متنوع میوہ صنعت

ستمبر 25, 2013

Appleوادی کشمیر زمانہ قدیم سے ہی مختلف پھلوں اور میووں کیلئے مشہور رہی ہے۔ اس سلسلے میں یہاں الگ الگ ادوار میں مانگ کے حساب سے ان کی کاشت ہوا کرتی تھی۔ پچھلی چند دہائیوں سے سیب کی مانگ اتنی بڑھ گئی کہ کسانوں نے زرعی زمین پر بھی سیب کے باغات بنوائے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اور میووں اور پھلوں کی طرف سے منہ موڑ لیا اور میوہ باغ کا تصور بس سیب کے باغات تک محدود کیا۔حالانکہ وادی کا موسم معتدل ہونے کی وجہ سے یہاں کافی زیادہ رس دار اور قیمتی پھلوں اور میووں کے اقسام اگانے کی کافی گنجائش ہے جس سے ریاستی معیشت کے ساتھ ساتھ لوگوں کا معیار زندگی بہتر کرنے میں بہت زیادہ مدد مل سکتی ہے۔یہاں اگرچہ زمینی وسائل محدود ہیں لیکن اس کے باوجود مٹی کے اتنے اقسام پائے جاتے ہیں کہ مختلف علاقوں میں درجنوں پھل اور میوے وافر مقدار میں اگائے جاسکتے ہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ یہاں کا کسان صرف ایک ہی ڈگر پر چلنے کی دھن میں مگن ہے۔ Read the rest of this entry »

Advertisements

سکڑتی زرعی زمین اور سمٹتی میوہ صنعت

ستمبر 12, 2013

Appleزمانہ قدیم سے ہی کشمیر اپنی میوہ صنعت کیلئے مشہور ہے۔یہاں کا معتدل آب وہواکئی طرح کے میٹھے اور رس دار پھل اور میوہ جات اگانے کیلئے کافی ساز گارہے۔ ساری دنیا میں کشمیری سیب، اخروٹ اور بادام مشہور ہیں۔ پہلے جہاں کشمیر بھارت کی دیگر ریاستوں کو سیب اور دوسرے میوے برآمد کیا کرتا تھا وہیں اس کا دائرہ وسیع ہوکر بنگلہ دیش تک پھیل گیا اور سیب اتارنے کے موسم میں کئی ایک بنگلہ دیشی تاجروں کو سوپور اور شوپیان کی منڈیوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔نیپال اور پاکستان جیسے پڑوسی ممالک مین بھی یہاں کے سیب بر آمد کئے جاتے ہیں۔ سیب کی اس مانگ کو دیکھتے ہوئے اب ہماری ریاست خاص کر وادی کشمیر میں زمینداروں نے دھان کیلئے مخصوص کھیتوں کو بھی سیبوں کے باغات میں تبدیل کرنا شروع کردیا ہے اور اب تک ایک اچھا خاصا حصہ اس دیکھا دیکھی کی نذر ہوچکا ہے۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: