نجی کتب خانے۔۔۔۔عظیم نقصان جسکی تلافی شائد ہی ممکن ہوپائے

اکتوبر 19, 2014
حالیہ تباہ کن سیلاب نے وادی کشمیر بالخصوص سرینگر اور دیگر قصبہ جات کو جس شدت کے ساتھ تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے ،وہ آنے والے برسوں میں شائد ہی لوگوں کے حافظے سے محو ہو۔طوفان کی تباہی کے شکار نجی املاک اور کاروباری اداروں کو واپس اپنی ڈگر پر لانے کیلئے اگرچہ ایک اچھا خاصا وقت درکار ہوگا تاہم جنوبی کشمیر اور سرینگرشہر میں متعدد نجی کتب خانوں میں ہوئی تباہی کا ازالہ شائد ہی ہوسکے کیونکہ ان کتب خانوں میں موجود کئی نادر اور نایاب کتابیں اْن اعصاب شکن باقایات کا حصہ بن چکی ہیں جو سیلاب نے اپنے پیچھے چھوڑدئے ہیں۔کتب بینی کے شوقین لوگوں کو اس بات کا صدمہ ہے کہ علم و دانش کے ان تباہ شدہ ذخیروں میں ہماری ثقافت،مذہب اور سماجی ارتقاء پذیری کے حوالے سے ایسی تفصیلات موجود تھیں جو آنے والی نسلوں کی اْٹھان اور ارتقاء کیلئے بنیاد فراہم کرتی ہیں لیکن آج یہ سب کچھ تخت و تاراج ہوچکا ہے۔

Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: