قول و فعل میں تضادسماجی بحران کی بڑی وجہ

دنیا میں صرف وہی افراد اور قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جو زبانی جمع خرچ کے بجائے عمل پر یقین رکھتی ہیں۔قول و فعل میں ہم آہنگی اور مطابقت انسان کے دیانتدار اور سچا ہونے کی علامت ہے۔بلند بانگ دعوے، خود پسندی اور لمبی چوڑی باتیں جب عمل سے خالی ہوں تو حسرت اور ناکامی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا۔قول و فعل میں تضاد کو اگر منافقت کا مجموعہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔معاشرے کی اکثریت دوسروں میں برائی کی کھوج لگانے میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ صرف کر دیتی ہے مگر اپنے متعلق محض چشم پوشی سے کام لینے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسی ہی کئی اخلاقی اور معاشرتی خرابیاں گھن کی طرح کھا ئے جا رہی ہیں۔ تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی کا ایک ایک کر کے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ خرابی ہمارے کاروبار،معاملات اور معمولات کے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کئے ہوئے ہے۔
قول و فعل میں تضاد قوموں کی تباہی کاباعث بنتاہے۔دنیاحکمرانوں کے قول و فعل کودیکھ کرہی قوموں کے حالات کااندازاہ لگاتی اور تعلقات قائم کرتی ہے۔ہمارا معاشرہ تضادات سے بھرا پڑا ہے۔ ہم جو ظاہر میں نظر آتے ہیں وہ اصل میں ہوتے نہیں۔ہم قول وفعل کے تضاد کی بڑی وجہ سے سماجی بحران کا شکار ہیں اوراگر ہم خود احتسابی کا مظاہرہ کریں تو ایک خوشحال معاشرے کی بنیاد ڈال سکتے ہیں۔ دعوت و تعلیم کتنی بھی سچی ہو لیکن اپنی ذاتی زندگی سے پرے کرکے دوسروں کو اس کی طرف دعوت دی جائے تو بہت ہی کم لوگ اس کو تسلیم کریں گے۔ آدمی کتنا ہی بڑا جانکار اور عالم کیوں نہ ہو لیکن عملی تضاد شخصیت کو گرا کر رکھ دیتا ہے۔
یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ تعصب و تکبر سے دل و دماغ خالی کر کے اس خرابی کے مضر اثرات کو عمیق گہرائی سے دیکھنے کی اشد ضرورت ہے تبھی انسان اپنے وجود کو اس خرابی سے دور رکھنے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ چونکہ ’قول و فعل کے تضاد‘سے معاشرے میں جہاں انسانی کردار متنازعہ بن جاتا ہے وہاں جھوٹ اور غیبت جیسی دو بڑی قباحتیں نہ چاہتے ہوئے بھی انسانی کردار کا حصہ بن جاتی ہیں۔ جس سے کردار و گفتار مزید پراگندہ ہو جاتا ہے۔ بعض مقامات پر تو اس کو فخریہ انداز میں نہایت جدید اور منفرد نام دے کر اس خرابی کو ایسے اپنایا جاتا ہے جیسے کہ یہ سرے سے برائی ہی نہیں اور حقیقت پسندی و سچائی کے پیکر کو توعمومی طور پر معاشرے میں باوقار اور با عزت حیثیت دینے میں بھی ہچکچاہٹ اور تنگ نظری سے کام لیا جاتا ہے۔ اس خرابی کے حامل افراد پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ وہ خود ہی اپنے آپ سے نفرت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
ہمارے سماج میں عدمِ مساوات،رشوت خوری،بددیانتی اورمظالم کے سبب بدعنوانی اور انتقامی جذبے میں اضافہ جیسی رذیل خصلتیں مزید پختگی کے ساتھ نئی نسل کے ذہنوں میں راسخ ہو تی چلی جا رہی ہیں اور ورثہ میں ملنے والی اعلیٰ صفات کو اپنا شعار بنانے میں حائل مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ بڑ رہا ہے۔ کہیں یہ سب ہمارے قول و فعل میں تضاد کی پیداوار تو نہیں؟۔ اگر ایسا ہی ہے تو ایک بہتر معاشرے کے فرد کی حیثیت سے اپنا احتساب کرنے کی اب شدید ضرورت محسوس کر لینی چاہئے تاکہ معاشرہ کے اندر پائے جانے والے قول و فعل کے تضاد سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے نہ کہ کسی اجتماعی انقلاب کے انتظار میں آخرت کیلئے رختِ سفر باندھنے کا وقت قریب آ جائے۔
علامہ اقبالؒ ؒنے بندۂ مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا تھا”نرم دمِ گفتگو گرم دمِ جستجو،رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز“ یعنی بندۂ مومن وہ ہوتا ہے جو گفتگو بڑی نرمی سے کرتاہے اور جب کا م کی باری آتی ہے تو بڑی گرمجوشی سے کام کرتا ہے۔ جب قول و فعل میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے تو انسان باتوں میں تو بڑے جوش و جذبے کا مظاہر ہ کرتا ہے لیکن اس کا جذ بہ عمل سرد پڑ جاتا ہے۔یہی بے عملی ذلت و رسوائی،تنزلی اور پستی کا سبب بنتی ہے۔ترقی اور عزت و کامرانی ہمیشہ انہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے جن کے حوصلے بلنداور عزم پختہ ہو اور وہ فقط باتیں بنانے والے نہ ہوں بلکہ کام پر یقین کرتے ہوں۔ شاہراہِ حیات پر کامیابی سے چلتے ہوئے منزلِ مقصود کا پا لینا تبھی ممکن ہے جب انسان محنت کو اپنا شعار بنائے اور غفلت اور سستی کی چادر اتار پھینکے۔ انسان ہمیشہ اپنی کارکردگی سے ہی دوسروں کو متاثر کرسکتا ہے لمبی چوڑی باتوں اور بلند بانگ دعوؤں سے کسی کو متاثر نہیں کیا جاسکتا۔الغرض انسان کو چاہئے کہ وہ گفتار کا غازی بننے کے بجائے کردار کا غازی بنے۔
انفرادی طور پر تو ہر سطح پر اس سے چھٹکارا کی بامقصد کاوش بھی کی جاتی ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اجتماعی طور پر ہمارا ظاہر اور باطن ایک ہو جائے۔ روز مرہ کے معاملات ومعمولات میں اور کاروبار و لین دین میں ’قول و فعل کے تضاد‘ کی اس خرابی کا ادراک رکھتے ہوئے اس سے دور رہنے کی تو شاید بہت کم مثالیں مشاہدے میں آئیں ہوں مگر جہاں کہیں بھی ایسی نوبت آ جائے وہاں دو باتیں بہت اہمیت اختیار کر جاتی ہیں، ایک تو یہ کہ ایسی صورت میں انسان کا ظاہر و باطن تعصب و تکبر سے یقینی طور پر پاک ہو چکا ہوتا ہے جو کہ انتہائی مشکل اور کٹھن مرحلہ ہے اور دوسرے یہ کہ وہ شخص مکمل طور پر بے لاگ اور ہمہ وقت خود احتسابی کے عمل کیلئے تیار بھی ہو چکا ہوتا ہے۔ زندگی کے اس موڑ پر انسان کے اندر مثبت تبدیلی دستک دے رہی ہوتی ہے۔اْس وقت اپنے اندر پائی جانے والی خرابی کا پتہ چلانے اور اس سے نجات پانے کیلئے ضابطہ حیات کے اصولوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے اور ہمہ وقت خود احتسابی کے کڑے عمل سے گزرنے کیلئے تیار رہنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
ہمیں اپنے طرزِ عمل اور حالاتِ زندگی پر غور کرنا چاہئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عملی تضاد ہمیں لے ڈوبے اور ہماری علمی برتری ہمارے کچھ کام نہ آئے۔ اللہ ہمارے قول و کردار میں خلوص عطا فرمائے۔ آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

<span>%d</span> bloggers like this: