یکم اگست 1991: جب بی ایس ایف نے خون کی ہولی کھیلی

جولائی 31, 2010

ٹھیک 17سال بیت گئے لیکن خانیار اور مضافاتی علاقے اگست 1993کی وہ پہلی تاریخ نہیں بھولے جب بھارت کے سرحدی حفاظتی فورسز(BSF)نے ایک 8سالہ ننھی جان کووالدین کے سامنے ابدی نیند سلادیا گیا۔سرحدی حفاظتی فورس نے بچے کو جاں بحق کرنے پر بس نہیں کیا بلکہ اس کے والدین کو بھی موت کی آغوش میں بھیج دیا۔معصوم بچے اور اس کے والدین کی ہلاکت کے بعدخانیار اورمضافاتی بستیوں سے مظاہروں کی لہر چھڑ گئی اور فقط دو روز بعد ایک احتجاجی جلوس پر دوبارہ فائرنگ کی گئی جس میں ایک اورشخص جاں بحق ہوگیا ۔یاد رہے کہ خانیارمیں ہی 8مئی 1991کو سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)کے اہلکاروں نے جلوس جنازہ پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 29افراد کو بھون ڈالاتھا۔ Read the rest of this entry »

Advertisements

وادی محصور،موت کا خونین رقص جاری

جولائی 31, 2010

مزید 3جاں بحق،24گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد6
وادی میںجمعہ کوہوئی ہلاکتوں میں سنیچر کو اس وقت اور 3افراد کا اضافہ ہوگیا جب بارہمولہ میںایک جواں سال میوہ فروش اورنائد کھئے سمبل میں ایک مزدور جاں بحق ہوگیا۔اس دورانجمعہ کو پٹن میں زخمی ہوئے نانوائی نے صورہ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔اس طرح وادی میں 24گھنٹوں کے دوران فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد6ہوگئی ہے۔ سخت ترین پابندیوں اور کرفیو کے باوجود وادی کے طول وعرض میںسنیچر کو  احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران ٹیرگیس کے گولوں اور گولیوں کی بارش سے150سے زائدافراد زخمی ہوگئے جن میں سے قریب35افراد کو گولیاں لگی ہیں جبکہ دو خواتین سمیت ایک درجن افراد موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ Read the rest of this entry »


کشمیر:تشدد کی تازہ لہر میں3افراد جاں بحق

جولائی 30, 2010

سرینگر میں کرفیو
وادی کشمیر میں جمعہ کو اس وقت تشدد کی تازہ لہر بھڑک اٹھی جب سی آر پی ایف نے شمالی کشمیر کے امر گڈھ سوپور،پٹن اور چھانہ پورہ سرینگر  میں احتجاجی جلسوں پراندھادھند گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں 13سالہ بچے سمیت 3افراد جاں بحق اور درجنوں مظاہرین زخمی ہوگئے جن میں سے چھانہ پورہ کے ایک نوجوان سمیت10سے زائد افرادکی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔پٹن میں مظاہرین نے ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد پولیس اسٹیشن کی عمارت کو آگ لگا دی جبکہ چھورو پولیس چوکی اور پولیس ٹاسک فورس کیمپ کریری پر حملے کئے گئے۔اس دوران حریت کانفرنس (گ)کی کال کے پیش نظر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع اور قصبہ جات میں غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور مقامی لوگوں کی نقل وحرکت پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔واضح رہے کہ حریت کانفرنس نے ‘کشمیر چھوڑدو ‘ مہم کے تحت جمعہ کو سرینگر کیلئے مائسمہ چلو کی کال دی تھی جبکہ دیگر اضلاع کے لوگوں کیلئے ضلع کی مرکزی مساجد میں نماز جمعہ  ادا کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ Read the rest of this entry »


ہڑتال میں ایک دن کی ڈھیل

جولائی 27, 2010

امدادی سامان سے بھری درجنوں گاڑیاں ضبط
وادی میں منگل کوحریت کانفرنس(گ) نے شب برات کے پیش نظر ہڑتال میں ڈھیل کا اعلان کیا تھا جس کے پیش نظرسرینگر اوروادی کے دیگر قصبوں میں معمول کی سرگرمیاں بحال ہوگئیں ۔کاروباری سرگرمیاں، ٹرانسپورٹ اور تعلیمی سرگرمیاں دن بھر جاری رہیں۔حریت اعلان کے پیش نظر پورے شہر سے پولیس اور سیکورٹی فورسز کی تعیناتی مکمل طور پر ہٹائی گئی اور کئی دنوں تک جاری رہنے والی لوگوں کی نقل و حرکت پر عائدپابندیوں کو بھی اٹھایا گیا جس کے نتیجے میں پائین شہر اور سول لائنز علاقوں میں تمام دکانیں اور ہر طرح کے کاروباری ادارے ،سرکاری دفاتر، اسکول ، کالج، بنک ، سرکاری راشن گھاٹ کھل گئے اور گاڑیوں کی آمدورفت بھی شروع ہوگئی ۔ Read the rest of this entry »


وادی میں ہڑتال ،زندگی کا پہیہ جام

جولائی 26, 2010

وادی میں محض ایک دن یعنی اتوارکو معمولات زندگی بحال ہونے کے بعدسوموار کو حریت کانفرنس (گ)کی کال ‘کشمیر بندھ’ پر وادی میں مکمل ہڑتال سے سڑکیں ویران اور بازار سنسان نظارہ پیش کررہے تھے ۔اس دوران پانزلہ رفیع آباد بارہمولہ میں ایک نوجوان کی مبینہ طور پولیس حراست میں ہلاکت اور بٹہ مالو میں ایک نالے سے نوجوان کی لاش برآمد ہونے کے پیش نظرپائین شہر اور بٹہ مالومیں دوبارہ غیر اعلانیہ کرفیواور دیگر حساس قصبہ جات میں بندشیں عائد کی گئیں ۔ پانپور میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جم کر ہوئی جھڑپوں میں ایس ایچ او ،خاتون اور اس کی7سالہ بچی سمیت درجن بھر افراد زخمی ہوئے جبکہ بارہمولہ ، سوپور ، اسلام آباد اور پلوامہ میں پتھرائو کے معمولی واقعات پیش آئے جبکہ رام باغ اور برزلہ میں خواتین نے احتجاجی مظاہرے کئے۔ Read the rest of this entry »


ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے جاری

جولائی 24, 2010

صلاح الدین کے بیان پر شدید ردعمل ،حریت گ کا نیا احتجاجی کلینڈر
وادی کشمیر میں حریت کانفرنس (گ) کے ‘جموں کشمیر چھوڑ دو’مہم کے پیش نظر سنیچر کو مکمل ہڑتال کے بیچ وکلاء اور ڈاکٹروں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔سرحدی ضلع کپوارہ میں امکانی مظاہروں کو روکنے کیلئے دن بھر کرفیو کانفاذ عمل میں لایا گیا۔شمالی کشمیر کے بارہمولہ ،جنوبی کشمیر کے اسلام آباد اور سرینگر میں پولیس ،نیم فوجی دستوں اور مطاہرین کے دوران جھڑپوں میں ایک درجن افراد زخمی ہوئے اورنصف درجن گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کر دئے گئے۔ہڑتال کے اثر میں تاہم سنیچر کوقدرے نرمی دیکھی گئی اور شہر کے اندرونی علاقوں میں کہیں کہیں دکان کھلے رہے جبکہ سڑکوں پر بھی نجی گاڑیوں کی نقل و حمل گذشتہ ایام کی بہ نسبت جاری رہی۔اس دوران پولیس نے علاحدگی پسندلیڈران کے خلا ف کریک ڈائون جاری رکھتے ہوئے مسلم لیگ کے 3لیڈران کو گرفتار کر لیا۔ Read the rest of this entry »


جمعتہ المبارک: مرکزی مساجد میں نماز نہیں ہوسکی

جولائی 23, 2010

کہیں اعلانیہ اور کہیں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا،متعدد مقامات پر پرُ تشدد جھڑپیں ،درجنوں زخمی
وادی میں جمعتہ المبارک کو حریت کانفرنس(گ) کی احتجاجی کال کے پیش نظراعلانیہ اور غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔خانقاہ معلی سرینگر کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھاجبکہ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد سمیت متعدد مساجد میں مسلسل چوتھے ہفتے نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس دوران شہر کے کئی علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی کے دیگراضلاع اور قصبہ جات میں احتجاجی مطاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور کئی جگہوں پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپوں میں ٹیر گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے50سے زائد افراد زخمی ہوگئے جن میں2خواتین اور ایک ڈی ایس پی سمیت پولیس اور سی آر پی ایف کے ایک درجن اہلکاربھی شامل ہیں ۔فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران فورسز نے دو مساجد سمیت درجنوں رہائشی مکانوں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور لوگوں کی اندھا دھند مارپیٹ کی۔واضح رہے کہ ‘جموں کشمیر چھوڑ دو ‘تحریک کیلئے حریت کانفرنس(گ)نے جمعتہ المبارک کو ضلع صدر مقامات پر سفید کپروں میں ملبوس نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی گئی تھی جس کے پیش نظر جمعہ کوپوری وادی میں غیر معمولی بندشوں کے ساتھ اعلانیہ اورغیراعلانیہ کرفیو نافذ رہا ۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: