معیاری خوراک صحت مند زندگی کیلئے ضروری

معیاری خوراک انسانی بقاء اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے ناگزیر ہے۔ غذا کی اہمیت انسانی زندگی میں ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے انکار نا ممکن ہے۔زمانہ قدیم سے خوراک لوگوں کے آپس میں میل جول اور تعلقات قائم ہونے کا باعث ہے۔ اچھی خوراک کے ہماری سماجی زندگی پر بیش بہا اثرات ہیں۔ دنیا میں وسیع پیمانے پر پھیلنے والے انفیکشنز کی بنیادی وجوہات میں غذائی کمی کے علاوہ غیر معیاری خوراک کا استعمال بھی شامل ہے۔کہا جاتا ہے کہ معیاری اور مناسب غذا صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔
محفوظ، معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک ہر شہری کا بنیادی حق ہے اورتندرست و توانا رہنے کیلئے ضروری ہے کہ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے لیکن کیا محض خوراک کی مقدار ہی اہم ہے؟ بالکل نہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق ہر سال دنیا میں غیر محفوظ غذاکی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے 600 ملین واقعات رونما ہوتے ہیں اور سالانہ 4لاکھ20ہزاراموات ہوتی ہیں اور 30 فیصد5 سال سے کم عمر کے بچے شکار ہوتے ہیں۔WHO کے مطابق ہر سال عالمی سطح پر غیر محفوظ کھانا کھانے کی وجہ سے 33 ملین صحتمند زندگیاں ضائع ہوجاتی ہیں۔جی ہاں، یہ سب کچھ غذا کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ”غیر محفوظ غذا“ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
خود غرض اور بے ضمیر لوگ زیادہ منافع کی خاطراشیائے خورونوش میں ملاوٹ کر کے کئی انسانی جانوں کو داؤ پر لگاتے ہیں۔ لوگوں کی صحت سے متعلق اس اہم مسئلے کے تدارک کیلئے عالمی سطح پرFood and Agriculture Organisation(FAO) ادارہ موجود ہے جو ٖ فوڈسیفٹی کے تمام پہلوؤں کی نگرانی کرتا ہے اور کئی بین الاقوامی قوانین کے تحت دنیا کے سبھی ممالک اپنے شہریوں کو غیر معیاری غذا سے بچانے کیلئے وعدہ بند ہیں۔ اسی لئے فوڈ انڈسٹری (Food Industry)،فوڈ سیفٹی (Food Safety)کے بغیر نامکمل ہے۔
ہندوستان میں اس حوالے سے Food Safety and Standards Act, 2006 کے نام سے ایک قانون موجود ہے اور اسی قانون کے تحت”فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈارڈس اتھارٹی“(Food Safety and Standards Authority)کا ملکی ادارہ اور”ڈرگس اینڈ فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن“(Drugs & Food Control Organisation)محکمہ ہر ریاست اور یونین ٹیرٹریوں میں قائم ہے۔
کشمیر میں اس محکمہ کا صدر دفتر بمنہ میں واقع ہے اور وادی کے تقریباً سبھی اضلاع میں اس کے دفاتر قائم ہیں۔اس محکمہ کے قانونی اور بنیادی رول میں شامل ہے: بازار میں کھانے پینے کی چیزیں معیاری ہوں۔معیار مرتب کرنا اور نظرگزر رکھنا۔غذائیں، دوائیاں محفوظ اور صحت بخش، طبی آلات اور کاسمیٹکس محفوظ اور مؤثر ہوں۔یہ محکمہ اشیائے خورونوش کی صنعت کوجوابدہ بنانے کیلئے واضح معیار بھی مہیا کرتا ہے اور اس معیار پر پورا اترنے کے بارے میں مشورہ بھی دیتا ہے۔ محکمہ فوڈ کنٹرول نے معیاری خوراک دستیاب کرانے کیلئے کئی قوانین مرتب کئے ہیں تاکہ خوراک کی تیاری اور ترسیل کے تما م مراحل میں فوڈ سیفٹی پیرامیٹرز کو خصوصی طور پر ملحوظ ِ خاطر رکھا جا سکے۔
آجکل آئے روزہمیں مضرِ صحت خوراک کے استعمال کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ انسان اب اس پریشانی سے دوچارہے کہ اب کھائے تو کیا کھائے؟چند پیسوں کی خاطر کچھ لوگوں نے انسانی زندگیوں اور انکی صحت کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ پہلے دودھ میں صرف پانی ملایا جاتا تھا لیکن اب پاؤڈراوردیگر مضر ِ صحت اشیاء سے بھی بنانے کی خبریں مل رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مصالحہ جات اور کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ تو اب عام سی بات ہے۔غیر معیاری مصالحہ جات نے عام عوام کی صحت سے متعلق ایک خوفناک صورتحال پیدا کردی ہے جس کی ممکنہ وجہ فوڈ سیفٹی کی اہمیت کے بارے میں شعور کا فقدان بھی ہے۔
جموں کشمیر میں قائم فوڈ سیفٹی محکمہ کیا عوام تک محفوظ اورمعیاری خوراک پہنچانے میں کامیاب ہے؟کیا عیدین اور دیگر تہواروں پر مارکیٹ چیکنگ ہی اس کا سدباب ہے؟کیا فقط گوشت اور دودھ کا معیار پرکھنا ہی انسانی جانوں کیلئے حفاظت کی بنیاد ہے؟کیا خبروں میں آنے کیلئے محض اہم بازاروں میں ہی مارکیٹ چیکنگ سے معاملہ حل ہوسکتا ہے؟ ایسے کئی سوالات ہیں جن کے جوابات تسلی بخش نہیں ہیں۔ فوڈ سیفٹی کا اطلاق محض فوڈ انڈسٹری پر ہی لازم نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ کام کاج بالخصوص خوراک سے جڑے امور سنبھالتے ہوئے حفظان ِ صحت کے اصولوں کو ہر گز نظر انداز نہ کریں۔ لوگوں میں محفوظ خوراک سے متعلق شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی سیشن بھی ایک خوش آئند ہ اقدام ہوسکتاہے۔تاہم یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ حفظان ِ صحت کے اصولوں کو اپناتے ہوئے صحت مند معاشرے کی تشکیل کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوناممکن ہے۔
خوراک کی تیاری سے لے کر مناسب اسٹوریج کے انتظامات،معیاری پیکنگ سے لے کرخوراک کی ترسیل تک تمام معاملات میں فوڈسیفٹی کو اولین ترجیح دینا بہت ضروری ہے تاکہ ایک صحت مند معاشرے کو تشکیل دیا جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ’سیف فوڈ‘ یا محفوظ غذا ’فوڈ سکیورٹی‘ کی ضمانت ضرور ہے تاہم یہ دونوں ایک دوسرے کے لازم و ملزوم نہیں۔ فوڈ سیفٹی ایک وسیع اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے عوامی صحت کے تحفظ کیلئے انسانوں کو فراہم کی جانے والی غذا ئیں محفوظ ہوں، خوراک کی تقسیم کا نظام اور غذا کے استعمال کے طریقے کو حفظان صحت کے اصولوں کے تحت منظم کرنا۔زراعت کے شعبے میں پیدا ہونے والی تیز رفتاری اور فوڈ ٹریڈ یا غذائی تجارت پر عالمگیریت کے اثرات، بڑے پیمانے پر کیٹرینگ کا رواج اور سڑکوں پر بکنے والی خوردنی اشیاء سے لے کر ماحولیاتی تبدیلی یا نئے بیکٹیریا۔ یہ سارے رسک فیکٹر ہیں جو غذا کو آلودہ یا مْضر بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں دنیا بھر میں تجارتی اور سفر و سیاحتی رجحان میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ جراثیم کے پھیلاؤ اور آلودگی میں اضافے کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔ فوڈ سیفٹی کا مطلب ہے کہ صارفین کو فوڈ پوائزننگ اور غذا سے جنم لینے والی دیگر شدید نوعیت کی بیماریوں سے بچانے کیلئے غذائی معیار پر کڑی نظر رکھناہے۔
اس ساری صورتحال میں فوڈ سیفٹی محکموں کی صورت میں ایک ایسی امید کی کرن نظر آتی ہے جس کے تمام تر اقدامات درحقیقت فوڈ سیفٹی ہی سے منسلک ہیں لیکن مذہبی تہواروں یا ایسے ہی دیگر مواقع پر ہی اس محکمہ کی ٹیمیں ناقص اشیاء تیار کرنے والوں کے عزائم روکنے اور ملاوٹ مافیا کا دھندا کرنے والوں کے خلاف متحرک نہیں ہونی چاہئیں بلکہ 24 گھنٹے فیلڈ میں نظر آنے چاہئیں۔ خوراک کی تیاری ہو یا اشیاء خورونوش کی مناسب اسٹوریج، غیر معیاری پیکنگ ہو یا جعلی لیبلنگ کے معاملات،مفادعامہ کے تحفظ کیلئے ہنگامی بنیادوں پرغیر معیاری اور مضرِ صحت اشیاء پر پابندی عائد کی جائے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خوراک کا معاملہ سنگین شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ یہ کیفیت اس امر کی متقاضی ہے کہ دنیا بھر کے ممالک خوراک سے متعلق معاملات کو محفوظ رکھنے یعنی فوڈ سکیورٹی یقینی بنانے پر متوجہ ہوں۔ دنیا بھر میں خوراک سے متعلق عادتیں تبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
فوڈ سیفٹی کی عدم موجودگی کے باعث سر اٹھاتے خوراک سے جڑے مسائل صحت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی بری طرح اثر انداز کرتے ہیں۔ لہذاہمیں چاہئے کہ ہم سب انفرادی طور پر غذا کی حفاظت میں اپنا اپنا کردار ادا کریں اور صحت دشمن عناصر کے خاتمے کیلئے ایک دوسرے سے بھر پور تعاون کریں۔یاد رکھیں کہ ترقی یافتہ قومیں صحت مند معاشرے سے جنم لیتی ہیں اسلئے یہ ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم اپنی اشیاء کو تیار کرتے وقت فوڈ سیفٹی کا خیال رکھیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

<span>%d</span> bloggers like this: