حکومت سازی۔۔۔۔پارٹی کارکنوں کیلئے گلے کی ہڈی،جو نگلتے بنے نہ اُگلتے

دسمبر 27, 2014

انتخابات کے نتائج منظر عام پر آنے کے بعدحکومت سازی کے لئے کشمیر سے لیکر دلی تک جہاں سیاسی جماعتوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں ،وہیں وادی میں دو بڑی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ورکربھی بے چینی کے عالم میں ہیں۔اِن دونوں جماعتوں کے ورکروں کا کہنا ہے کہ حکومت سازی بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے لیکن اُن کے جذبات کو بھی مدنظر رکھنا لازم و ملزوم ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک ورکر ہی کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کی بنیاد ہوتا ہے۔ Read the rest of this entry »


کشمیر۔۔۔23دسمبر پر نظریں مرکوز

دسمبر 15, 2014

وادی میں اسمبلی انتخابات کے چار مرحلے اختتام کو پہنچنے کے بعد اب نہ صرف حکمران جماعت نیشنل کانفرنس بلکہ اسکی اتحادی کانگریس پارٹی اور اپوزیشن پی ڈی پی سمیت پیپلز کانفرنس اور دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی نظریں 23دسمبر پر مرکوز ہوگئی ہیں۔الیکشن کے مرحلے وادی میں مجموعی طور پر پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوئے اورتمام الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو 13 ووٹ شماری مراکزتک پہنچا دیا گیا ہے جہاں پولیس کے ساتھ ساتھ نیم فوجی اہلکاروں نے تین دائروں والی سکیورٹی کے تحت ان مراکز کے گردونواح کو مکمل طور سیل کردیا ہے۔ Read the rest of this entry »


وادی میں پولنگ کا آخری مرحلہ آج

دسمبر 13, 2014

اسمبلی انتخابات کے چوتھے مرحلہ میںآج ریاست کی18نشستوں کیلئے ووٹ ڈالے جارہے ہیں جن میں وادی کی16اور جموں کی2نشستیں شامل ہیں۔ان نشستوں پر182امیدوار انتخاب لڑرہے ہیں،جن میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ،چار وزراء اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سرپرست اعلیٰ مفتی محمد سعید شامل ہیں۔آج سرینگر کی آٹھ،شوپیان کی دو اور اننت ناگ کی چھ نشستوں پر پولنگ ہوگی، اسکے علاوہ جموں میں بھی دو نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ انتظامیہ نے پْرامن انتخابات منعقد کرانے کی غرض سے 20ہزار نیم فوجی اہلکار تعینات کئے ہیں جبکہ سرینگر میں موبائل ووٹنگ پرروک لگانے کیلئے تمام آٹھ نشستوں کے لئے 8اسکواڈ تشکیل دئے گئے ہیں۔ Read the rest of this entry »


انتخابی حلقہ حبہ کدل پر سب کی نظریں مرکوز

دسمبر 13, 2014

اسمبلی انتخابات کے چوتھے مرحلہ کے دوران آج سرینگر ضلع کے حبہ کدل حلقہ انتخاب میں اگر چہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے امیدوار میدان میں ہیں تاہم اگر بائیکاٹ کی روایت برقرار رہی تو اس نشست سے بی جے پی کی جیت تقریباً طے ہے۔ حبہ کد ل ایک ایسا انتخابی حلقہ ہے جہاں1962سے پانچ مرتبہ پنڈت امیدواروں کا قبضہ رہا ہے۔1996کے بعد جتنے بھی الیکشن ہوئے ان میں شہر میں اگر سب سے کم ووٹوں کی شرح کسی حلقے میں ہوئی تو وہ حبہ کدل ہی رہا ہے، اوسطاً اس حلقے میں پانچ ہزار سے زائد ووٹ نہیں پڑے ہیں۔ Read the rest of this entry »


انتخابی جھنڈیاں….کہیں آسمانوں پر کہیں گُورے خانوں میں

دسمبر 13, 2014

1ریاستی اسمبلی انتخابات میں مختلف حریف سیاسی پارٹیوں کی طرف سے نصب کی گئی جھنڈیوں نے ماحول کو جہاں طرح طرح کے رنگوں سے آراستہ کیا ہے وہیں پت جھڑ کے پتوں کی طرح بکھرنے کے بعد یہ جھنڈیاں اور بینر شہرودیہات کے گورے خانوں(کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں) کو بھی رنگین بنادیتے ہیں۔ہر صبح جب میونسپلٹی کے اہلکار شہر کے مختلف علاقوں سے کوڑا کرکٹ جمع کرتے ہیں تو اُس میں ایک خوبصورت عنصر کا اضافہ پاتے ہیں۔ہر نوع، سائز اور رنگ کی چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں اگرچہ ہلکی پھلکی ہوتی ہیں لیکن غلاظت کے ڈھیروں کو اس قدر رنگینی بخشتی ہیں کہ غلاظت سے ہونے والی کراہت میں بھی کمی محسوس ہوتی ہے۔ Read the rest of this entry »


کشمیر۔۔۔چوتھے مرحلے کی انتخابی مہم اختتام پذیر

دسمبر 12, 2014

ریاست میں اسمبلی الیکشن کے چوتھے مرحلے کی انتخابی مہم اختتام پذیر ہوئی۔یہ مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کی کرسی کیلئے ریاست کی دو بڑی حریف سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوارکا فیصلہ اسی مرحلے میں ہورہا ہی۔اس مرحلے کے دوران18انتخابی حلقوں میں 182امیدوار اتوار کو انتخاب لڑرہے ہیں،جن میں عمرعبداللہ،مفتی محمدسعید، الطاف بخاری ،علی محمد ساگر ،پیرزادہ محمد سعید،غلام احمد میر اورمبارک گل قابل ذکر ہیں۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سونہ وار جبکہ پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید اسلام آباد(اننت ناگ) سے سیاسی قسمت آزمائیں گے۔ Read the rest of this entry »


دوست کی یاد نے ووٹ ڈالنے سے روکا

دسمبر 10, 2014
سرینگر جموں شاہراہ سے متصل کدلہ پانپور کے پولنگ اسٹیشن نمبر1اور2 جس اسکولی عمارت میں قائم کئے گئے تھے، اْس کی ایک دیوار پر ’’آزادی اپنی منزل ہے ، Election Boycott اورJihad the only solution‘‘جیسے نعرے درج تھے۔ان پولنگ اسٹیشنوں پرجہاں دن کے تین بجے تک537ووٹوں میں سی97 ووٹ ڈالے گئے تھے وہیں رائے دہندگان کیلئے یہ نعرے بھی خاصی دلچسپی کا باعث بنے۔ایک نوجوان ووٹر منظور احمد جو گھر سے ووٹ ڈالنے کیلئے نکلا تھا،اْس نے دیوار کی طرف دیکھ کر ہی اپنا ارادہ بدل دیا۔یہ پوچھنے پر کہ اْس نے اپنا ارادہ کیوں بدلا ؟منظورنے کہا’’ یقیناً میں ووٹ ڈالنے ہی آیا تھا لیکن ان نعروں نے میرے ضمیر کو جنجھوڑکے رکھ دیا‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم آزادی کے خلاف ووٹ نہیں ڈال رہے ہیں بلکہ روزمرہ کے مسائل مجبور کررہے ہیں‘‘۔منظور کے مطابق ان نعروں نے اُسے اپنے ایک اْس دوست کی یاد دلائی جو2010کی ایجی ٹیشن کے دوران جاں بحق ہوگیا تھا۔اس نوجوان کے خیالات کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے کئی نوجوانوں اور بزرگوں پر مشتمل ایک گروپ نے الیکشن کو مجبوری قرار دیتے ہوئے کہا ’’ہم نے اپنے عزیز و اقارب تحریک آزادی میں کھوئے ہیں،ہم اُن کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟‘‘۔ ایک بزرگ علی محمد نے کہا’’یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم ووٹ ڈال رہے ہیں لیکن اس سکول کی دیوار پر درج نعرے شائد اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم آزادی کے خلاف نہیں ہیں‘‘۔

 


%d bloggers like this: