مثالی معاشرہ کی تشکیل نجات کی راہ

آج جیسا بوئیں گے، کل ویسا ہی کاٹیں گے
ذاتی مفادات کیلئے تو ہر آدمی کام کرتا ہے لیکن عظیم انسان وہ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی دوسروں کیلئے وقف کردیتے ہیں۔ ایک دوسرے کے کام آنا ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کا آغاز ہے۔معاشرہ مثبت یا منفی طرزِ عمل اپناتا ہے تو ہمارے مجموعی رویے بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ پاتے ہیں۔مثبت معاشرتی رجحانات ہمارے رویوں پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ ہم نرم لہجہ اپناتے ہیں، صلح رحمی سے کام لیتے ہیں، درگزر کی عادت اپناتے ہیں، دوسروں کی مدد کا جذبہ پاتے ہیں۔ اس کے برعکس منفی معاشرتی رجحانات ہمارے مجموعی رویوں کوتباہی کی سمت میں ڈال دیتے ہیں۔

مثالی معاشرہ بے شک پُر خلوص انسان ہی تشکیل دیتے ہیں اگر فرد مثالی ہو گا تو ایک خوبصورت معاشرے کی تشکیل ہوگی۔معاشرے کی تشکیل حکمرانوں کے اندازِ حکمرانی کی محتاج نہیں ہوتی۔ معاشرہ منفی یا مثبت کوئی بھی روش اپناتا ہے تو وہ معاشرتی اکائیوں کی مدد سے پاتا ہے۔عوام، ارباب اختیار، سرمایہ دار، مزدورسب معاشرے کی اکائیاں شمار ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی اگر یہ کہے کہ معاشرہ حکمران بناتے ہیں، یا یہ کہے کہ صرف عوام ہی معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں تو سراسر غلط ہے۔ اسی طرح اکیلا سرمایہ دار یا مزدور بھی معاشرے کی تشکیل نہیں کرپاتا۔ تمام اکائیاں ایک ربط میں آپس میں جڑ جاتی ہیں تو معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔مثبت معاشرہ تشکیل پاتا ہے جب ان اکائیوں کا باہمی ربط ہموار ہوتا ہے۔ سرمایہ دار مزدور کا خیال کرتا ہے، ، حاکم رعایا کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آتا ہے۔ اور معاشرہ منفی رجحانات اپنانا شروع کردیتا ہے اگر انہی اکائیوں کا باہمی ربط الجھا ہوا ہو۔ یعنی سرمایہ دار مزدور کا استحصال شروع کردے، عوامی خواہشات کو کچلنا عادت بنالیا جائے، حکمران رعایا کو ضروریات و حقوق دینے کے بجائے ان کے حقوق غصب کرنا شروع کردے۔
بلاتفریق ایک دوسرے کی مدد کرنا تمام معاشروں کا خاصہ ہے۔ دنیا کا یہ ضابطہ ہے کہ کوئی انسان تنہا زندگی بسر نہیں کرسکتا۔ ہرانسان زندگی بسرکرنے میں دوسرے انسانوں کا محتاج ہے۔ ہر انسان کی زندگی دوسرے انسانوں کے تعاون کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے اورتعاون لیتے ہوئے ہی انسان کو زندگی کا سفر طے کرنا پڑتا ہے اور ایک مثالی معاشرہ وہی ہوتا ہے، جس میں تمام انسان ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے اورحاجت مندوں کی ضرورت کو پورا کرتے زندگی گزارنے کو اپنا فرض سمجھے۔ سماجی زندگی میں انسان ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں اور یہی اعتماد اور سچائی انسانی معاشرہ کی اہم نشانی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کوروناوائرس نے دنیا بھر کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ اس وباء نے ہمارے نظام میں موجود نا انصافیوں، کمزوریوں اور کوتاہیوں کو سب کے سامنے آشکار کردیا ہے۔ آج کی دنیا میں امیر کی دولت کا شاید ایک صفر کم ہوا ہو لیکن غریب کی زندگی صفر ہوگئی ہے۔کورونا کے خلاف یہ جنگ جلد یا بادیر جیتی ہی جائے گی لیکن اس فتح کے بعد چیلنجز کی ایک طویل فہرست دنیا کی منتظر ہوگی۔ ان نئے چیلنجز کا مقابلہ کسی ایک قوم کے لئے تنہا کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ لہٰذا کورونا کے بعد کی دنیا کے لئے سب کو ابھی سے تیاری کرنا ہوگی۔ ہمیں نئی دنیا کے نئے انداز قبول کرنے کیلئے ابھی سے تیار رہنا ہو گا۔اللہ نہ کرے کہ کورونا کے بعد بھوک کی وباء دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے۔
اس عالمی وباء نے توامریکہ اور افریقہ کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ آج دنیا کا امیر ترین خطہ بھی اتنا ہی بے بس ہے جتنا کوئی غریب ترین خطہ۔ آج مزدور کورونا کا شکار ہے تو وزیراعظم بھی اس وائرس کا شکار ہے۔ہمیں وائرس کے اس سبق کو مثبت انداز میں لینا چاہئے اور دنیا سے عدم مساوات کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکا ہوگا ۔
ایسے حالات میں ایک سوال جو تحقیقی حلقوں میں گردش کر رہاہے وہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی؟یقینا یہ ایک اہم سوال ہے کہ جس نے ہر ذی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔ ممکن ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمہ کی بعد کی دنیا کو ایک نئے عالمی نظام اور نئی صورتحال کا سامنا ہو۔جیسا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد دوسری جنگ عظیم اور پھر سوویت یونین کے بعد ایک نیا عالمی نظام وجود میں آیا۔آج جو کچھ وقوع پذیر ہو رہا ہے وہ ماضی کی تمام عالمی جنگوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہ (وائرس) دنیا میں ہر خطے اور ہر جگہ میں داخل ہو چکاہے۔
ایک چیز یقینی ہے کہ اس ساری صورت حال میں سب سے زیادہ غریب اور کم آمدن والے طبقات متاثرہوں گے لہٰذا صاحب اختیار لوگوں کو سب سے زیادہ ان کی فکر کرنا ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے خون پسینے سے آج دنیا کو اس طاقتور مقام پر پہنچایا ہے۔ اس صدی کے شروع میں سامنے آنے والی عالمی کساد بازاری کو انہی لوگوں نے اپنی محنت سے انجام دیا تھا۔ اگر ہم نے مل کر انہیں بچا لیا تو یہ بھیانک خواب جلد ختم ہو جائے گااور شائد اسی لئے معاشرے تشکیل پاتے ہیں۔
ہم مسلمان جنہیںاسلام دکھی انسانیت کی خدمت کا باقاعدہ حکم دیتا ہے، ہم پر تو دکھی انسانیت کی خدمت کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہوجاتا ہے۔ اسلام کی حقوق العباد کی تعلیمات معاشرتی ذمہ داریوں اور انسانی فلاح وبہبود کی مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے بہت بڑی رقم خرچ کرنا ضروری نہیں، بلکہ جس کے پاس جتنی استطاعت ہو، وہ خدمت خلق کرسکتا ہے۔ ہم لوگ اپنی زندگی کی سہولیات کو بڑھانے کیلئے اتنے زیادہ پیسے خرچ کردیتے ہیں، جس میں سے اگر تھوڑا سا بچایا جائے تو بہت سے گھرانوں کی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔
آج مفلس، نادار، غریب افراد منفی معاشرتی رویوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ اگر ہم نے ان رجحانات کا قلع قمع نہ کیا تو کل کولوگ ایک دوسرے کو چوراہوں پر ننگا کرکے جان لے رہے ہوں گے۔یہ معاشرہ اپنی اکائیوں سے تشکیل پاتا ہے اور ہم اس معاشرے کی اکائیاں ہیں۔ اگر ہم ہی اس معاشرے کو برباد کرنے پر تل جائیں گے تو آنے والی نسلوں کو کیا دیں گے؟معاشرے میں موجود مسائل سے نمٹ کر معاشرے کو تبدیل کرنا اگرچہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن اس سے نمٹنا بہت ہی آسان کام ہے لہٰذا اس معاشرے کو ایک مثالی معاشرہ بنانے کے لئے ہر فرد کو احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ذمہ داری کچھ بھی نہیں ہے لیکن احساس ذمہ داری سب کچھ ہے۔
معاشرہ مثبت راہ پر پروان چڑھائیں۔ ایسا نہیں کریں گے تو آج ہم جو بوئیں گے وہ کل کو کاٹنا بھی پڑے گا۔ ہاتھوں سے ڈالی گئی گرہیں کل کو دانتوں سے کھولنی پڑیں گی اور ضروری نہیں کہ یہ گرہیں ہم کھول بھی سکیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: