بے نام قبروں کی گونج

اگست 21, 2011

ریاستی انسانی حقوق کمیشن کا اعتراف

 جموں کشمیر میں گذشتہ 21سالہ عسکری تحریک کے دوران پہلی بارانسانی حقوق کے ریاستی کمیشن نے وادی میں اجتماعی قبروں کا اعتراف کیا ہے ۔کمیشن کے مطابق وادی کے 38 مقامات پر 2156لاشیں اجتماعی قبروں میں دفن ہیں۔ کمیشن نے ابھی تک حکومت کو یہ رپورٹ پیش نہیں کی ہے تاہم کمیشن ذرائع کے مطابق وہ اس سلسلے میں حکومت کو جوابدہ بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ جموں کشمیر میں ان بے نام قبروں کی دریافت کا سلسلہ28مارچ 2008کو شروع ہو ا تھا جب لاپتہ افراد کی تنظیم اے پی ڈی پی نے کشمیر کے شمالی علاقوں کی سروے کے دوران ضلع بارہ مولہ کے 18 دیہات سے940 بے نام قبریں دریافت کی تھیں جن میں اجتماعی قبریں بھی شامل تھیں۔بشری حقوق کیلئے کام کرنے والے مختلف اداروں پر مشتمل ’ انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل آن ہیومن رائٹس و جسٹس ‘نے 2009میں گمنام قبروں کی دریافت پر ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے مزید بے نام قبریں ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ یاد رہے کہ 27دسمبر 2009کو مذکورہ ادارے نے سرینگر میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں 2ہزار7سواجتماعی اوربے نام قبروں میں2ہزار 943سے زائد افراد دفن ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ Read the rest of this entry »

Advertisements

اردو ہے جس کا نام وہ زیرِ عتاب ہے

اگست 19, 2011

ریاست جموں کشمیر بالخصوص وادی میں اردو کے تئیں جو ’’والہانہ‘‘ لگاؤ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آئے روز وادی میں مختلف اشتہارات کے ذریعے اردو کا گلا گھونٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ جسے موقع ملتا ہے ،بس اُردوکی ’’خدمت‘‘کرنے کے زعم یا فریب میں اس شیریں زبان کا وہ حال کرتا ہے کہ اُردو شناس لوگوں کے دلوں پر آرے چلتے ہیں۔ حال ہی میں فوج نے کے پی ایل نامی ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا تھا۔اس کیلئے متعدد مقامات پر تشہیری بورڈ (ہوڈنگ)آویزاں کئے گئے تھے جن پرعبارت یوں درج تھی ’’کرکٹ کا مھاہ مقابلہ پھلی بار،قابل ترین کھلاڑیوں کو معاروف کرکٹ اکادمی میں داخلہ،نقد انامات وغیرہ وغیرہ‘‘۔دنیائے کرکٹ میں بھلے ہی ٹونٹی ٹونٹی نے یک روزہ میچوں کا مزاج ہی بدل دیا ہو لیکن اس بات سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کے پی ایل یعنی کشمیر پریمئر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کے نام پر اردو کے ساتھ ٹونٹی ٹونٹی ضرورکھیلا گیا۔ Read the rest of this entry »


ڈوڈہ کے صحت افزاءمقامات سیاحتی نقشے سے اوجھل

اگست 12, 2011

لال درمن اور ڈل درمن کا شمار ڈوڈہ کے مشہور سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پریہ صحت افزاء مقامات موجودہ حکومت ہی نہیں بلکہ سابق حکومتوں میں بھی عدم توجہی کا شکار رہے ہیں۔لال درمن ڈوڈہ سے تقریباً15سے 20کلومیٹر کی دوری پر سطح سمندر سے تقریباً3ہزارمیٹر کی بلندی پر واقع ایک ایسا صحت افزاء مقام ہے جہاں فطرت تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔سبزے کا مخملی فرش ،مہکتے پھولوں کے تختے،دیودار کی ٹھنڈی ٹھنڈی مسحور کن فضائیں یہاں سیاحوں کو مدہوش کرکے رکھ دیتی ہیں۔ Read the rest of this entry »


’2002سے حراستی ہلاکتوں اور فرضی جھڑپوں کے173واقعات ‘

اگست 8, 2011

ریاستی حقوق کمیشن کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر میں گذشتہ 8سال کے دوران حراستی ہلاکتوں اور فرضی جھڑپوں کے 173واقعات رونما ہوئے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق صرف گذشتہ3برسوں کے دوران فرضی جھڑپوں کے14واقعات منظر عام پر آئے ہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں نومبر2010سے اب تک 173افراد کو دوران حراست قتل کر دیا گیا ہے ۔ Read the rest of this entry »


ڈوڈہ:فوج زرعی اراضی پر قابض،کرایہ ادا کرنے سے قاصر

اگست 8, 2011

ڈوڈہ ضلع کی میونسپل حدود میں18سال قبل فوج نے زرعی اراضی کے47کنال رقبہ پر قبضہ جمالیا ۔دس سال بعد زمین مالکان کی انتھک کوششیں رنگ لائیں اور انہیں معاوضہ ادا کیا گیا تاہم گذشتہ سال سے نامعلوم وجوہات کی بناء پر فوج کرایہ ادا کرنے سے قاصر ہے۔محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ 16فروری2008سے زمین مالکان کو ایس آر او104 بتاریخ 11 اپریل 2008 کے مطابق معاوضہ فراہم کیا جارہا ہے جبکہ ایس آر او191بتاریخ26جون2008کے تحت غیر زرعی اراضی کے مالکان کو ہر 3ماہ جبکہ زرعی اراضی کے مالکان کو ہر6 ماہ بعد معاوضہ ادا کیا جاتاہے۔ Read the rest of this entry »


گنپت پل ڈوڈہ:سرکار کے دعوؤں پر سوالیہ

اگست 5, 2011

ریاستی سرکار تعمیراتی کام سریع الرفتار بنیادوں پر مکمل کرنے کا بھلے ہی ڈھنڈورہ پیٹے لیکن دریائے چناب پرگذشتہ 6سال سے تعمیر ہورہے پل نے سرکارکے ان دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔263میٹر طویل اس پل پر 2006میں کام شروع کیا گیا اور اہلیان چناب کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ فروری2009تک اسے مکمل کیا جائے گاتاہم2011بھی اب تقریباً ختم ہونے کو آیا ہے لیکن پل ہنوز سرکار کی عدم توجہی اور مختلف سرکاری و غیر سرکاری ایجنسیوں کی رسہ کشی کا شکار ہے۔جس کی وجہ سے ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع کی آبادی شدید مسائل سے دو چار ہے۔چکی کے دو پاٹوں کے بیچ پس رہے اہلیان چناب اس پل کے مکمل ہونے کی آس لگائے بیٹھے ہیں ۔ Read the rest of this entry »


%d bloggers like this: