علاحدگی پسندوں نے ناکام کوشش سے تعبیر کیا
بھارت کی وزارت داخلہ نے 2010میں مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لئینامزد کئے گئے رابطہ کاروں کی رپورٹ کو امور داخلہ کی وزارت کی ویب سائٹ (www.mha.nic.in)پرجاری کیا ہے۔مذاکرات کاروں نے اپنی رپورٹ میں ریاست کے سابق وزیراعلیٰ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کو برخاست کرنے اور انکی گرفتاری کو’آئینی طور متنازعہ‘ قرار دیتے ہوئے جموں کشمیر میں 1953سے قبل کی پوزیشن کی مکمل بحالی کو یہ کہتے ہوئے خارج از امکان قرار د یا ہے کہ’’گھڑی کی سوئیوں کو پیچھے کی طرف موڑا نہیں جاسکتا اور اگر ایسا کیا گیا توحکومت ہند او ر جموں کشمیر کے تعلقات میں ایک آئینی خلاء پیدا ہونے کا احتمال ہے‘‘۔ Read the rest of this entry »
رابطہ کاروں کی رپورٹ منظرعام پر
May 24, 2012حریت کا اندرونی خلفشار بیچ راستے میں
May 21, 2012
جموں کشمیر کے علاحدگی پسند خیمے میں پروفیسر عبدالغنی بٹ کے حالیہ بیان کے بعد انتشاری کیفیت روز افزوں تقویت پارہی ہے اور حریت کانفرنس(میرواعظ گروپ )کے کئی لیڈران آپس میں دست و گریباں ہیں۔واضح رہے کہ سینئر حریت لیڈر پروفیسر عبدالغنی بٹ نے اپنے آبائی گاؤں بوٹینگو سوپور میں ایک تقریب پر کہا تھا کہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادیں اب فرسودہ ہوچکی ہیں لہٰذا مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے علاحدگی پسندوں اور ہندنواز گروپوں کو مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔ حریت کانفرنس کی جنرل کونسل کے تقریباًسبھی لیڈران نے پروفیسر کے بیان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اورپروفیسر کی اپنی پارٹی’ مسلم کانفرنس‘ کے جنرل سیکریٹری شبیر احمد ڈار نے اپنے اخباری بیان میں اعلان کیا کہ انہوں نے پروفیسر کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کرلیا تاہم حریت کانفرنس نے انکے خلاف کوئی’ آئینی‘ کارروائی کرنے سے اجتناب کیا جس کی وجہ سے حریت کی دیگر اکائیوں خصوصاً نیشنل فرنٹ اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے پروفیسر بٹ کے خلاف کارروائی کا پرزور مطالبہ کیا۔ Read the rest of this entry »
ایک اور گھر میں ماتم،ایک اور طالب علم جاں بحق
May 18, 2012سال 2010کی احتجاجی لہر کے دوران ہوئی ہلاکتوں میں ایک طویل عرصے کے بعدجمعہ کوایک اور نوجوان کا اضافہ ہوگیا۔سجاد احمد نامی طالب علم اہلکاروں کی گولیوں اور آنسو گیس کے گولوں سے شدید زخمی ہوا تھا۔سجاد کا تعلق شمالی کشمیر کے پٹن قصبے تھا اور 7ویں جماعت کا طالب علم تھا۔اسپتال کی طویل مسافت طے کرنے کے بعد سجادبالآخرجمعرات کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اس طرح ایجی ٹیشن کے دوران فورسز فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد اب123تک پہنچ گئی۔ Read the rest of this entry »
ڈرگ پالیسی عوام دوست،شرما کی وضاحت
February 21, 2012
جموں کشمیر کے وزیر صحت نے ڈرگ پالیسی کو ریاستی عوام کیلئے سودمند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مفاد پرست عناصر بلاوجہ لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ اس پالیسی کو3سال کی مشاورت کے بعد منظر عام پر لایا گیا۔اس دوران انہوں نے پرائیویٹ طبی اداروں کیلئے چھوٹے بڑے آپریشن عمل میں لانے کیلئے ریٹ لسٹ بھی جاری کیا اور کہا کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سنگین کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ وزیر صحت سرینگر میں منگلوار کو شمالی ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے ذریعے ٹی بی پر قابو پانے کے حوالے سے اٹھائے جا رہے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعدایک ہنگامی نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ Read the rest of this entry »
افسپا۔۔۔قتل عام کا لائسنس کب منسوخ ہوگا؟
January 28, 2012
سپریم کورٹ کی طرف سے فوج کو سرزنش کرنے کے بعد ریاست میں افسپا کو لیکر بحث میں پھر سے شدت آنے کی توقع ہے۔ اس حوالے سے ریاستی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات سے ریاست میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کے جواز پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پتھری بل فرضی جھڑپ میں فوج کے رول اور پھر عدالتی احکامات کی حکم عدولی کو لیکر فوج کو لتاڑتے ہوئے کہا ہے کہ نہ وہ خود کچھ کرتی ہے اور نہ دوسروں کو کچھ کرنے دیتی ہے۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے بھی اس مسئلے کو اٹھایا ہے تو ریاستی سرکار کو اس ضمن میں اقدامات اٹھانے میں کوئی پس و پیش نہیں ہونا چاہئے۔ کچھ عرصے سے عمر عبداللہ نے افسپا کے سلسلے میں یہ رخ اپنایا ہے کہ اب اس کڑے اور بے رحم قانون کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ حالانکہ بے گناہ انسانوں کا قتل عام کسی بھی صورت میں صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ریاست کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں افسپا جیسے کالے قوانین کو نافذ کرکے مسلمانوں کے قتل عام کی راہیں کھول دی گئیں اور پھر فوج نے بھی اس کا بھرپور استعمال کیا اور سینکڑوں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان کرتوتوں کے خلاف اگر کسی نے آواز اٹھائی بھی تو اسے مذکورہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے خاموش کرایا گیا۔ کنن پوش پورہ جیسا شیطانی کارنامہ انجام دینے کے باوجود وہ لوگ آزاد گھوم رہے ہیں جو اس واقعے میں ملوث تھے اور اس کا جواز بھی افسپا جیسے مکروہ قانون میں ڈھونڈ نکالا گیا۔ Read the rest of this entry »
سرمائی بحران کے سامنے حکومت بے بس
January 18, 2012
یہ پہلی بار نہیں کہ وادی میں موسم سرما نے اپنے کڑے تیور دکھائے ہوں بلکہ ہر برس کی طرح امسال بھی اپنے ہی وقت پر دستک دی جو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ۔رواں جاڑے کو تاہم جموں کشمیر کی تاریخ میں اسلئے ہمیشہ یادکیا جائے گا کہ ابھی برفباری شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ وادی میں اندھیرا چھاگیا اورضروری اشیاء ناپید ہوگئے ۔ وادی کو بیرونی دنیا سے ملانے والی واحد شاہراہ ’ سرینگر جموں شاہراہ ‘بند ہوگئی اور یوں بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ کٹ گیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ کو کشمیری عوام کیلئے’ رگِ حیات‘ کی اہمیت حاصل ہے ۔ اس ساری صورتحال نے صوبائی انتظامیہ کے دعوؤں کی پول کھول دی کیونکہ ہر سال کی طرح جاڑے سے قبل نیوزکانفرنسوں اور بیانات میں اس عزم کو دہرایا گیاتھا کہ ’ ضروری اشیاء کا وافر اسٹاک موجود ہے‘۔ Read the rest of this entry »
پرامن سال کا نعرہ کھوکھلا
January 2, 2012حقوق البشر کی تنظیم نے حقائق منظر عام پر لائے
جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کیلئے سرگرم ایک معروف تنظیم جموں کشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی نے سال 2011کے دوران ہوئی ہلاکتوں پر ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2011کو پرامن سال تعبیر کرنے کا جو سرکاری بیان منظر عام پر آیا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق’’سال2011 میں 6خواتین ،11طالب علم ،100جنگجو،71 فورسز اہلکار،6عدم شناخت افراداور8سیاسی لیڈر وکارکنان سمیت 233افراد مارے گئے جبکہ مبینہ حراستی وفرضی جھڑپوں کے دوران 7افراد کو فورسز نے ابدی نیند سلا دیا ‘‘۔واضح رہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے سال2011کو گذشتہ برسوں کے مقابلے میں پرامن سال قرار دیا ہے ۔ Read the rest of this entry »
سال 2011: شیرین وتلخ یادوں کے ساتھ رخصت
December 31, 2011
سال2011 ۱پنی تمام شیرین وتلخ یادیں چھوڑ کر الوداع کہہ گیا۔ اس سال کا اگراجمالی جائزہ لیا جائے تو یہ سال بھی جموں کشمیر کے حوالے سے کچھ زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔2010 کے غموں اور رنجشوں کو بھلا کر2011 سے نئی امیدیں باندھ کر اس کا خیر مقدم کے ساتھ آغاز کیا گیا تھا لیکن رخصت ہونے و الے اس سال نے بھی ان مایوسیوں سے عوام کا دامن بھردیا ۔روٹی ، کپڑا اورمکان فراہم کرنے والے حکمرانوں کے دعوے حسب سابقہ سراب ثابت ہوئے۔ریاست میں سینکڑوں افراد نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا رہے۔سال2010کے مقابلے میں اگرچہ 2011 قدرے پر امن رہا تاہم ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تشدد کی مختلف وارداتوں کے دوران 179 ہلاکتیں ہوئیں جن میں97 جنگجو،5 خواتین ،8 معصوم بچے، 47 عام شہری اور 35 فورسز اہلکار شامل ہیں۔ اس سال جمعیت اہلحدیث کے صدر مولانا شوکت احمد شاہ کا قتل ،حزب اقتدار کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس کے کارکن سید محمد یوسف کی کرائم برانچ میں ہوئی پر اسرار ہلاکت ، پنچایتی انتخابات میں لوگوں کی شمولیت ،وادی میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑاریل حادثہ، بغیر ڈرائیور ریل کا 40 کلومیٹر مسافت طے کرنااورریاست کے ایک سینئر وزیر پر حملہ جیسے کئی ہنگامہ خیز واقعات رونما ہوئے۔ Read the rest of this entry »
مدارس کی مالی معاونت ،’اس حمام میں سب ننگے ‘
December 20, 2011ریاست میں کئی روز سے مدارس کو مرکزی سرکار کی جانب سے فراہم کئے گئے مالی امداد کی باتیں ہورہی ہیں اور اس سے دینی مدارس اور اداروں سے وابستہ اشخاص پر انگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں۔حد تو یہ ہے کہ اب کچھ ادارے باضابطہ طور پر تردیدی بیانات جاری کرنے لگے ہیں اور مالی امدادحاصل کرنے کی نفی کررہے ہیں۔ادھر مرکزی وزراء وقفے وقفے سے اس بات کو اُچھالنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتے جبکہ ریاستی سرکار کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کو انسانی وسائل کی ترقی کی مرکزی وزارت سے اس طرح کی امداد پہلی بارفراہم کی گئی جس کی منصفانہ تقسیم محکمہ تعلیم کو سونپی گئی۔ Read the rest of this entry »
ایجی ٹیشن2010: 13ماہ بعد ایک اور طالب علم جاں بحق
October 12, 2011سال 2010کی عوامی ایجی ٹیشن کے دوران ہوئی ہلاکتوں میں13ماہ کے طویل وقفے کے بعد بدھ دکوایک اور طالب علم کا اضافہ ہوگیا۔مظفر احمد میرنامی یہ طالب علم 13ستمبر 2010کو فورسز کی کارروائی کے دوران زخمی ہوا تھااورتادم مرگ سرینگر کے صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں زیر علاج رہا جہاں بالآخربدھ کی صبح داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔اس طرح گذشتہ برس کی ایجی ٹیشن کے دوران جاں بحق کئے گئے افراد کی تعداد122پہنچ گئی۔ Read the rest of this entry »
Posted by imtiyazkhan