دوریوں نے میڈیا سے اوجھل رکھا

جنوری 23, 2011

قربانیوں میں ہم بھی پیچھے نہیں

چناب وادی میں رواں علاحدگی پسند تحریک کے حوالے سے اگرچہ لوگوں میں کوئی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملتی ہے تاہم آثار وقرائن بتارہے ہیں کہ ان کی اس خاموشی میں کرب و الم کے دبیز بادل چھائے ہوئے ہیں ۔اہلیان چناب کی داستان مظلومیت اتنی طویل اور دلدوز ہے کہ اس کا اندازہ صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو گذشتہ 20برسوں میں ظلم وتشدد کا شکار ہوئے یا ایسے حالات سہہ رہے ہیں۔ بیس سال سے زائد عرصے کی جدوجہد میں دی گئی قربانیوں کا ذکر عام لوگوں کی طرف سے نہ چھیڑنے کی وجہ کچھ لوگ حریت کی بے اعتنائی بتلارہے ہیں ۔حریت کے دونوں دھڑے چناب وادی میں یا تو پہنچ ہی نہیں پارہے ہیں یا پھر پہنچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔اس صورتحال میں حکومت نے اپنا بھرپور کردار اداکیا ہے اور تعمیر وترقی کی رنگینیوں میں لوگوں کو گم کردیا ہے۔ Read the rest of this entry »

Advertisements

کشمیری رہنماؤں کی نظروں سے اوجھل ڈوڈہ

جنوری 20, 2011

ریاست جموں و کشمیرمیں چناب وادی کو وہی اہمیت حاصل ہے جو امریکہ میں کیلیفورنیا کو ہے۔قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے علاوہ قدرت اس خطہ ارض پر دوسرے طریقوں سے مہربان ہے۔یہاں کے خوبصورت پہاڑ نہ صرف خوبصورتی اور جاذبیت کا انمول سنگم ہیں بلکہ اپنے سینے کے اندر بیش قیمت خزانے سمیٹے ہوئے ہیں۔آب و ہوا کی معتدلی اور بہتے جھرنوں کی پاکیزگی سے ماحول اس قدر مسحور ہے کہ یہاں کے لوگ بھی معصومیت ، صاف دلی اور کمال مہمان نوازی کے نمونے ہیں۔ان کی مہمان نوازی کو دیکھکر وادی کشمیر کے لوگوں سے ان کی یکسانیت کا گماں ہوتاہے۔اور یہ گمان حقیقت ہی تو ہے جس کا اعتراف ڈوڈہ کے ایک معزز شہری عبداقیوم نے جذبات سے لبریز ان الفاظ میں کیا’’ہم آپکے بھائی ہیں جو پچھلی ایک دو صدیوں سے ان علاقوں میں بود و باش رکھتے ہیں۔جب وادی کشمیر پر اغیارنے یلغار کی اور ہر سُو ظلم و ظلمات کے اندھیرے بٹھادئے تو ہمارے آباء و اجداد اس جانب کوچ کر آئے تاکہ ظلمت کا وہ اندوہناک دور چھٹ جانے کے بعد وطن واپس لوٹیں۔وہ دور طول پکڑتا گیا اور یہاں سے نکلنے کا جواز نہیں بن پایا۔یوں یہ سر زمین ہمارا مسکن بنا۔وازہ وان کے بغیر ہمارے ہمارے سبھی رسوم و رواج خالص کشمیری ہیں‘‘۔ Read the rest of this entry »


چناب وادی ہنوزکشمیر سے الگ تھلگ

جنوری 18, 2011

دہائیوں سے سڑک کی تعمیر نامکمل،سرکار وعدوں تک محدود
موجودہ ترقی یافتہ دور میں سڑک رابطے انسان کیلئے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور ان رابطوں کے بغیر انسانی زندگی ادھوری تصور کی جاتی ہے۔یہ حقیقت انتہائی تعجب انگیز ہے کہ چناب وادی آج بھی سڑک رابطے سے محروم ہے۔چناب وادی کو کشمیر سے ملانے والی اکثر سڑکیں نامعلوم وجوہات کی بناء پرابھی نامکمل ہیں۔اگرچہ مختلف ادوار میں حکمرانوں نے اس حوالے سے عوام سے ووٹ بٹورنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تاہم وہ حسب روایت وعدے وفا کرنے میں ناکام رہے۔ Read the rest of this entry »


ترنگا سیاست بھاجپا اور این سی کی ملی بھگت:محبوبہ

جنوری 17, 2011

بھارت کے یوم جمہوریہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ترنگا لہرانے کے اعلان کو نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کی ملی بھگت قرار دیتے ہوئے حزب اختلاف کی سربراہ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ دونوں جماعتیں لوگوں کی توجہ بنیادی مسئلے سے ہٹانے کیلئے یہ ناٹک رچارہی ہیں۔مسئلہ کشمیر کو برسر اقتدار نیشنل کانفرنس کی دین قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی صدر نے کہا کہ یہ پارٹی کبھی اس دیرینہ تنازعہ کے حل کے بارے میں سنجیدہ نہیں تھی۔فورسز کی تعداد میں کمی کرنے کے حالیہ اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت کی داخلہ اور دفاعی وزارت میں ابھی اس معاملے پر انتشار ہے جبکہ مرکزی اور ریاستی سرکار میں بھی تضاد ہے. Read the rest of this entry »


وادی چناب میں معدنی ذخائر کی دریافت

جنوری 16, 2011

جموں کشمیر میں ماہرین ارضیات نے انکشاف کیا ہے کہ ریاست میں معدنی ذخائر کی اس قدر بہتات ہے کہ اگران کو بروئے کارلایاجائے تو ریاست اقتصادی طور خود کفیل بن سکتی ہے۔ ان ماہرین نے تاہم کہاہے کہ سرکاری طور پر معدنیات کی نشاندہی کے لئے اگر چہ کچھ حد تک کام کیا گیا ہے لیکن ان کو بروئے کار لانے کے لئے کوئی بھی اقدام نہیں اٹھایاگیا ہے جسکی وجہ سے بیش قیمت معدنیات کی موجودگی بے معنی ہوکر رہ گیاہے ۔ ریاست کے جن خطوں کو اللہ تعالی نے معدنی دولت سے مالا مال کیا ہے ان میں چناب وادی سرفہرست ہے لیکن پوری ریاست بالعموم اور چناب وادی کے لوگ اس سے بالخصوص لاعلم ہیں۔ماہرین ارضیات نے چناب وادی میں معدنیات کے زیر زمین بھاری ذخائردریافت کئے ہیں۔اس خطے میں گرینائٹ،جپسم،ماربل،گلینا،کارٹز کرسٹل،گارنٹ،ٹارملین،چونے کا پتھراور گرینائٹ کے دیگر اقسام ساتھ ساتھ قیمتی نیلم(saphire ) وغیرہ کافی مقدار میں پایا جاتا ہے ۔جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ اگران معدنیات کو نکالا جائے گا تو نہ صرف چناب خطہ بلکہ جموں و کشمیر ایک خوشحال ریاست بن سکتی ہے۔ Read the rest of this entry »


شمالی ہند کو جگ مگ کرنے والی ریاست گھپ اندھیرے میں

جنوری 6, 2011

جموں کشمیر ان دنوں جہاں شدید سردی کی لپیٹ میں ہے وہاں توانائی کے بحران نے بھی شدت اختیار کرلی ہے۔گاؤں تو گاؤں شہری علاقوں میں گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے۔اگرچہ جموں کشمیر پانی کے وسائل سے مالا مال ہے ،جو ماہرین کے مطابق20ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان وسائل کو ایک تو پوری طرح استعمال نہیں کیا جارہا ہے اور جو محدود پیمانے پر پن بجلی پیدا ہوتی ہے اس کا بیشتر حصہ ایک متنازعہ معاہدے کے تحت بیرون جموں کشمیر واقع شمالی ہندوستان کے بجلی گرڈ کو سپلائی کیا جاتا ہے،جہاں سے یہ کئی ریاستوں کو فراہم ہوتی ہے بلکہ اس پر طرہ یہ کہ یہی بجلی واپس جموں کشمیر کو مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہے۔اس معاملے کو لیکر عوام میں ناراضگی روز بروز بڑھ رہی ہے ۔یہاں تک کہ علاحدگی پسند اور ہند نواز دونوں سیاسی کیمپوں سے وابستہ سیاسی لیڈر اس عوامی غصے کو نظر انداز نہیں کرسکتے اور وقتا فوقتاً اپنے بیانوں سے متعلق معاہدوں پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: