پرندوں کی دنیا کا درویش

علامہ اقبالؒ کے بارے میں اتنا لکھا گیا ہے کہ مزید لکھنا محض ایک خراج ہوگا اور بس ! اصل میں اقبالؒ پر دوران شاعری جو حال طاری ہوتا تھا وہ کئی ادوار پر محیط ہے۔ ان کے تصور دین نے جب انگڑائی لے کر عرفانِ الٰہی کے زم زم سے تزکیہ حاصل کیا تو جستجو ان کی راہگزر ، عرفان و قربت اُنکی رہبر اور طمانیت قلب ان کا قرار معتبر ٹھہرا۔ یہی وجہ ہے کہ پرندوں کی دنیا کے درویش کی اڑان دوسروں سے مختلف تھی۔ ان کی نظر سب سے بلند تھی ، ان کا نظریہ عظیم و عظیم تر تھا۔ درِ الٰہی پر سجدہ ریز اس بندہ خدا کی ہر سانس کے ساتھ خارج ہونے والا حرف حرف وحدت کی خوشبو سے معطر تھا اور عمل کا قدم قدم عشق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منور ! تبھی ان کے ذہن نے جو سوچا وہ کتابِ حیات ملت کے ہر ورق پر نور بن کر بکھرا اور دلوں میں ایسی تاثیر پیدا کی کہ ملت کا ہر فرد خصوصاً نوجوان شاہین کی مانند آسمانی دنیا میں ایک ایسے وقت میں اڑان بھرنے لگے جب ان کے پُر کاٹ دئے گئے تھے۔ یہ علامہ اقبالؒ کی’’اقبالیت‘‘ہی تھی کہ کم ظرفوں کے ظروف میں سوچ و اپروچ کی اتنی وسعت پیدا ہوئی کہ ظرف دنیا سمٹا سمٹا محسوس ہونے لگا۔ ایسا کیوں نہ ہوتا آخر اقبالؒ دامانِ نبوت کی پناہ میں آکر جوبے پناہ ہوگئے تھے۔ اقبالؒ محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ پیغامبر تھے۔ اس پیغام کے ماننے والے جس پیغام کے حامل سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اقبالؒ نے جب پیغامبر بننے کی ٹھان لی تو زانوئے ادب کو تہہ کرکے پیغمبر دو جہاں علیہ صلاۃ و سلام کے پیغام کے پیغامبر بنے۔ یوں انہوں نے اللہ کے بعد رہبر کامل ، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اطاعت کی اور فرمانبرداری کی ایسی مثال قائم کی کہ ہر چہ دیدم در جہاں غیرے تو نیست کی عملی تصویر بنے۔ اس حوالے سے کیا خوب فرمایا ہے کہ
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
درِ بنوی صلی اللہ علیہ وسلم کی گداگری جس مسلمان کو عنایت کی جاتی ہے وہ بظاہر فنائیت کے مقام پر آکر لافانی بن جاتا ہے اور پھر اس کی زندگی کا ہر پہلو بھی اسی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ علامہؒ کا کلام بھی اتنا لافانی ہے کہ ہر فانی لمحہ کو لافانی بنانے میں رہنمائی کرتا ہے۔ آج دنیا میں جہاں بھی دین ، قرآن ،توحید و رسالت کے حوالے سے کوئی بھی کام ہورہا ہے وہاں اقبالؒ اپنے کلام اور پیام کی وجہ سے اپنے لافانی ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں ۔ دنیا میں شاعر آئے اور چلے گئے اقبال خالص شاعر ہوتے تو آکر چلے جاتے مگر وہ آج بھی اپنے پیغام کی وجہ سے زندہ و پائندہ ہیں اور ملت کی رہبری و راہنمائی کررہے ہیں۔ کیونکہ عشق کے درد مند کے طرز کلام کا اثر ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: