اندیشے خود اعتمادی کیلئے زہر ہلاہل

وبائی صورتحال میں مثبت سوچ اپنائیں

کورونا وائرس رنگ و نسل اور قوم و مذہب کا امتیاز کئے بغیر پوری دنیا میں حملہ آور ہوچکا ہے ۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن سے لے کر پرنس چارلس تک یہ وائرس اعلیٰ طبقہ کے سینکڑوں لوگوں کو اپنا نشانہ بناچکا ہے۔دنیا اس کوشش میں ہے کہ اس وائرس پر جلد از جلد قابو پایا جاسکے۔ یہ مقصد نہ صرف اس صورت میں پورا ہوسکتا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک ایک دوسرے سے تعاون کریں بلکہ ان ملکوں میں رہنے والے لوگ بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا کردار ادا کریں۔

یہ بات درست ہے کہ اس وباء سے معاشی تباہی آنے والی ہے۔دنیا کساد بازاری کے ایک طویل دور سے گزر کر تیز تر معاشی سرگرمی کے دورمیں د اخل ہورہی تھی لیکن اس وباء نے دیکھتے ہی دیکھتے معاشی ترقی کے تمام امکانات تہس نہس کردئے۔ بہت سی کمپنیاں اور صنعتیں دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔یہ مسئلہ کس قدر سنگین ہے اور لوگوں کو کیا کچھ سوچنے پر مجبور کررہی ہے، اس کا اندازہ مائکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کے خیالات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں سب برابر ہیں، خواہ ہم غریب ہیں یا امیر، یہ وائرس ہم میں کوئی امتیاز نہیں کرتا۔دنیا کے اس امیر ترین شخص کا کہنا ہے’ چونکہ ہم سب کا دکھ درد ایک جیسا ہے اور ہمیں یہ سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد کیاہے‘۔
بچپن سے ہم یہ سنتے آرہے ہیں کہ ’اچھا سوچو، اچھا ہوگا‘۔ گو کہ سننے میں یہ بات اتنی مؤثر نہیں لگتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معلوم پڑتا ہے کہ یہ کوئی عام مقولہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ انسان پراس کے ماحول، حالات اور سوچ کے بہت گہرے اثرات ہوتے ہیں۔ انسانی سوچ نہ صرف جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے بلکہ اس کے اثرات دوسرے لوگوں پر بھی ہوتے ہیں۔ اچھی اور مثبت سوچ کے حامل افراد کے جسم میں سے مثبت لہریں نکلتی ہیں جو آس پاس کے ماحول، افراد اور چیزوں پر اثرانداز ہوتی ہیں جبکہ منفی سوچ، اضطراب اور اس قسم کے دیگر خیالات انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ماحول کیلئے بھی نہایت نقصان دہ ہیں۔
انسانی ذہن پر ہر لمحہ سوچوں کا بہت زیادہ غلبہ رہتا ہے۔ یوں کہنا چاہئے کہ انسان کی زندگی کا ہرزاویہ اس کی ذہنی سوچ سے ہی جنم لیتا ہے۔اسی سوچ سے انسانی جذبات کی پرداخت ہوتی ہے اوران جذبات کی بنیاد پر ہی انسان کا ہر عمل ہمارے سامنے آتا ہے۔ذہن کا زاویۂ فکر دو قسم کا ہوتا ہے ، ایک منفی اور دوسرا مثبت۔ مثبت سوچ ہمیشہ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے جبکہ منفی سوچ ناکامی اور نامرادی کی طرف دھکیل دیتی ہے اور زندگی کی چمک دمک کو تاریکی میںبدل دیتی ہے۔ یہ سب صرف سوچوں کا ہی کھیل دکھائی دیتا ہے۔
کہتے ہیں کہ سوچ ایک مقناطیس کی طرح ہے۔ اچھی سوچ، اچھے نتائج کو اور بری سوچ برے نتائج کو کھینچ لیتی ہے۔اس وبائی صوتحال میں بھی یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بناسوچے سمجھے ایسا کچھ نہ کہیں یا کوئی افواہ نہ پھیلائیں کیونکہ ہمارے منہ سے نکلا کوئی ایک برا لفظ بھی سماج کو پریشانیوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔
امریکہ کی ایک شاعرہ امیلی ڈکنسن نے ’لفظ‘ کی کچھ یوں تشریح کی ہے ’اس جہاں میں کچھ ایسا نہیں جو لفظوں سے زیادہ طاقتور ہو۔ بعض اوقات میں ایک لفظ لکھتی ہوں اور اسے تکتے رہتی ہوں یہاں تک کہ وہ چمکنے لگتا ہے‘۔ لفظوں کی طاقت اور ان کا اثر ایک حقیقت ہے، لفظوں میں زندگی ہوتی ہے۔ ان کا ایک مزاج ہوتا ہے اور یہ جس کے کانوں سے ٹکرائیں، نظروں سے گزریں اپنا اثر چھوڑے بنا نہیں رہتے۔مشکلات اور پریشانیوں سے لڑنے کیلئے سب سے پہلے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہے بہتر سوچ اور مثبت خیال، جتنا آپ اپنے آپ کو مثبت اور بہتر سمجھیں گے ویسے ہی نتائج آپ کی صحت، زندگی اور سماج پر نظر آئیں گے۔منفی سوچ میں اندیشے سرفہرست ہوتے ہیں۔اندیشے ہماری خود اعتمادی کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔انسان کو اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیوں کے سوائے اور چاہیے بھی کیا؟ ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ مثبت رویوں سے مشکل صورتحال میں کامیابیاں سمیٹیں۔
عالمی ادارہ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او نے بھی کورونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلاؤ کے دوران ذہنی صحت کے حوالے سے تفصیلی سفارشات جاری کی ہیں اور کورونا وائرس کے مریضوں، ہیلتھ ورکروں اور قرنطینہ جیسے مراکز کے منتظمین کو اپنی اور خود سے منسلک دیگر افراد کی ذہنی آسودگی کا خیال رکھنے کی تجاویز دی ہیں۔ ان تجاویز کے مطابق عام لوگ دن میں ایک یا دو بار خبریں سنیں یا سوشل میڈیا پر وائرس سے متعلق مستند خبریں پڑھیں۔ حقیقت اور افواہ میں فرق کرنے کیلئے صحت کے عالمی اداروں یا مقامی مستند صحت مراکز کی خبروں کے سوشل پلیٹ فارموںکا رخ کریں۔کئی ماہرین نفسیات کا بھی مشورہ ہے کہ خبریں زیادہ نہ سنی جائیںبلکہ چندمستندویب سائٹس سے خبریں سنیں اور دیکھیں۔ ایسی ویڈیوز، خبریں، پیغامات اور سوشل میڈیا کی پوسٹس نہ دیکھیں جو سنسنی پھیلاتے ہوں۔
انسان کے ذہن میں خیالات کاپیدا ہونا قدرتی رجحان ہے مگر ان خیالات کو عملی جامہ پہنانا تو انسان کے اپنے اختیارمیں ہوتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ایک بیان کے مطابق اس عالمی وباء کے دوران ذہنی حالت پر نقصان دہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہونا چاہئے کہ انسان اب اس کورونا دہشت کی وجہ سے اپنے آپ کو بھول جائے،سماج کے تئیں اپنے حقوق کو بھول جائے۔ بہترین زندگی کا انحصار اپنے وقت کو درست استعمال کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ زندگی ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں اسلئے زندگی کو اتنا مصروف بھی نہ کیجئے کہ آپ کے پاس کچھ سوچنے کا وقت ہی نہ ہواور نہ ہی اتنا فارغ رہئے کہ اچھا سوچتے سوچتے منفی سوچنا شروع کردیں۔زیادہ فارغ بیٹھنا بھی اچھی بات نہیں کیونکہ خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے اور پھر اس گھر میں ایسے خیالات بھی اپنی جگہ بنا سکتے ہیں جو شیطان چاہے گا، شیطان کو ہرانے کیلئے اپنے وقت کو مثبت بنائے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے رشتہ داریا دوست احباب آپ سے ملنے سے پرہیز کریں تو ایسے میں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے بات کریں مگر بات ضرور کریں۔کورونا وائرس کے مریضوں کے ساتھ بالواسطہ یا بلا واسطہ رابطے کے دوران ذہنی دباؤ ایک قدرتی عمل ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کمزور ہیں ۔حقیقت میں ہماری زندگی ایک فلم کی مانند ہے جس میں خوشیاں ، سکون و اطمینان، مصائب و مشکلات سب کچھ موجود ہوتا ہے اور ان کا دارومدار ہمارے انتخاب اور انداز فکر پرمنحصر ہوتا ہے۔یہی نہیں مثبت سوچ انسان کو روشن خیالی کی طرف لے جاتی ہے۔ ہم اپنے طرزفکر کی بنا پر اپنی زندگی کو خوشیوں سے آراستہ کر سکتے ہیں یا پھر غموں سے پامال بھی کرسکتے ہیں۔ اپنی سوچوں کو منظم کرنا سیکھیں۔ جب آپ کی سوچیں منظم ہوں گی تو آپ کے اعمال بھی اسی طرح منظم ہوں گے۔
ایسی سرگرمیوں کو اپنی روز مرّہ زندگی کا حصہ بنائیں جو ذہنی دباؤ سے نکلنے میں مدد دے سکیں، جیسا کہ صحت مند خوراک کھائیں، کام کے دوران وقفہ لیتے رہیں، اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے بات کرتے رہیں، جسمانی سرگرمی جیسا کہ ورزش وغیرہ کیلئے وقت نکالیں ۔عمر رسیدہ اشخاص زیادہ غصہ اور پریشانی کا اظہار کر سکتے ہیں، ایسے میں تحمل کا مظاہرہ کریں اور ان کی دلجوئی کریںاور ایسے افراد کو آسان اور سادہ زبان میں بتائیں کہ کورونا وائرس کیا ہے اور اس سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
ایک دوسرے سے نہ صرف کہیں بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی دیں کہ ہم اس مصیبت میں سب ساتھ ہیں۔ گھبرا کر راشن یا دیگر اشیائے ضروریہ کی کی ذخیرہ اندوزی نہ کریں اسلئے کہ اس سے مسئلہ بڑھے گا اور سب کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی۔ ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھائیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کا پڑوسی کسی چیز سے محروم نہ رہے۔ احتیاطی تدابیر ضرور کریں جیسا ہاتھ دھونا اور گھر سے باہر ماسک کا استعمال وغیرہ مگر ایک دوسرے کو یہ حوصلہ دیں کہ وباء آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے اور انسانی جسم اس کے خلاف تیار ہو رہا ہے۔
یاد رکھیںبہار کی امید ہر رات کا سویرا ہے، اندھیرے کے بعد اجالے نے آنا ہی ہے۔ ہمیں روشن پہلو کی طرف ہی غور کرنا ہے۔ جیسے ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں ایک رخ بالکل تاریک ہوتا ہے وہاں کچھ نہیں ہوتا دوسرا رخ تصویر کا روشن پہلو ہوتا ہے۔ اس پر کچھ نہ کچھ نظر آرہا ہوتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: