ترقیاتی عمل کی کمزوریاں عالمی سطح پر بے نقاب

میزائل نہیں وینٹی لیٹرچاہئے
کورونا وائرس کی وجہ سے آج انسانیت دکھی ہے اور سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے۔ روزانہ ہزاروں جانیں تلف ہورہی ہیں لیکن طبی دنیا میں تاحال اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔یہ وائرس کب ختم ہورہا ہے ، کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ یہ وائرس امیر و غریب کا فرق کئے بغیر انسانوںکو موت کے منہ میںدھکیل رہی ہے۔ اب تک ہزاروں لوگ اس وباءکی وجہ سے جان کی بازی ہار چکے ہیںاور لاکھوں افراد متاثر ہوچکے ہیں۔کوئی دوا نہ ہونے کے باعث یہ اندوہناک سلسلہ جاری ہے۔ دنیابھر کے سائنسدان اور طبی ماہرین اس خطرناک وائرس کا علاج ڈھونڈنے کے لئے سرگرم ہیں۔ اب تک ویکسین نہ ہونے کے باوجود احتیاطی تدابیر سے بھی اس وباءکا شکار لوگوں کا علاج کیا جارہا ہے۔عالمی ادارہ صحت سمیت مختلف مستند ادارے صفائی ستھرائی اور سماجی فاصلہ اختیار کرنے اور لاک ڈاﺅن کرنے کی جو تجاویز دے رہے ہیں۔
ماہرین کہتے آ رہے ہیں کہ کسی بھی وقت کوئی عالمی وباءدنیاکو اپنی لپیٹ میںلے سکتی ہے۔ بل گیٹس نے2015میں کہا تھا کہ کوئی بڑی وباءدنیاکولپیٹ میں لے سکتی ہے۔ بل گیٹس کے علاوہ بہت سے لوگوں نے ایسی باتیں کی ہیں لیکن عالمی طاقتوں نے اپنے بجٹ کا کثیر ترین حصہ اسلحہ سازی کی صنعت پر خرچ کیا ، میزائل ،ٹینک اور ایٹم بم بنائے اور برسائے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس عالمی وباءنے اب بڑی بڑی طاقتوں کو یہ سوچنے پر مجبورکیا ہے کہ انہوں نے سامانِ حرب و ضرب پر بڑی بڑی رقومات خرچ کی ہیں لیکن نظامِ صحت پر کم پیسے خرچ کئے جس کی وجہ سے ہیلتھ کیئرسسٹم کمزور ہوتا رہا ۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاو کے باعث جہاں ابتدائی طور عالمی سطح پر فیس ماسک کی قلت دیکھی گئی، وہیں بعد ازاں دنیا بھرمیں وینٹی لیٹر یاد آگئے۔دنیا بھر میں وینٹی لیٹروں کے اعدادوشمار ظاہرکرتے ہیں کہ تمام جمہوری اور فوجی حکومتوں نے شعبہ صحت کو مکمل نظراندازکیا تھا۔وینٹی لیٹر کو لائف سیونگ مشین بھی کہا جاتا ہے یہ ایک ایسی مشین ہے جو سانس لینے میں دشواری محسوس کرنے والے مریض کی مدد کرتی ہے۔ یہ پھیپھڑوں میں آکسیجن پہنچاتی ہے جس کی وجہ سے مریض کو سانس لینے میں آسانی ہوجاتی ہے۔یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کورونا وائرس کا حملہ انسان کے پھیپھڑوں اور نظام تنفس پر ہوتا ہے۔ وینٹی لیٹر دستیاب ہونے کی صورت میں مریض کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ وینٹی لیٹر امریکہ کے پاس ہیں جن کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے۔ اس کے باوجود حکام اور ماہرین صحت پریشان ہیں کہ کورونا وائرس کے حملے پر قابو پانے کیلئے یہ تعداد کافی نہیں۔
کورونا وائرس کے حملے کے بعد پوری دنیا میں وینٹی لیٹر کی اہمیت بڑھ چکی ہے اور ہر ملک زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس کے حصول کیلئے تگ و دو کررہاہے۔ وینٹی لیٹر بنانے والی کمپنیوں کو اتنے آرڈر مل رہے ہیں جو وہ اپنی استعداد بڑھانے کے باوجود مہینوں تک پورے نہیں کرسکیں گی۔امریکہ کی کار بنانے والی کچھ کمپنیاں اب وینٹی لیٹر بنانے میں لگ گئی ہیں تاکہ کورونا وائرس سے لوگوں کو بچانے میں کردار ادا کرسکیں۔ یورپ میں بھی گاڑیاں اور دوسری مشینیں بنانے والے ادارے تیزی سے وینٹی لیٹر تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہورہے ہیں۔یہ بات اب اظہر من الشمس ہے کہ اس وباءکے خلاف جنگ میں ایٹمی طاقتیں بھی پریشان نظر آرہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جنگ لڑنے کیلئے ایٹم بم، میزائل، لڑاکا طیارے اور ٹینک نہیں، وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے۔
روزنامہ کشمیر عظمیٰ کی ایک رپورٹ کے مطابق وادی کشمیرمیں 70لاکھ کی آبادی کیلئے صرف 123 وینٹی لیٹر دستیاب ہیں جن میں97 میکنکل اور 24پورٹیبل وینٹی لیٹر ہیں۔فی الوقت کشمیرمیں بھی کورونا نے اپنے پنجے گاڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے اور روز کسی نہ کسی علاقے سے اس وباءمیں مبتلا افراد کی تعداد میںاضافہ ہورہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کے حکام اس بات کا دعویٰ کررہے ہیں کہ انکے پاس 123وینٹی لیٹر ہیںلیکن حقیقت یہ ہے کہ محکمہ ایسے وینٹی لیٹر بھی گن رہا ہے جو ناکارہ ہوچکے ہیں۔وادی میں اگر کورونا میں مبتلا افراد کی تعداد اسی طرح بڑھتی گئی جس طرح فی الوقت بڑھ رہی ہے تو اسپتالوں میں نازک مریضوں کے لئے وینٹی لیٹر دستیاب نہیں ہونگے۔آبادی کے تناسب سے اگر دیکھا جائے تو کشمیر میں57ہزار لوگوں کے لئے صرف ایک وینٹی لیٹر دستیاب ہے جو انتہائی پریشان کن صورتحال ہے اوراگر اس وباء(کوروناوائرس)کے مریضوں کی کچھ تعداد کو انتہائی نگہداشت والے وارڈوں میں داخل کرنا پڑے گا توصورتحال گھمبیر ہوسکتی ہے۔ یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ ارباب اقتدارنے شعبہ صحت کو استوار کرنے کے بجائے صرف اپنی تجورہاں بھردی ہیں۔
پچھلے 10برسوں میں سارس،زیکا، ایبولا اورH1N1 جیسے وائرس انسانی زندگیوں کو اجیرن بناچکے ہیں لیکن کورونا وائرس کی موجودگی نے نہ صرف دنیا کی طبی صورتحال،معیشت اور معاشرت کو تباہ کرکے رکھ دیا بلکہ ناگزیر طبی سہولتوں کے حوالے سے امریکہ و برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک سمیت بلاامتیاز ہر ملک کو ایکسپوز کرکے رکھ دیا ہے۔امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور ہے جواپنے جدید اسلحہ اور مضبوط معیشت کے بل بوتے پر دنیا پر مسلط ہے ،کسی بھی ملک کو تسخیر کرنے کے زعم میں مبتلاہے مگر کورونا وائرس نے اس کا ساراغرور خاک میں ملا دیا ہے۔ وہ اپنے شہریوں کو اس وباءکی آفت سے بچانے سے قاصر ہے۔
کورونا وائرس کا بحران ختم ہونے کے بعد بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی تمام کاوشیں صحت کے شعبے کی بہتری کے ساتھ منسلک کی جانی ضروری ہیں۔ دنیا کو نئے حالات کی مطابقت سے محدود قومی سوچ کو خیر آباد کہتے ہوئے وسیع تر تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ابھی کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ صورتحال کتنی بگڑ سکتی ہے اور کب تک حالات ایسے ہی رہیں گے۔امریکہ جیسے طاقت ور ملک میں بہت سے لوگ خوفزدہ ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کیسے اندرونی طور پر کمزور دکھائی دیتی ہے۔یہ وہ ملک ہے جو دنیا کے کسی کونے میں کچھ بھی ہو رہا ہو اس پر تبصرہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا اور اس کے رہنما اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے پیچھے نہیں رہتے۔ امریکی صحافی ڈیوڈ ویلاس ویلس اپنے ایک کالم America is broken میں رقمطراز ہیں کہ کتنا افسوسناک ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس کا نظام نجی کمپنیوں اور مخیر افراد کے ہاتھوں یرغمال ہو کر رہ گیا ہے اور ضرورت کے اس وقت بھی اس وباءسے متعلق ضروری طبی امداد فراہم کریں گے۔اگرچہ وائٹ ہاؤس کے صحن میں کھڑے ہو کر صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ملین کے حساب سے ماسک تیار کئے جارہے ہیں تاہم زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔انہوںنے عوام کو مشورہ دیا کہ اگر وائرس سے بچاﺅ کیلئے ماسک نہیں ملے تو اسکارف بھی استعمال میں لاسکتے ہیں ۔
ہندوستان کے سابق ہیلتھ سیکریٹری کے سجاتا راﺅ کا کہنا ہے کہ متعدی امراض کا وقت پر علاج ڈھونڈنے کیلئے تحقیق اور ترقی پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ہی ایک جامع اور طویل مدتی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک اس سمت میں مناسب قدم اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں شعبہ صحت پرجی ڈی پی کا ایک فیصد خرچ ہوتا ہے جبکہ تحقیق اور ترقی پر اس سے بھی کم خرچ کیا جاتا ہے۔راﺅ کے مطابق وائرولوجی سمیت بنیادی سائنس کے شعبے میں تحقیق اور ترقی کی ضرورت ہے،نہ صرف صحت کے بجٹ کو دوگنا کرنا ہوگا بلکہ تحقیق پر الگ سے ایک بڑا بجٹ مختص کرنا ہوگا۔
حکومتیں بہترطبی نظام کیلئے کیسے اقدامات کریں گی ،یہ آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا البتہ کوروناوائرس سے روز بروز بڑھتی تعداد اس بات کی دعوت دے رہی ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں احتیاطی تدابیر کا دامن اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑا علاج احتیاط ہے جو حفظانِ صحت کیلئے انتہائی اہم اصول شمار کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: