گلوبل ولیج وسیع جیل میں تبدیل

انفرادیت اور سماجی فاصلوں کو پروان نہ چڑھائیں

ماضی قریب میں عالمی سطح پریا عالمی سیاست میں مختلف پیش رفتیں سامنے آچکی ہیں۔نائن الیون کے بعد عالمی نظام کو سیکورٹی بحران کا سامنا کرنا پڑا اوربعد ازاں کچھ ایسی طاقتوں نے جنم لیا جس کے نتیجے میںمختلف ممالک میں یہ بحران مزید طول پکڑ گیا۔ سال 2008 میں پوری دنیا کو مالی بحران سے نبردآزما ہونا پڑالیکن تین ماہ کے قلیل عرصے میں پوری دنیا میں سرایت کرنے والے کورونا وائرس نے عالمی نظام کو گہرائیوں سے متاثر کیا ہے ۔عالمی معیشت کو خطرات سے دوچار کر دیا بلکہ ایک نئے عالمی بحران کے جنم لینے کی توقعات میں بھی بتدریج اضافہ ہوا ہے۔اس وباء کے سماجی و اقتصادی اثرات دیگر اثرات کی طرح بہت زیادہ اور دور رس ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے دنیا بھر کے لوگ قرنطینہ کا شکار ہیں ۔یہ مہلک وباء توقعات اور ظاہری حیثیت سے کہیں زیادہ بڑھ کر کسی سنگین بحران کی جانب بڑھنے کا اشارہ دے رہا ہے ۔

اس وائرس نے اب تک دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کو محصور ہونے پر مجبور کر دیابلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اس وقت گلوبل ولیج ایک گلوبل جیل میں تبدیل ہوا نظر آرہا ہے تو بیجا نہ ہوگا ۔ انفرادیت اور سماجی فاصلوں کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے اثرات و دورانیہ کے بارے میں متفرق آراء پائی جارہی ہیں اور دنیا پراس کے کیا اثرات ہوں گے؟ اس بارے میں شیکسپیئر کے مشہورناول ہیملٹ کی ایک لائن ’’to be or not to be‘‘ کے تناظر میں کچھ حتمی کہنا قبل از وقت ہوگالیکن اس کے اثرات کو جانچنا جتنا مشکل ہے، ان کے بارے میں آگاہی اتنی ہی آسان ہے تاکہ دنیا میں احتیاطی تدابیر اور میڈیکل ریسرچ پر زور دیا جائے اور اس وباء کے خلاف عالمی برادری کو مل کر مقابلہ کرنے کیلئے متحد کیا جائے تب ہی دنیا کو اس وائرس کے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔
وبائیں پہلے بھی پھیلتی رہی ہیں، موت نے پہلے بھی سر اٹھائے ہیں، گلی گلی پہلے بھی جنازے اٹھے ہیں، خوف کے بھیانک سائے پہلے بھی پنجے گاڑ چکے ہیں مگر اس بار تو نرالی وبا ء پھیلی ہے۔اس بار انسان موت سے نہیں بلکہ انسان انسان سے ڈر رہا ہے۔وبائیں زندگیاں چھینا کرتی تھیں، اِس نے تو محبتیں ہی چھین لی ہیں۔ انسانوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں، دوریاں دو چند ہورہی ہیں۔ سماجی رویوں پر بہت زیادہ اثر ہوا ہے۔
 لوگ ایک دوسرے سے سماجی فاصلے (  Social Distance) کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کو اقوام متحدہ نے جسمانی فاصلے ( distance Physical ) کے طور پر گرداننے کی اپیل کی ہے۔ اس مشکل وقت میں احتیاط ضروری مگر انسانی قدروں کو بھولنا غیر مناسب ہے۔اپنے اردگرد مریضوں، بے روزگاروں اور غرباء کا خیال رکھنا نہ صرف ہمارا اولین بلکہ ملی و مذہبی فریضہ بھی ہے ۔
اس وباء کو بالآخر ختم ہونا ہے ۔ماضی کی کوئی وبا ء بھی دائمی نہیں رہی ہے۔ آپ اس وباء کو اللہ کا عذاب کہیں، قدرت کی پکڑ شمار کریں، روئے زمین پر کوئی جان لیوا بیماری سمجھیں یا حیاتیاتی جنگ کی کوئی شکل قرار دیں البتہ یہ بات طے ہے کہ اب ایک بدلی ہوئی دنیا ہوگی جس کے تقاضے بھی پہلے سے مختلف ہوں گے۔ اس وباء نے صرف سوچ اور طرز معاشرت ہی نہیں بدلی، معیشت اور انفرادی و اجتماعی نظام زندگی کوبھی بدل دیا ہے۔
تاریخ ِ نوعِ انسان ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے انسانی تاریخ میں اپنے مستقل نقوش چھوڑے ہیں۔ ان چند پر اثر اور تاریخی واقعات میں 1918ء میںسپین سے پھیلنے والافلو (   Spanish Flu) ، گریٹ ڈپریشن ( Great Depression )، نیو کلئیر انرجی (  Nuclear Energy)، نائن الیون اور معاشی تنزلی(Economic Crisis 2008  )، ایڈز، کینسر جیسے واقعات نمایاں ہیں۔ان تمام واقعات نے عالمی ترجیحات کو مسائل کی صورت میں آزمایا اور بنی نوع انسان کی صلاحیتیوں کو مزید نکھارا۔ اسی طرح کورونا وائرس نے آج کے دور میں عالمی ترجیحات اور انسانوں کی صلاحیتوں کو آزمانے کی سعی کرلی ہے۔ ہر نئے دور میں مسائل کو پرکھنے اور مقابلہ کرنے کیلئے عالمی رویوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ایسے نظریات کے منفی کرداروں کو پھیلنے سے پہلے ہی دفن کیا جا سکے جو انسانی تہذیب و تمدن کے حسین ارتقاء کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
وادی میں کورونا وائرس سے شفایاب ہونے والے مریضوں کے ساتھ غیر مناسب سلوک کی خبریں آئے روزسامنے آرہی ہیںجویقینی طور پر پریشان کن ہے حالانکہ طبی ماہرین بار باریہ کہتے آرہے ہیں کہ اس وباء سے صحتیاب ہونے کے بعد مریض معمول کی زندگی جی سکتا ہے۔اگرکورونا متاثرین صحتیاب ہونے کے بعد بھی صحت مند اور معمول کی زندگی گزارنے کے قابل نہ ہوسکیںاور سماج میں اُن کے تئیںجسمانی دوری کوسماجی دوری میں بدل دیا گیا تو معاملہ کوروناوائرس سے بھی مہلک ثابت ہو سکتاہے۔
ہمارا معاشرہ سماجی و اخلاقی اقدار سے دن بہ دن عاری ہوتا جارہا ہے۔ کل تک ہماری اقدار یہ تھیں کہ محلہ بھر کو اپنے گھر کی طرح سمجھا جاتا تھا ، جہاں ایک دوسرے کے درد کو محسوس کیا جاتا تھا ، دکھ سکھ بانٹے جاتے تھے مگر آج ہماری بستیاں تو ایک طرف اپنے گھر بھی ہمیں تحفظ کا احساس نہیں دلاتے۔ہر انسان اپنی ذات کے خول میں بند ہوکر انسان کی سماجی جاندار والی شناخت کھوچکا ہے۔
 آج کل ہر جگہ آپ کے کانوں سے یہ جملہ ٹکرا سکتا ہے کہ ’Mind your own business ‘یعنی اپنے کام سے کام رکھو۔ اس کی شروعات سماجی سطح پر ہوئی ہے۔ پہلے لوگوں نے سماجی سطح پر برے لوگوں اورپھر ان کے برے معمولات سے یہ کہہ کر صرف نظر کرنا شروع کردیا کہ اْس کا کام اْس کے ساتھ ، اس سے ہمیں کیا مطلب!لیکن اب یہ ایک وباء کی شکل اختیار کرچکا ہے بلکہ معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔معاشرتی مسئلہ ایک ایسی حالت ہے جو معاشرے کی اعلیٰ اقدار کے زوال کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اگر معاشرہ کوشش کرے تو یہ حالت سْدھر سکتی ہے۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ آج دنیا کی قیادت ان ممالک کے ہاتھ میں ہے جو جدید علوم و فنون پر دسترس رکھتے ہیں۔ جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر کسی بھی معاشرے کے ترقی یافتہ ہونے کا خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
کورونا وائرس نے انسانی عقل کے ان تمام منفی پہلوؤں کو مات دیتے ہوئے انسانی ارتقاء کی بقاء کے اصول سیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس مشکل وقت میں انسان نے اپنی مرضی کو خدا اور قانون کے تابع کرنے کی مشق کی ہے جو کہ عموماً انسانی رویوں اور سماجی تعاون میں نظر نہیں آتی ہے اور آئے دن اخلاقی و مذہبی قدروں کو یکسر بدلنے کی کوششیں نظر آتی ہیں۔دوسری طرف قدرت نے انسان کو قدرتی آفت کے ذریعے ماحول کی حفاظت کا درس دیا ہے۔ کورونا وائرس نے دھوئیں کے کارخانے بند کروا دئے ہیں اور انسان کی ان تمام سماجی و معاشی کوششوں کو منسوخ کر دیا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ بن رہی ہیں۔ انسان نے مشینوں کے اس دور میں قدرت کے رنگوں کو سمجھا ہے اور رشتوں کی لذت سے واقف ہوا ہے۔عالمی اداروں اور سماجی سائنسدانوں کو ایک ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو انسان کو ماحول دوست بننے پر مجبور کر دے اور ماحول دوست نظریات کے اطلاق پر اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار کرے۔
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ عالمی سیاست کو کورونا وائرس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی مسائل صرف باتوں یا چند لوگوں کی نیک خواہشات سے حل نہیں ہوتے ۔ اگر دنیا نے ہر صدی میں اٹھنے والے واقعات سے سبق نہ لئے تو وہ دن دور نہیں جب انسان اپنے ارتقاء کا گلا خود اپنے ہاتھوں سے دبا کر خود کو کسی پتھر کے دور میں بند کر لے گا جہاں انسانی تہذیب و تمدن کا حسین ارتقاء ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ ہم میڈیکل سائنس، معاشی سائنس، سوشل سائنس، کمپیوٹر سائنس وغیرہ کی تعمیر نو کن اصولوں پر کرتے ہیں جس سے آنے والے کسی بھی المیہ چاہے انسانی وار فئیر ہو یا قدرتی آفت ہو خود کو کتنا تیار کر پاتے ہیں ۔کیا ہم ہر بارکسی واقعہ کے بعد اپنی تیاری شروع کریں گے یا پہلے سے خود کو اتنا تیار کریں گے کہ کوئی بھی المیہ انسانی تہذیبی ارتقاء میں داخل ہونے سے پہلے سو بار سوچے کہ کس تخلیق سے الجھنے کی جسارت کرنے لگا ہے۔
کورونا وائرس انسانی ارتقاء کی تاریخ میں اپنے نقش چھوڑ جائے گا اور جلد باقی واقعات کی طرح تاریخ کا حصہ ہو گا مگر اہم بات یہ ہوگی کہ’ہم نے کیا سیکھا؟‘

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: