سیاسی شعورکی بیداری اہم ضرورت

سیاست ایک مقدس لفظ اور عمل ہے جس کا مقصدانسانی خدمت ہے ۔یہ ایسی خوبصورت چیز ہے جس سے جسم و جان میں آگے بڑھنے، کچھ کر گزرنے کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ سیاست تو بہترین انسانی زندگی گزارنے کے اصول طے کرنے والا ایسا خوبصورت عمل ہے جس کے مفہوم میں فلاح و صلاح کے معنی پوشیدہ ہےں۔ہمارے گردوپیش میں ہرکوئی یہ کہتا ہوا نظرآتا ہے کہ سیاست ایک گندی چیز ہے اورسیاستدان بُرے ہیں۔کبھی ہم نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم خود کیا ہیں؟ اس کے بارے میں شائد ہی کچھ کہا جاتا ہے۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ عوام کے بغیر نہ تو کوئی سیاستدان، سیاستدان ہے اور نہ ہی سیاست، سیاست ہے۔ جس طرح سیاست کا عمل عوام کی شمولیت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا اسی طرح سیاست میں موجود خرابیاں بھی اس وقت تک دور نہیں ہو سکتیں جب تک عوام خود کو ٹھیک نہیں کرتے۔یاد رکھیں سیاست نہیں ہم ب±رے ہیں ۔ سیاست اگر بدلی ہے تو صرف ہماری وجہ سے کیونکہ ہم اندھے مقلد بن گئے ہیں جس کی نہ تو مذہب اجازت دیتا ہے اور نہ ہی دنیا کا کوئی ضابطہ اخلاق ۔ یہاں سیاستدان سیاست کو منفی انداز میں پیش کر رہے ہیں تو اس کے پیچھے بھی بڑا ہاتھ ہمارا ہی ہوتاہے کیونکہ ہم نظام نہیں چہرے دیکھتے ہیں، ہم قوم کی فلاح نہیں اپنے اپنے ’قائدین‘ کی خوشنودی دیکھتے ہیں۔
جہاں تک عوام کو الو بنانے اور ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی بات ہے تو جب تک وہ آنکھیں کھلی رکھیں گے کوئی اُن کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتا اور اگر وہ روشنی سے منہ موڑنے کی عادت ترک کر دیں تو انہیں الو بھی کوئی نہیں بنا سکتا۔ مگر افسوس کہ ہم کالی عینک لگا کر اندھیروں میں روشنی تلاش کرنے کے عادی ہو چکے ہیں تبھی تو ہمیں کبھی اٹانومی،کبھی سیلف رول ،کبھی قابل حصول وطنیت اور اب گپکار اتحادجیسے نعروں سے سرابوں کی منزل کا راہی بنا دیا جاتا ہے۔
ایسی صورتحال میں بہتری کی امید کیونکر رکھی جائے جس میں زخم دینے والا سنگدل اور زخم کھانے والا بے حس، جس میں ایک طرف ’روشی ہی روشنی‘ تودوسری طرف’ اندھیرا ہی اندھیرا‘ ہو، جس میں فریقین کے مفادات الگ اور ترجیحات جدا ، جس میں ایک مغرب کی طرف گامزن ہو تودوسرا مشرق کی جانب محو سفر۔۔۔! خود فیصلہ لیں اسی طرح چلتے رہے تو فاصلے کب سمٹیں گے، منزل کیسے ملے گی؟ جمہوریت کی بالادستی کا فرسودہ خواب دکھانے والے پہلے بھی کئی بار تائب ہوکر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہوئے ہیں بلکہ سنبھلنے اور پھسلنے کا ڈرامہ بھی کرچکے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایک لمحے میں کہتے ہیں کہ اب بیانیہ بدل گیا ہے، اب ہم نظریاتی ہو گئے ہیں اور اگلے ہی لمحے سب کچھ بدل جاتا ہے اور چپ چاپ اپنا نظریہ بدل کر ’جان بچی لاکھوں پائے‘ کے مصداق پھر کوئی ڈیل کر بیٹھتے ہیں اور عوام کو الو بنا دیا جاتا ہے۔
5اگست2019کو جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد ہر طرف بدگمانی اور بے یقینی کی فضا میں اضافہ ہوچکا ہے۔ کوئی کسی پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ صبح سے لے کر شام تک ہر جگہ’سیاسی تبصروں‘ کی منڈی سجی نظر آتی ہے۔جو چار افراد پر مشتمل گھرانے کی پرورش کرنے سے عاری ہوتا ہے وہ کبھی ماہراقتصادیات بن جاتا ہے تو کبھی سیاسی امور کا گرو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم (عوام)نے سیاست کوایک ایسے گروہ کے سپرد کر دیا ہے جنہوں نے اس کے معیار گرا لئے ہیں۔حالانکہ سیاست عوام کو دبانے اور کچلنے کا نام نہیں۔ عوام کا حق چھیننے اور ہڑپنے یاخون چوسنے کا نام نہیں۔ سیاست خدمت خلق کانام ہے۔فلاح و بہبود کانام ہے۔سیاست عوام تک ان کا حق پہنچانے کا نام ہے۔ اسلئے سیاست سے آپ کو دلچسپی ہو یا نہ ہو مگر سیاست کو آپ میں دلچسپی ضرور ہے یعنی سیاست کا آپ کی زندگی سے گہرا اور اٹوٹ تعلق ہے۔
مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ سیاست کے موضوع پر کہتے ہیں کہ”اگر قوم کو پنج وقتہ نمازی نہیں بلکہ سو فیصد تہجد گزار بنادیا جائے لیکن ا س کے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جائے اور ملک کے احوال سے ان کو واقف نہ کیا جائے تو ممکن ہے آئندہ تہجد تو دور پانچ وقت کی نمازوں پر بھی پابندی عائد ہوجائے“۔اگر آج کے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو ان کی یہ بات حق ثابت ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ کسی قوم کی حالت تب تک نہیں بدلتی جب تک کہ ا±س میں شعور، آگاہی اور بیداری نہ ہو۔شعور اور بیداری سے مراد ہر قسم کی آگاہی ہے چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی ،معاشی ہو یامعاشرتی ۔ انسانی امور کے بارے میں مکمل تحقیق اور آگاہ ہونے کے عمل کو شعوری بیداری کہتے ہیں۔کبھی غور کیجئے تو پتہ چلے گا کہ ہمارا سیاسی شعور بیدارنہیں ہواہے۔
ہم میں سوچنے سمجھنے، غوروفکر کرنے اور تحقیق کرنے کی صلاحیت دن بہ دن ختم ہوتی جا رہی ہے اور ہم جنگل کے جانوروں کی مانند زندگی بسر کرنے میں ہی لطف اندوز ہو رہے ہیں کیونکہ ہمیں نہ اپنی اور نہ ہی آنے والی نسلوں کی فکر ہے۔دراصل ہم نے سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھ رکھا ہے ،اگر اسے اسلامی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو یہ خدمت خلق ہے جس میں ہندو، مسلم، سکھ عیسائی کی کوئی تفریق نہیں بلکہ پوری انسانیت شامل ہے۔ اگر ہم اسوئہ رسولکو دیکھیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے میں عدل و انصاف کو ملحوظ نظر رکھا گیا ہے یہ نہیں دیکھا گیا ہے کہ فیصلہ غیر مسلم کے حق میں جاتا ہے یا مسلمان کے حق میں جاتا ہے۔اگر عدل و انصاف کا یہی اصول آج کل کی سےاست میں اپنا ےاجائے تو یقیناً سماج کا ہر طبقہ ساتھ آجائے گا اور لوگوں کے دلوں میں جو نفرت بھر دی گئی ہے اس کے اندر محبت اور بھائی چارگی پیدا ہوجائے گی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: