ایجی ٹیشن2010: 13ماہ بعد ایک اور طالب علم جاں بحق

اکتوبر 12, 2011

سال 2010کی عوامی ایجی ٹیشن کے دوران ہوئی ہلاکتوں میں13ماہ کے طویل وقفے کے بعد بدھ دکوایک اور طالب علم کا اضافہ ہوگیا۔مظفر احمد میرنامی یہ طالب علم 13ستمبر 2010کو فورسز کی کارروائی کے دوران زخمی ہوا تھااورتادم مرگ سرینگر کے صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں زیر علاج رہا جہاں بالآخربدھ کی صبح داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔اس طرح گذشتہ برس کی ایجی ٹیشن کے دوران جاں بحق کئے گئے افراد کی تعداد122پہنچ گئی۔ Read the rest of this entry »


اسمبلی کا مختصر اجلاس ختم

اکتوبر 4, 2011

قانون ساز اسمبلی میں اجلاس کے آخری روز منگل کو نیشنل کانفرنس کارکن سید محمد یوسف کی مبینہ حراستی ہلاکت پرحزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے زوردار احتجاج، نعرے بازی اورہنگامہ آرائی کے بیچ ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی۔منگل کو قانون ساز اسمبلی کی کارروائی جونہی شروع ہوئی تو پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک بار پھرنیشنل کانفرنس کارکن سید محمد یوسف کی ہلاکت کا معاملہ اٹھایا۔ محبوبہ مفتی ایوان کی کارروائی کو التواء میں ڈال کر یوسف کی ہلاکت پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا ۔واضح رہے کہ اس سلسلے میں پی ڈی پی نے سپیکر کے پاس تازہ تحریک التواء پیش کی تھی۔ Read the rest of this entry »


پارلیمانی اقدار کی دھجیاں اڑادی گئیں

اکتوبر 3, 2011

جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں سوموار کونیشنل کانفرنس کارکن کی مبینہ حراستی ہلاکت معاملہ پر اسپیکر اورپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر نائب صدر نے ایک دوسرے کے خلاف اس حد تک ناشائستہ الفاظ استعمال کئے اورپارلیمانی و اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں کہ ایوان میں موجود حاضرین کے سر شرم سے جھک گئے ۔اس دوارن سپیکر نے پی ڈی پی کی تحریک التوا مسترد کرتے ہوئے اپنے برتاؤ پر معذرت طلب کی تاہم ایوان کی کارروائی مسلسل ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگئی اور مقررہ وقت سے قبل ہی دن بھر کیلئے برخاست کرنا پڑی۔ Read the rest of this entry »


جوڈیشل کمیشن کے سامنے حاضر ہونے کیلئےتیارہوں:عمرعبداللہ

اکتوبر 3, 2011

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کارکن کی مبینہ حراستی ہلاکت کے سلسلے میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے الزامات کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی پر ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا اعلان کیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کارکن سید محمد یوسف کی ہلاکت کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن کے سامنے حاضر ہونے کیلئے تیار ہیں۔واضح رہے کہ محمد یوسف کی موت چند روز قبل پولیس حراست میں واقع ہوگئی تھی۔وزیر اعلیٰ نے اس ہلاکت کے بارے میں ان پر اور انکے والد ودیگر ساتھیوں پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکے بارے میں جوڈیشل انکوائری کا انتظار کیا جائے کیونکہ تحقیقات کے بعد ہی’’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی‘‘ہوجائے گا ۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: