فطرت سے بغاوت کا انجام اندوہناک

کورونا وائرس نے عالمی سطح پر بدستورخوف و ہراس کا ماحول قائم کیا ہوا ہے۔ اس عالمی وبا نے جو حالات پیدا کئے ہیں اس سے ایک بات تو طے ہے کہ اب پوری دنیا کو ہیلتھ بجٹ کو ترجیح دینا ہوگی۔ دنیا بھر میں اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد18لاکھ سے زائد پہنچ چکی ہے ۔ جموں کشمیر میں 5جنوری 2021تک کورونا وائرس کے 121923 کیس سامنے آئے جن میں سے 1897موت کی آغوش میں چلے گئے۔ متاثر ہونے والے لوگوں کی خوفناک تعداد نے ایک سچائی سے روشناس کرایا ہے کہ کوئی ایسا ملک نہیں جو اس طرح کے وبا کا سامنا کر سکے۔ ترقی پذیر ممالک تو دور ترقی یافتہ ممالک کا اس کی لپیٹ میں آنا اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان (ترقی یافتہ)ممالک میں بھی ناگہانی حالات سے نمٹنے اورشعبہ صحت پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔بہرحال ابھی تک اس کا علاج دریافت نہیں ہوا ہے۔ خدانحواستہ اگر اس دوران ایک اور مہلک وائرس پھوٹ پڑے تو دنیا کا کیا حال ہوگا۔ ایسا سوچنا کہ ایسی وبا دوبارہ نہیں آئے گی حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ قدرتی آفات کو روکنا انسان کے بس کی بات نہیں ۔
فطرت ہمیشہ سے انسان کیلئے پناہ گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ شاید اسی لئے اس نے انسان کو سوچنے کیلئے وقت دیا ہے تاکہ اسے اپنی غلطیوں اورکوتاہیوں کا احساس ہو اور وہ دھرتی کو دئے ہوئے اپنے زخموں کا ازالہ کرسکے۔دنیا کی کوئی دوسری مخلوق اپنا گھر اپنے ہاتھوں نہیں اجاڑتی ،یہ اعزاز صرف نسلِ انسانی کو حاصل ہے ۔کوئی ذی روح اپنے ہم نسل کو جان بوجھ کر ایذا نہیں پہنچاتا مگر انسان اس وصف پر بھی قادر ہے۔یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ جب دنیا فطری رویوں اور اقدار سے دور جانے لگتی ہے تو فطرت روپ بدل کر ہمارے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے تاکہ ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک ہوسکے ۔ جیسے ہی کوئی آفت پسپا ہوتی ہے تو انسان پھر سے اپنی اوقات بھول کر فطرت کی عزت تار تار کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے ۔ کہنے کو تو انسان اپنے تئیں سب سے عالی دماغ ہے لیکن اُسے یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ فطرت سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں وہ فطرت کا ایک جوابی تھپڑ بھی نہیں سہہ سکتا۔ کورونا کی شکل میںاس کی تازہ مثال ہمارے سامنے ہے ۔قدرت کا تمسخر اڑانے والے آج خوفزدہ ہیں۔ معمولات زندگی درہم برہم ہیں۔ عشرت کدے اور عیاشی کے اڈے اجڑ رہے ہیں۔
موجودہ حالات ہماری برداشت، اخلاقی و انسانی قدروں کے پرکھنے کا پیغام ہے۔ یہ وقت ہمیں بتا رہا ہے کہ ہم ذہنی وجسمانی طور پر کہاں کھڑے ہیں! ہم نے فقط خواہشات کا جال اپنے اردگرد پھیلایا ہوا ہے۔ روحانی طور پر ہم کھوکھلے ہوچکے ہیں۔آج دنیا میں ہر سوبکھری لاشیں، روتی بلکتی مائیں، سسکتی بہنیں، اجڑے سہاگ، بے سہارا بچے نظرآرہے ہیں لیکن انسان گہری نیند میں ہیں۔ہم میں مجموعی طور پر ایسی کون سی ادا باقی ہے جو اللہ کو قبول ہو؟ یقینا کوئی نہیں ،مگر اس کے برعکس آج وہ کونسی اخلاقی خرابیاں ہیں جو ہم میں، ہمارے معاشرہ میں اجتماعی طور پرموجود نہیں ؟ وہ کونسی غلاظت، گندگی ، بیہودگی اور غلط اطوار ہیں جو ہم میں نہیں پائے جاتے؟ ظلم و زیادتی، فساد،حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی کیا ہمارا اجتماعی فعل نہیں ؟ منشیات کے بازار، ہوس کے اڈے ، شراب خانے ، جوا ، چوری، قتل وغارتگری، رشوت خوری، سود خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی، جھوٹ،خوشامد، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی آخر وہ کون سا اخلاقی مرض ہے جو ہم میں نہیں پایا جاتا؟ بد عنوانی و کرپشن اور خود غرضی کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی، فریب اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی قسم ہے جو ہمارے معاشرہ میں زوروں پر نہیں؟ان سوالات کا جواب یقینا ہاں میں ملے گا۔
فطرت نے خطرے کا الارم بجا دیا ہے اور انسانیت کو خاموش پیغام دے رہی ہے کہ فطرت سے بغاوت یا فطرت کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کے نتائج انتہائی خراب ہوسکتے ہیں۔ جیسے وقت کیلئے ہم گھڑی استعمال کرتے ہیں بالکل اسی طرح ہمارے جسم کی گھڑی ہے، جو وقت کی تبدیلیوں کے تابع ہے۔فطرت سے بڑا منصف اور کون ہوسکتا ہے جو انسان کے وجود کی بقا کا جواز اور شفایابی کا ہنر رکھتی ہے۔ مظاہر فطرت کی روح کو سمجھے بغیر انسان اپنی زندگی کیلئے بہتر حکمت عملی اور مسیحائی تاثیر نہیں ڈھونڈ سکتا۔حال میں جینے کا مطلب مشاہداتی و تجزیاتی سوچ کا فروغ ہے۔ مشاہدہ اور تجزیہ، صحیح وقت پر درست فیصلہ کرنے کا ہنر عطا کرتے ہیں۔ کائنات ایک نظام میں جکڑی ہوئی ہے۔ سورج ،چاند، ہوائیں، پہاڑ، نباتات ، حیوانات اور جمادات اس نظام فطرت کے پابند ہیں۔ وہ اس سے بال برابر بھی انحراف نہیں کرسکتے۔ انسانی جسم کے اعضا و جوارح پر بھی فطرت کا یہی نظام لاگو ہے۔ آنکھ دیکھنے، ناک سونگھنے، کان سننے، زبان بولنے ، دماغ سوچنے اور دل محسوس کرنے کیلئے بنا ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا سائنسدان ،دانشور یا جابر حکمران اعضائے بدن کے اس طبعی وظیفے کو بدل نہیں سکتا۔بعض اوقات قدرتی آفات ہمیں آس پاس کے ماحول سے آگاہ رہنے اور اس کے فراہم کردہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے پہلے سے ہی مناسب اقدامات کرنے کا درس دیتی ہیںاور ہماری عادات پر نگاہ رکھنے کیلئے انتباہی اشارے دیتے ہیں۔تاریخِ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دئے اور گردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا جب وہ اجتماعی طور پر فطرت کے خلاف چلیں ، جب اُس نے قانون قدرت کو توڑ کر متعین کردہ اصولوں سے انحراف کیا۔
شاید یہ وقت انسانی زندگیوں کی ازسر نو تعمیر کا ہے۔ کسی بھی تخریبی عمل سے گزرنے کے بعد تعمیری سوچ بیدار ہوتی ہے۔کسی بھی بڑے مسئلے کی نشاندہی یا ادراک تعمیری پہلو سے روشناس کرا دیتا ہے۔یہ وبائیں،مہلک بیماریاں اور آفات و حوادث قیامت تک پیش آتے رہیں گے تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو اور وہ غفلت کی زندگی سے بیدار ہوں۔ اگر وقفہ وقفہ سے وقوع پذیر ہونے والی ہلاکت خیز بیماریوں اور آفات سماوی سے عبرت حاصل نہ کی جائے اور اپنی بدمستی میں مدہوش رہیں تو نہ موت کا دن دور ہے اور نہ قیامت ہی دور ہے۔ دیکھتے دیکھتے زندگی ختم ہوجائے گی اور دنیا تباہ و برباد ہوجائے گی اورہم کف ِ افسوس ملتے رہیں گے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: