پشتینی باشندگی اسناد تنازعہ،حکومت پیچھے ہٹ گئی

مئی 5, 2015

Altaf Bukhariجموں و کشمیر میں پشتینی باشندگی اسناد (سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ ) اسکولوں میں جاری کرنے کے فیصلے پر تنازعہ کھڑا ہونے کے پیش نظر حکومت نے یہ عمل روک دینے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مستقل سکونت سے متعلق اسناد اجراء کرنے کا عمل قانونی طریقہ کارپرکیا جائے گا۔واضح رہے کہ ریاست میں قائم پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط سرکار کے وزیر مملکت برائے مال و آر اینڈ بی سنیل کمار شرما نے گزشتہ ماہ ایک تقریب کے دوران اعلان کیا کہ حکومت نے مستقل سکونت سے متعلق سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ(پی آر سی) اسکولوں کی سطح پر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پروجیکٹ کا آغاز باضابطہ کشتواڑ ضلع سے کیا گیا جہاں 17 اسکولوں کی طرف سے 500 کے قریب اسناد جاری کی گئیں۔شرما نے یہ بھی بتایا کہ بہت جلد یہ پروگرام تمام سرکاری اسکولوں میں روبہ عمل لایا جائے گااور اس کا مقصد مذکورہ اسناد کے حصول کے سلسلے میں بچوں کا درپیش مشکلات کا ازالہ کرنا ہے۔ تاہم وزیرموصوف سنیل شرما جن کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے، کے اس بیان پر مزاحتمی تنظیموں کے ساتھ ساتھ ہند نواز سیاسی پارٹیوں اور آزاد ممبران اسمبلی نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر ریاستی شہریوں کو جموں کشمیر کی سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ فراہم کرنے کی ایک سازش سے تعبیر کیا۔ Read the rest of this entry »

Advertisements

%d bloggers like this: