شجرکاری مہم اور ہماری ذمہ داریاں

اپریل 1, 2014

POPLARموسم سرما رخصت ہوتے ہی ہماری ریاست میں شجر کاری شروع ہوتی ہے اور لاکھوں نئے پیڑ پودے لگائے جاتے ہیں۔ یہ روایت زمانہ قدیم سے ہی رائج ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری ریاست ان علاقوں میں شمار ہوتی تھی جہاں پیڑ پودوں اور درختوں کی فراوانی ہوا کرتی تھی۔ کون سا درخت تھا جس کے اگنے کے امکانات یہاں تھے اور وہ لاکھوں کی تعداد میں یہاں موجود نہ تھے۔ اور تو اور، پہاڑی علاقوں کے علاوہ عام لوگ جڑی بوٹیاں بھی اپنے ارد گرد ہی اگاتے تھے۔ مال مویشیوں کیلئے چارہ مقامی طور پر ہی پیدا کیا جاتا تھا۔ اس وجہ سے ان کی تعداد بھی اس قدر ہوتی تھی کہ گوشت پوست کی مقامی ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاوہ یہ چیزیں یہاں سے بر آمد بھی ہوا کرتی تھیں۔اس سے ریاستی معیشت کو اچھا خاصا فروغ ملتا تھااور یہاں کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو روزگار کے علاوہ خود کفالت بھی نصیب ہوتی تھی۔ یہ انواع و اقسام کے پیڑ پودوں کی ہی بدولت تھا کہ ریاست ریشم پیدا کرنے والے دنیا کے کلیدی اور اہم علاقوں میں شمار ہوتی تھی۔ Read the rest of this entry »

Advertisements

%d bloggers like this: