جموں کشمیر کے وزیر صحت نے ڈرگ پالیسی کو ریاستی عوام کیلئے سودمند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مفاد پرست عناصر بلاوجہ لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ اس پالیسی کو3سال کی مشاورت کے بعد منظر عام پر لایا گیا۔اس دوران انہوں نے پرائیویٹ طبی اداروں کیلئے چھوٹے بڑے آپریشن عمل میں لانے کیلئے ریٹ لسٹ بھی جاری کیا اور کہا کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سنگین کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ وزیر صحت سرینگر میں منگلوار کو شمالی ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے ذریعے ٹی بی پر قابو پانے کے حوالے سے اٹھائے جا رہے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعدایک ہنگامی نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ Read the rest of this entry »
ڈرگ پالیسی عوام دوست،شرما کی وضاحت
February 21, 2012افسپا۔۔۔قتل عام کا لائسنس کب منسوخ ہوگا؟
January 28, 2012
سپریم کورٹ کی طرف سے فوج کو سرزنش کرنے کے بعد ریاست میں افسپا کو لیکر بحث میں پھر سے شدت آنے کی توقع ہے۔ اس حوالے سے ریاستی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات سے ریاست میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کے جواز پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پتھری بل فرضی جھڑپ میں فوج کے رول اور پھر عدالتی احکامات کی حکم عدولی کو لیکر فوج کو لتاڑتے ہوئے کہا ہے کہ نہ وہ خود کچھ کرتی ہے اور نہ دوسروں کو کچھ کرنے دیتی ہے۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے بھی اس مسئلے کو اٹھایا ہے تو ریاستی سرکار کو اس ضمن میں اقدامات اٹھانے میں کوئی پس و پیش نہیں ہونا چاہئے۔ کچھ عرصے سے عمر عبداللہ نے افسپا کے سلسلے میں یہ رخ اپنایا ہے کہ اب اس کڑے اور بے رحم قانون کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ حالانکہ بے گناہ انسانوں کا قتل عام کسی بھی صورت میں صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ریاست کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں افسپا جیسے کالے قوانین کو نافذ کرکے مسلمانوں کے قتل عام کی راہیں کھول دی گئیں اور پھر فوج نے بھی اس کا بھرپور استعمال کیا اور سینکڑوں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان کرتوتوں کے خلاف اگر کسی نے آواز اٹھائی بھی تو اسے مذکورہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے خاموش کرایا گیا۔ کنن پوش پورہ جیسا شیطانی کارنامہ انجام دینے کے باوجود وہ لوگ آزاد گھوم رہے ہیں جو اس واقعے میں ملوث تھے اور اس کا جواز بھی افسپا جیسے مکروہ قانون میں ڈھونڈ نکالا گیا۔ Read the rest of this entry »
سرمائی بحران کے سامنے حکومت بے بس
January 18, 2012
یہ پہلی بار نہیں کہ وادی میں موسم سرما نے اپنے کڑے تیور دکھائے ہوں بلکہ ہر برس کی طرح امسال بھی اپنے ہی وقت پر دستک دی جو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے ۔رواں جاڑے کو تاہم جموں کشمیر کی تاریخ میں اسلئے ہمیشہ یادکیا جائے گا کہ ابھی برفباری شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ وادی میں اندھیرا چھاگیا اورضروری اشیاء ناپید ہوگئے ۔ وادی کو بیرونی دنیا سے ملانے والی واحد شاہراہ ’ سرینگر جموں شاہراہ ‘بند ہوگئی اور یوں بیرونی دنیا سے زمینی رابطہ کٹ گیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ کو کشمیری عوام کیلئے’ رگِ حیات‘ کی اہمیت حاصل ہے ۔ اس ساری صورتحال نے صوبائی انتظامیہ کے دعوؤں کی پول کھول دی کیونکہ ہر سال کی طرح جاڑے سے قبل نیوزکانفرنسوں اور بیانات میں اس عزم کو دہرایا گیاتھا کہ ’ ضروری اشیاء کا وافر اسٹاک موجود ہے‘۔ Read the rest of this entry »
پرامن سال کا نعرہ کھوکھلا
January 2, 2012حقوق البشر کی تنظیم نے حقائق منظر عام پر لائے
جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کیلئے سرگرم ایک معروف تنظیم جموں کشمیر کولیشن آف سیول سوسائٹی نے سال 2011کے دوران ہوئی ہلاکتوں پر ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2011کو پرامن سال تعبیر کرنے کا جو سرکاری بیان منظر عام پر آیا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق’’سال2011 میں 6خواتین ،11طالب علم ،100جنگجو،71 فورسز اہلکار،6عدم شناخت افراداور8سیاسی لیڈر وکارکنان سمیت 233افراد مارے گئے جبکہ مبینہ حراستی وفرضی جھڑپوں کے دوران 7افراد کو فورسز نے ابدی نیند سلا دیا ‘‘۔واضح رہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے سال2011کو گذشتہ برسوں کے مقابلے میں پرامن سال قرار دیا ہے ۔ Read the rest of this entry »
سال 2011: شیرین وتلخ یادوں کے ساتھ رخصت
December 31, 2011
سال2011 ۱پنی تمام شیرین وتلخ یادیں چھوڑ کر الوداع کہہ گیا۔ اس سال کا اگراجمالی جائزہ لیا جائے تو یہ سال بھی جموں کشمیر کے حوالے سے کچھ زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔2010 کے غموں اور رنجشوں کو بھلا کر2011 سے نئی امیدیں باندھ کر اس کا خیر مقدم کے ساتھ آغاز کیا گیا تھا لیکن رخصت ہونے و الے اس سال نے بھی ان مایوسیوں سے عوام کا دامن بھردیا ۔روٹی ، کپڑا اورمکان فراہم کرنے والے حکمرانوں کے دعوے حسب سابقہ سراب ثابت ہوئے۔ریاست میں سینکڑوں افراد نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا رہے۔سال2010کے مقابلے میں اگرچہ 2011 قدرے پر امن رہا تاہم ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تشدد کی مختلف وارداتوں کے دوران 179 ہلاکتیں ہوئیں جن میں97 جنگجو،5 خواتین ،8 معصوم بچے، 47 عام شہری اور 35 فورسز اہلکار شامل ہیں۔ اس سال جمعیت اہلحدیث کے صدر مولانا شوکت احمد شاہ کا قتل ،حزب اقتدار کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس کے کارکن سید محمد یوسف کی کرائم برانچ میں ہوئی پر اسرار ہلاکت ، پنچایتی انتخابات میں لوگوں کی شمولیت ،وادی میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑاریل حادثہ، بغیر ڈرائیور ریل کا 40 کلومیٹر مسافت طے کرنااورریاست کے ایک سینئر وزیر پر حملہ جیسے کئی ہنگامہ خیز واقعات رونما ہوئے۔ Read the rest of this entry »
مدارس کی مالی معاونت ،’اس حمام میں سب ننگے ‘
December 20, 2011ریاست میں کئی روز سے مدارس کو مرکزی سرکار کی جانب سے فراہم کئے گئے مالی امداد کی باتیں ہورہی ہیں اور اس سے دینی مدارس اور اداروں سے وابستہ اشخاص پر انگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں۔حد تو یہ ہے کہ اب کچھ ادارے باضابطہ طور پر تردیدی بیانات جاری کرنے لگے ہیں اور مالی امدادحاصل کرنے کی نفی کررہے ہیں۔ادھر مرکزی وزراء وقفے وقفے سے اس بات کو اُچھالنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتے جبکہ ریاستی سرکار کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کو انسانی وسائل کی ترقی کی مرکزی وزارت سے اس طرح کی امداد پہلی بارفراہم کی گئی جس کی منصفانہ تقسیم محکمہ تعلیم کو سونپی گئی۔ Read the rest of this entry »
ایجی ٹیشن2010: 13ماہ بعد ایک اور طالب علم جاں بحق
October 12, 2011سال 2010کی عوامی ایجی ٹیشن کے دوران ہوئی ہلاکتوں میں13ماہ کے طویل وقفے کے بعد بدھ دکوایک اور طالب علم کا اضافہ ہوگیا۔مظفر احمد میرنامی یہ طالب علم 13ستمبر 2010کو فورسز کی کارروائی کے دوران زخمی ہوا تھااورتادم مرگ سرینگر کے صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں زیر علاج رہا جہاں بالآخربدھ کی صبح داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔اس طرح گذشتہ برس کی ایجی ٹیشن کے دوران جاں بحق کئے گئے افراد کی تعداد122پہنچ گئی۔ Read the rest of this entry »
اسمبلی کا مختصر اجلاس ختم
October 4, 2011
قانون ساز اسمبلی میں اجلاس کے آخری روز منگل کو نیشنل کانفرنس کارکن سید محمد یوسف کی مبینہ حراستی ہلاکت پرحزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے زوردار احتجاج، نعرے بازی اورہنگامہ آرائی کے بیچ ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی۔منگل کو قانون ساز اسمبلی کی کارروائی جونہی شروع ہوئی تو پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک بار پھرنیشنل کانفرنس کارکن سید محمد یوسف کی ہلاکت کا معاملہ اٹھایا۔ محبوبہ مفتی ایوان کی کارروائی کو التواء میں ڈال کر یوسف کی ہلاکت پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا ۔واضح رہے کہ اس سلسلے میں پی ڈی پی نے سپیکر کے پاس تازہ تحریک التواء پیش کی تھی۔ Read the rest of this entry »
پارلیمانی اقدار کی دھجیاں اڑادی گئیں
October 3, 2011
جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں سوموار کونیشنل کانفرنس کارکن کی مبینہ حراستی ہلاکت معاملہ پر اسپیکر اورپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر نائب صدر نے ایک دوسرے کے خلاف اس حد تک ناشائستہ الفاظ استعمال کئے اورپارلیمانی و اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائی گئیں کہ ایوان میں موجود حاضرین کے سر شرم سے جھک گئے ۔اس دوارن سپیکر نے پی ڈی پی کی تحریک التوا مسترد کرتے ہوئے اپنے برتاؤ پر معذرت طلب کی تاہم ایوان کی کارروائی مسلسل ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگئی اور مقررہ وقت سے قبل ہی دن بھر کیلئے برخاست کرنا پڑی۔ Read the rest of this entry »
جوڈیشل کمیشن کے سامنے حاضر ہونے کیلئےتیارہوں:عمرعبداللہ
October 3, 2011
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کارکن کی مبینہ حراستی ہلاکت کے سلسلے میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے الزامات کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی پر ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا اعلان کیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کارکن سید محمد یوسف کی ہلاکت کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن کے سامنے حاضر ہونے کیلئے تیار ہیں۔واضح رہے کہ محمد یوسف کی موت چند روز قبل پولیس حراست میں واقع ہوگئی تھی۔وزیر اعلیٰ نے اس ہلاکت کے بارے میں ان پر اور انکے والد ودیگر ساتھیوں پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکے بارے میں جوڈیشل انکوائری کا انتظار کیا جائے کیونکہ تحقیقات کے بعد ہی’’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی‘‘ہوجائے گا ۔ Read the rest of this entry »
Posted by imtiyazkhan