کشمیر:معرکہ آرائی میں 3جنگجو جاں بحق

اکتوبر 22, 2010

وادی میں جمعرات کو سرینگر کے مضافات میں جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان زبردست معرکہ آرائی میں جیش محمد نامی عسکری تنظیم سے وابستہ 3جنگجو جاں بحق ہوگئے۔ معرکہ آرائی کے دوران 5افراد زخمی ہوگئے جن میں ایک خبر رساں ایجنسی کا کیمرہ مین، دو خواتین اوردو پولیس اہلکار شامل ہیں جبکہ پولیس ذرائع کے مطابق جنگجوؤں کے ایک مقامی گائیڈ نے فورسزکے سامنے سرینڈر کیا ۔خونین ریزمعرکہ آرائی میں فوج کے ذریعے ماٹر گولوں کی شیلنگ سے دو رہائشی مکانات مکمل طور زمین بوس ہوگئے ۔جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے کیلئے فوج نے ہیلی کاپٹر وں کی خدمات بھی حاصل کیں۔اس دوران امریکی صدر باراک اوبامہ کے دورۂ بھارت کے موقعہ پر وادی کشمیر میں ممکنہ فدائین حملوں کی خفیہ اطلاعات کے پیش نظر پوری ریاست میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے پولیس،فوج،نیم فوجی دستوں اور دیہی حفاظتی کمیٹیوں کو چوکس کردیا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس سلسلے میں ایکشن پلان کو حتمی شکل دینے کیلئے یونیفائیڈ کمانڈ کی ہنگامی میٹنگ طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ Read the rest of this entry »

Advertisements

کشمیر: 55سالہ شہری جاں بحق

اکتوبر 15, 2010

11جون سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد111
وادی میں13دن کے وقفے کے بعدجمعہ کو جنوبی کشمیرکے پانپور قصبے میں ایک 55سالہ شہری جاں بحق ہوگیا۔غلام نبی میر نامی شہری7اکتوبر کو فورسز کے ہاتھوں شدید زدو کوب کے نتیجے میں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ ایک ہفتے تک زیر علاج رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔اس طرح11جون سے وادی میں پولیس اور فورسز کارروائیوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد111ہوگئی ۔ Read the rest of this entry »


کشمیر:کرفیو کا ایک اور دن

اکتوبر 12, 2010

وادی میں منگل کو حریت کانفرنس(گ) کی ‘حیدرپورہ چلو’ کال کے پیش نظرسخت ترین کرفیو اور دفعہ144نافذ رہا ۔یاد رہے کہ’ حیدرپورہ چلو’ کال حریت کے احتجاجی کلینڈر کا حصہ نہیں تھا البتہ حریت (گ) کی اکائی مسلم لیگ نے لوگوں سے کہا تھا کہ بزرگ علاحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی کی نظربندی کے خلاف انکی رہائش گاہ واقع حیدرپورہ تک مارچ کریں۔واضح رہے کہ حریت کانفرنس نے اپنے احتجاجی کلینڈر میں پیر کو ہڑتال میں ڈھیل دی تھی جس کے نتیجے میں وادی میںمعمول کی زندگی ایک دن کیلئے بحال ہوگئی تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق حریت کے چند اراکین شہر میں امن و قانون کی خلاف ورزی کا منصوبہ بنا رہے تھے جس کی بنیاد پر وادی میں کرفیو کا اعلان کیا گیا ۔قابل ذکر ہے کہ وادی میں11جون کو شروع ہونے والی عوامی احتجاجی لہر کے چار مہینے منگل کو مکمل ہوگئے اور اس عرصے میں پولیس اور فورسز کارروائیوں کے دوران 110افراد جاں بحق ہوگئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ گذشتہ چار ماہ کے عرصے میں وادی میںکم و بیش تمام کاروباری ،تعلیمی اور دیگر سرگرمیاں معطل رہیں۔ Read the rest of this entry »


جموں کشمیر کی اسمبلی میں ہلاکتوں پر رپورٹ پیش

اکتوبر 9, 2010

ریاست میںگذشتہ نو ماہ کے دوران فورسز کے ہاتھوں 109ہلاکتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے سنیچر کو اسمبلی میں اعداد وشمار پیش کئے۔سرکار کے مطابق جنوری  2010 سے لیکر30ستمبر تک کے عرصے میں 94 ایسے عام شہری زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے جو مشتعل مظاہروں یا پرتشدد جلسوںمیں شریک ہوکر فورسز کے ساتھ نبرد آزما ہوگئے ۔ حکومت کے مطابق 15شہری پولیس اور سی آر پی ایف کے ہاتھوں امن و قانون بحال کرنے کے دوران اپنی جانیں گنوا بیٹھے ۔ ریاستی سرکار کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں بارہمولہ ضلع میں ہوئیں جہاں 39افراد جاں بحق ہو گئے۔ریاستی حکومت کی طرف سے قانون و پارلیمانی امور کے وزیر علی محمد ساگر رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے۔یاد رہے کہ جموں کشمیر میںسال 2010 کا آغاز ایک طالب علم کی ہلاکت سے ہوا۔ 11جون سے فورسز کی کارروائیوں میں 3 خواتین،39طالب علم اور8 سالہ بچے سمیت 110 افرادجاں بحق ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ یکم جنوری 2010سے 11جون تک کے عرصے میں فوج کی طرف سے مبینہ طورفرضی جھڑپوں میں3شہری مارے گئے جبکہ سرینگر کے2 کمسن طالب علم اوربارہمولہ کے 2مزدور فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ Read the rest of this entry »


عمر عبداللہ کی تقریر پر اسمبلی میں ہنگامہ

اکتوبر 7, 2010

مارشل سمیت4ممبران ارکان قانون سازیہ زخمی
ریاست کی قانون ساز اسمبلی جمعرات کو اس وقت اکھاڑے میں تبدیل ہوگئی اورزبردست ہنگامہ آرائی ہوئی جب جموں کے ارکان قانون سازیہ نے ایوان میںوادی کی موجودہ صورتحال پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی تقریر کوبھارت دشمن قرار دیکر احتجاج کیا۔احتجاجی ممبران نے زبردست نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ ایوان میں معافی مانگیں۔احتجاجی ممبران کے زبردست شور شرابہ اور ہاتھا پائی کے دوران اسپیکر نے مارشلوں کو مشتعل ارکان ایوان سے باہر نکالنے کی ہدایت دی جس کے بعدانہیں گھسیٹ کر باہر دھکیل دیا گیا۔رواں اسمبلی اجلاس کے دوران پہلی مرتبہ مارشلوں اور ممبران اسمبلی کے درمیان دینگا مشتی کے مناظر دیکھے گئے جس کے نتیجے میں ایک مارشل سمیت 4 ممبران اسمبلی زخمی ہوئے ۔ مارشل سمیت کئی ارکان کو اسپتال منتقل کیا گیا۔اس دوران بی جے پی نے اسمبلی کے بقیہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے ریاست گیر ایجی ٹیشن شروع کرنے کی دھمکی دی جبکہ پینتھرس پارٹی نے8اکتوبرجمعہ کو جموں بندھ کی کال دی۔ Read the rest of this entry »


الحاق مشروط،کشمیر حل طلب :عمر عبداللہ

اکتوبر 6, 2010

جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کو مشروط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست بھارت میں ضم نہیں ہوگئی ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل طلب قرار دیتے ہوئے  وزیر اعلیٰ نے حکومت ہند کو خبردارکیا”اگر اس مسئلے حل تلاش نہیں کیا گیا تو مجھے قصور وار نہ ٹھہرایا جائے”۔عمر عبداللہ نے زوردار تقریر کرتے ہوئے کہا کہ” اگر میرے یا میری حکومت کے ہٹنے سے کشمیر کا بنیادی مسئلہ حل ہوگا تو میں کرسی ہی نہیںبلکہ سیاست چھوڑ نے کیلئے تیار ہوں”۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بدھ کو ریاست کی قانون ساز اسمبلی کے ایوان میں ‘وادی کی موجودہ صورتحال’ پر بحث کررہے تھے۔یاد رہے کہ اس موضوع پر ایوان اسمبلی میں منگل کو شروع ہوا اوردو دن سے جاری بحث کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے قریب دو گھنٹے زور دار تقریر کی۔ Read the rest of this entry »


وادی کی موجودہ صورتحال پر اسمبلی میں زوردار بحث

اکتوبر 5, 2010

ریاست جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رواں اجلاس میں منگل کو وادی کی موجودہ صورتحال پر خصوصی بحث کے دوران ریاست کی اکثر سیاسی جماعتوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک سیاسی تنازعہ قرار ددیااور اس دیرینہ مسئلے کا حل بھی سیاسی قراردیا تاہم آزاد رکن قانون سازیہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے علاحدگی پسند جماعتوں اور عسکری قیادت سے بات چیت شروع کرنے کا مشورہ دیا جبکہ بی جے پی اور پنتھرس پارٹی نے جموں وکشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیکر وادی کی موجودہ صورتحال کو مخلوط حکومت کی ناکا می سے تعبیر کیا۔ وادی کی موجودہ صورتحال پر اس خصوصی بحث کیلئے سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے چودھری محمد رمضان اور میر سیف اللہ نے یکم اکتوبر کو ایوان میں ایک تحریک التوا پیش کی تھی۔اسمبلی کے اسپیکر محمد اکبر لون نے وقفہ سوالات کے فوراً بعد مقررہ موضوع ”وادی کی موجودہ صورتحال ”پربحث کی اجازت دی۔رکن اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے بحث کا آغاز کیا۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: