگ (مکہامہ)میں ایک مکان کے اندر پھنسا ہوا ہے۔یہ خبر سنتے ہی ماں پر سکتہ طاری ہوا تاہم 15روز قبل عسکری میدان میں قدم رکھنے والے اِس نوجوان نے ماں کو ہمت کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ’’ماں ایسا محسوس ہورہا کہ میں زندگی کے آخری لمحات گن رہا ہوں لیکن مجھے بہت خوشی ہورہی ہے کہ میں شہادت کا جام پینے جارہا ہوں۔ماں فوج ہمیں سرنڈر کرنے کا مشورہ دے رہی ہے لیکن ہم سرنڈرکے بجائے موت کو ہی ترجیح دیں گے‘‘۔اس جملے کے ساتھ ہی فون کٹ گیا۔فون کٹنے کے ساتھ ہی ماں زاروقطاررونے لگی اور گھر میں ماتم چھاگیا۔عاقب کے والد غلام الدین ڈار اور اُن کے کئی عزیز و اقارب اُسی وقت اُس علاقے کی طرف دوڑ پرے جہاں جھڑپ جاری تھی تاہم انہیں گاؤں کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔رات بھر انتظار کرنے کے بعد بدھ کی صبح پولیس نے انہیں عاقب کی لاش سونپ دی اور8بجے صبح وہ لاش لیکر اپنے گھر پہنچے جہاں پہلے ہی سینکڑوں لوگ عاقب کے آخری دیدار کیلئے منتظر تھے۔گھر میں اپنے عزیز و اقارب کو آخری دیدار کروانے کے بعد اُسے جلوس کی صورت میں جامع مسجد غوری پورہ کے صحن میں پہنچایا گیاجہاں اُس کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔یہاں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد عاقب کو فلک شگاف نعروں کے بیچ حیدرپورہ چوک پہنچایا گیاجہاں ایک مرتبہ پھر نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اپنے محلے کے ہی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: